آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
آئندہ انتخابات، جنہیں نوجوانوں کے نام سے منسوب کیاجارہے،کا انعقاد نوجوانوں میں بے انتہا مایوسی کے ساتھ ہو گا۔ برٹش کونسل کی جانب سے نیکسٹ جنریشن گوز ٹو بیلٹ کے نام سے تیارکردہ رپورٹ کے اہم ترین نتائج یہی ہیں جس سے ملک کی سیاسی قیادت اور فیصلہ سازوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ برٹش کونسل کی رپورٹ قومی نمائندگی پر مبنی سروے کے ذریعے تیار کی گئی ہے جس میں18سال سے29سال تک کی عمر کے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی نوجوان ملک کے مستقبل کے حوالے سے پُرامید نہیں اور ملک کے سیاسی اداروں پارلیمینٹ، حکومت اور سیاسی جماعتوں پر ان کے اعتماد میں کمی واقع ہو رہی ہے تاہم ان کی حب الوطنی میں کمی نہیں آئی۔ ملک کیلئے نوجوانوں کا جذبہ سیاسی رہنماوٴں کا مرہون منت نہیں اور نہ ہی انہیں ملک کی تقدیر بدلنے کیلئے انہیں کوئی مواقع فراہم کئے جارہے ہیں۔ حالانکہ پاکستانی ووٹروں کی ایک تہائی تعداد نوجوانوں پر مشتمل ہے مگر ان کی بڑی تعداد سیاست اور سیاسی جماعتوں سے مایوس نظر آتی ہے۔ یہ صورتحال سیاستدانوں کیلئے چیلنج اور اچھا موقع بھی ہے کہ وہ مایوس نوجوان طبقے کی آواز بن کر ان کی ضروریات کو سمجھیں اور پورا کریں اور انہیں جمہوری عمل میں حصہ لینے کی طرف راغب کر کے اپنے ووٹ بنک میں اضافہ کریں۔ رپورٹ کے مطابق

نوجوان ووٹروں میں 10فیصد کا اضافہ انتخابات کے روز ڈھائی کروڑ اضافی ووٹروں کا سبب بنے گی اوریہ تعداد کئی انتخابی نشستوں کے نتائج پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ 2008ء کے انتخابات میں کم ووٹوں سے جیتی جانے والی نشستوں کی تعداد کافی زیادہ تھی اور نوجوان ووٹروں کی اضافی تعداد ان نشستوں پر فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لئے سیاسی جماعتوں کو نوجوان طبقے کو سیاسی عمل کی جانب راغب کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ سروے کے مطابق پاکستانی نوجوانوں کی کل گیارہ فیصد تعداد سیاسی جماعتوں کے حوالے سے مثبت رائے رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نوجوانوں کی مایوسی پاکستان میں آبادیاتی سانحے کی جانب گامزن ہونے کی نشاندہی کرتی ہے جس سے بچنے کیلئے تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ اور نوجوانوں کیلئے ترقی کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔94فیصد پاکستانی نوجوان سمجھتے ہیں کہ ملک غلط سمت کی جانب گامزن ہے جبکہ 2007ء میں شرح 50فیصد تھی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نوجوانوں کی مایوسی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے۔ نوجوانوں کے ملکی سیاست پر اعتماد میں کمی اور ملکی مستقبل کے حوالے سے مایوسی کی رپورٹ حیرت انگیز اس لئے ہے کہ نوجوان طبقہ قدرتی طور پرپُرامید ہوتا اور اس میں تبدیلی کا محرک بننے کی خواہش کا عنصر پایا جاتا ہے لہٰذا نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی تشویشناک ہے۔ پاکستان میں تمام عمر کے لوگوں میں اسی قسم کی رائے پائی جاتی ہے۔ انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹیٹیوٹ(آئی آر آئی) کی جانب سے نومبر2012ء میں کئے گئے سروے کے مطابق ملک کی87فیصد آبادی ملکی سمت کے حوالے سے نااُمید نظر آتی ہے۔ ہر عمر کے افراد کی نظر میں معاشی امورکی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔ برٹش کونسل کی سروے رپورٹ کے مطابق نوجوان افراد کے اہم ترین مسائل ملازمت کاحصول، افراط زر میں اضافہ، توانائی اور رہائش کا حصول ہے۔ آئی آر آئی کے سروے میں بھی اکثریت نے معاشی مسائل کو اہم ترین قرار دیا تھا۔ آئی آر آئی کے سروے کی طرح نیکسٹ جنریشن سروے رپورٹ میں بھی غیر سیاسی اداروں کو سیاسی اداروں سے زیادہ احترام کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان طبقے کا اعتماد سب سے زیادہ فوج پر ہے جو کہ 77فیصد ہے،74فیصد نوجوانوں کا اعتماد مذہبی مراکز پر ہے،63کا میڈیا جبکہ 60فیصد کا اعتماد عدلیہ پر ہے۔ برٹش کونسل کی رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں نوجوان طبقہ ملک کو چلانے والی قیادت پر اعتماد نہیں کرتا، انہیں پیپلزپارٹی کی پچھلی پانچ سالہ حکومت میں جمہوریت کے ثمرات نہیں ملے اسی لئے58فیصد نوجوانوں کی رائے میں جمہوریت پاکستان کیلئے بہتر نہیں ہے جبکہ چند کا خیال ہے کہ طرز حکمرانی میں بہتری آئی ہے۔ 38فیصد افراد کی رائے میں شریعت کا نظام ملک کیلئے بہترین ہے،29فیصد جمہوریت کو بہتر سمجھتے ہیں، اس سے نوجوانوں میں جمہوریت کے حوالے سی مایوسی کی عکاسی ہوتی ہے۔اگرپاکستان میں نوجوانوں کے جمہوریت پر یقین کو نشاة ثانیہ عمل میں لانا ہے تو اس کے لئے یہ سمجھنا ہو گا کہ وہ ایسی رائے کیوں رکھتے ہیں؟ اگر نوجوان پریشان ہیں تو اس کی وجہ سیاسی قیادت کی ابتر طرز حکمرانی یا قیادت کی ناکامی ہے۔ نوجوان طبقہ ذی شعور طبقات کی طرح جمہوریت کو کارکردگی کے ترازو میں تولتا ہے۔ اسے اس سے غرض نہیں کہ حکومت نے5سالہ مدت پوری کی یا نہیں وغیرہ وغیرہ۔ وہ تو صرف جمہوریت کو کارکردگی کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں، اس لئے نوجوانوں کے جمہوریت پر اعتماد کو بحال کرنے کیلئے سیاسی رہنماوٴں کو طرزحکمرانی میں بہتری لاکر نوجوانوں سے متعلق امور پر پالیسی نتائج مرتب کرنے ہوں گے۔ نوجوان طبقہ معاشی پہلووٴں کے ساتھ ساتھ شفافیت، اخلاقیات اور بدعنوانی پر بھی توجہ دیا کرتا ہے۔ رپورٹ کا ایک اور پیغام یہ بھی ہے پاکستان کو اپنی آبادی کے لئے مواقع پر بھی متوجہ ہونا چاہئے کیونکہ جتنے زیادہ افراد اپنی عمر کے سب سے زیادہ موثر ترین حصے میں داخل ہورہے، اسے معاشی ثمرات میں بھی بدلا جاسکتا ہے۔ اس کے برخلاف پاکستان تعلیم، ملازمت اور معاشی موقعوں کی فراہمی ممکن نہ بناکر ان موقع سے فائدہ نہیں اٹھا رہا ہے۔ یہ اہم ترین مسئلہ نہ تو سیاسی تقریروں کی زینت بنا اور نہ ہی میڈیا نے اسے نمایاں کر کے پیش کیا اور نہ ہی اسے حکومتی پالیسیوں میں جگہ مل سکی۔ جب تک اس اہم مسئلے کو حل نہیں کیا جاتا پاکستان میں آبادیاتی تبدیلی، معاشی جمود، تعلیم کے درمیان مقامِ انقطاع آنے والے برسوں میں ملک کی سماجی تباہی کا موجب بنے گا۔ اس مسئلے کے حل کے لئے مدبّرانہ قیادت کی ضرورت ہے جس کیلئے نوجوان طبقہ بھی آرزومند ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید