آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
پاکستان ایک مرتبہ پھر فیصلہ کن دوراہے پر کھڑا ہے۔11مئی کے انتخابات میں آئندہ منتخب ہونے والی قیادت کو کئی بنیادی فیصلے کرنا ہوں گے۔ اسے پاکستان کی دگرگوں معیشت کی بہتری سے لے کر امن و امان کے قیام اور افغانستان سے امریکی و نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد کے مراحل کی صورتحال پر گہری نظر رکھنا ہو گی ۔ہمارے پالیسی سازوں کو ملکی خارجہ پالیسی کے خدوخال ازسرنو وضع کرنے ہوں گے۔ کابل سے امریکی و نیٹو فورسز کی”رخصتی“ کے بعد وہاں افغان نمائندہ حکومت کا قیام ازحد ضروری ہے۔افغانستان میں ہمارے خلاف ریشہ دوانیوں پر صرف اسی صورت قابو پایا جا سکتا ہے کہ امریکی و نیٹو افواج کی واپسی کے بعد وہاں بھارتی اثرات بھی ختم ہوں۔ بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت ملک کے دیگر حصوں میں دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں کئی بار سابق وزیر داخلہ رحمن ملک اور حکومت اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔ اب نئے امریکی وزیر داخلہ چک ہیگل کے انکشاف کے بعد تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ بھارت پاکستان کو کمزور کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ اب جب کہ امریکہ افغانستان سے ناکام و نامراد واپس لوٹ رہا ہے حکومت پاکستان

کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور امریکی تحویل میں پاکستانیوں کی رہائی کا امریکہ سے باضابطہ طور پر مطالبہ کرنا چاہئے۔ میں نے اس جانب اپنی تحریروں میں پہلے بھی توجہ دلائی تھی کہ حکومت عافیہ صدیقی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت دوٹوک انداز میں عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے امریکی حکومت سے بات کرے۔30مارچ2013ء کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی قید میں10سال پورے ہو چکے ہیں انہیں 2003ء میں تین بچوں سمیت کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ بگرام جیل میں قیدی نمبر”650“ان کی شناخت تھی۔64ماہ بعد انہیں نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ ان کی وکیل صفائی کے مطابق عافیہ کے خلاف امریکی حکومت کا کیس انتہائی ناقص اور کمزور تھا۔ اگر حکمران تدبر و جرأت کا مظاہرہ کرتے تو عافیہ صدیقی کی رہائی یقینی تھی۔ مغربی میڈیا کے مطابق امریکی جیلوں میں مسلمان خواتین قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک ہوتا ہے۔ ان خواتین کی تذلیل، تشدد، جنسی زیادتیاں عام سی بات ہے۔ بگرام جیل میں مسلمان خواتین پر ہونے والے مظالم کا سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ابوغریب جیل میں مسلمان خواتین کے ساتھ ہونے والے بہیمانہ مظالم کے ثبوت انٹرنیٹ اور میڈیا پر آ چکے ہیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھی مسلسل تشدد، تذلیل کا نشانہ بنایا جا رہا ہے یہاں تک کہ اب ان سے قرآن مجید پڑھنے اور چادر اوڑھنے کی سہولت بھی واپس لے لی گئی ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا اگر صدر زرداری اور جنرل کیانی امریکی حکومت سے مطالبہ کریں تو انشاء اللہ عافیہ صدیقی تین دن میں پاکستان واپس آسکتی ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے فوری اور سنجیدہ اقدمات کریں۔ قوم پوچھتی ہے کہ ریمنڈڈیوس کو امریکہ پاکستان سے لے جا سکتا ہے تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ سے کیوں نہیں رہا کرایا جا سکتا۔ آئندہ انتخابات میں عوام اس پارٹی کو ووٹ دیں جو عافیہ رہائی کو اپنے منشور، بیانات کا حصہ بنائے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے مزید بتایا کہ چند ماہ سے عافیہ کا کوئی فون نہیں آیا۔ وہ زندہ بھی ہے کہ نہیں، ہمیں نہیں معلوم۔ عافیہ صدیقی کے اغوا اور مظالم کے ابتدائی 5 سالوں کا ذمہ دار جنرل مشرف اور امریکہ ہے اور بعد کے5 سالوں کی ذمہ داری پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں پر ہے۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ کئی مرتبہ حکومت کو عافیہ کو واپس لانے کا موقع ملا لیکن حکمرانوں نے عزت و آبرو پر ڈالر کو فوقیت دی۔ کونسا ایسا در ہے جس پر میں نے دستک نہیں دی۔ 10 سال بیت گئے لیکن آج بھی عافیہ ہماری اجتماعی بے حسی کا شکار ہے۔ آج ملک بھر میں افراتفری ہے،کسی کی جان ومال، عزت و آبرو محفوظ نہیں۔ شاید اس کی وجہ بھی ہمارے حکمرانوں کی بے حسی ہی ہے۔ جنرل (ر) مشرف نے عافیہ صدیقی اور سیکڑوں پاکستانیوں کو ڈالروں کے عوض بیچ کر ”قومی جرم“ کیا ہے۔ اکبر بگٹی اور لال مسجد، جامعہ حفصہ کی معصوم بچیوں کی شہادت کی ذمہ داری بھی ان پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے جرائم کی لمبی چارج شیٹ ہے۔ پاکستانی قوم آئندہ الیکشن میں اپنے ضمیر کی آواز کے ذریعے ان قومی مجرموں کا احتساب کرے گی۔ پاکستان کا آئندہ الیکشن امریکہ کے حمایتی اور امریکہ مخالف کیمپوں کے درمیان ہو گا۔ نائن الیون کے بعد ملک میں یہ تفریق بڑی واضح ہے۔ عرب بہار میں بھی امریکہ مخالف جماعتوں نے واضح کامیابی حاصل کی اور پاکستان میں بھی امریکہ مخالف جماعتوں کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ تاریخ پھر اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ صدر اوباما ”امریکی گورباچوف“ بن چکے ہیں۔ امریکیوں کو اندازہ ہوگیا ہے کہ دنیا کا جدید ترین اسلحہ اور ٹیکنالوجی ایمانی جذبوں کو شکست نہیں دے سکتے۔ برطانیہ اور روس کے بعد اب امریکہ بھی افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں اپنے زخم چاٹ کر حسرت کے ساتھ واپسی کی تیاری کر رہا ہے۔ صدر اوباما اور امریکی پالیسی سازوں کو خاصی تاخیر کے بعد سمجھ آئی ہے وہ اگر دس سال قبل وہ نوشتہ دیوار پڑھ لیتے تو دنیا کا امن تہہ و بالا نہ ہوتا لیکن اب پانی سر سے گزر چکا ہے اور اب اپنے کئے کی امریکہ کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی، جس کا ایک مظہر امریکہ کا دن بہ دن معاشی طور پر زوال کی طرف بڑھنا ہے۔
تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا ‘فسوں
ایسے دستور کو،صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا
آج بھی امریکہ اور یورپ مسلمانوں پر انتہا پسندی کا الزام لگا رہے ہیں جبکہ نائن الیون کے بعد وقت اور حالات نے ثابت کیا ہے کہ مسلمان ”انتہا پسند“ نہیں بلکہ مغربی اقوام ہی ہیں۔ آج امریکہ اور مغربی ممالک کو ناچار اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑا ہے کہ طاقت کا استعمال کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔ ہمیشہ امن، رواداری اور افہام و تفہیم سے ہی مسائل سے نپٹا جا سکتا ہے۔ اہل مغرب پر تو مسلمانوں کے بڑے احسانات ہیں۔ اہل مغرب کو تاریکیوں سے مسلمانوں نے نکالا اور انہیں تہذیب و تمدن کے راستے پر گامزن کیا۔
پیپلزپارٹی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت کے گزشتہ پانچ سال پاکستانی عوام پر بڑے بھاری گزرے ہیں۔ مہنگائی، لوڈشیڈنگ اور غربت نے عوام کو زندہ درگور کر دیا ہے۔ عوام تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارہ برائے پروگرام انسانی وسائل کی ترقی پر مبنی رپورٹ 2013ء میں انکشاف کیا ہے کہ پاکستان کی 49 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے جبکہ تعلیم و صحت کے لئے افریقی ملک کانگو سے بھی کم وسائل مختص کئے جاتے ہیں۔ عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے والے186ممالک کی فہرست میں ہم146ویں نمبر پر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کانگو صحت پر1.2فیصد اور تعلیم پر6.2فیصد،پاکستان صحت پر جی ڈی پی کا0.8فیصد اور تعلیم پر 1.8 فیصد خرچ کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے نے بتایا کہ پاکستانی نوجوان نسل کے لئے طویل المدتی پروگرام نہیں بنایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستانی سیاست صرف100 خاندانوں کی میراث بن کر رہ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ناروے عام آدمی کی زندگی بہتر بنانے میں پہلے نمبر پر رہا اور پاکستان 146ویں نمبر پر ہے جبکہ نائیجریا کا آخری نمبر ہے۔ پاکستان میں وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے امیر اور غریب کا فرق بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاکستانی عوام11مئی کے انتخابات کے ذریعے ملک میں ایک بڑی تبدیلی کے منتظر ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان امریکہ کے تسلط سے آزادی حاصل کرے۔ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی جلد وطن واپس آئے اور مہنگائی، بے روز گاری اور لوڈشیڈنگ کے عذاب سے ان کی جان چھوٹے۔ آئین کے آرٹیکل 63,62 پر پورا عملدرآمد ہوا تو آئندہ الیکشن کے نتیجے میں قوم کو دیانتدار، باکردار اور جرأت مند قیادت نصیب ہو سکے گی۔ پاکستانی عوام کو چاہئے کہ وہ آئندہ الیکشن میں امریکہ کی کاسہ لیسی کرنے والے افراد اور جماعتوں کو مسترد کر دیں اور محب وطن اور دیانتدار اور خدا ترس افراد اور جماعتوں کو اپنا ووٹ دیں تاکہ پاکستان ایک نئے انقلاب کی جانب رواں دواں ہوسکے۔