آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان میں الیکشن 2013 ء کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ کہیں امیدواروں کے کاغذات مسترد ہو رہے ہیں اور کسی حلقہ سے مسترد شدہ امیداروں کے کاغذات منظور کئے جا رہے ہیں ۔پاکستان کی سیاسی پارٹیوں میں جہاں وفاداری کے راگ الاپے جا رہے ہیں وہاں پارٹیاں بدلنے کا رجحان بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔کوئی دوسرے کی ذات میں کیڑے نکال رہا ہے اور کچھ ایک دوسرے پر لوٹا ہونے کا الزام لگا رہے ہیں۔پاکستان کے گلیوں محلوں اور چوکوں میں ووٹرز کی گہما گہمی ہے ۔پارٹی ٹکٹوں کا حصول مشکل ہے تو کہیں ٹکٹوں کی غلط تقسیم پر احتجاج ہو رہے ہیں ۔ٹکٹوں کی تقسیم پر کوئی کارکن کھمبے پر چڑھ رہا ہے اور کوئی اپنے اوپر تیل چھڑک کر آگ لگانا چاہتا ہے تاکہ وہ اس غلط تقسیم کی طرف اپنے قائدین کی توجہ مبذول کر واسکے ۔امیدوار بھی ووٹرز کے گھروں کے سامنے نظر آرہے ہیں اور انہیں اپنی خدمات پیش کرتے ہوئے اپنے سابقہ دور کی ، رام کتھا ، سنا کر دوبارہ ووٹ لینے کے عہد و پیماں کو یقینی بنا یا جا رہا ہے ۔دعوتوں ،عشائیوں ،ظہرانوں اور شادیوں میں شمولیت کے ساتھ ساتھ مرنے والوں کے لئے دعائے مغفرت کرنا فرض جان لیا گیا ہے ۔سپین میں بھی پاکستانی کمیونٹی انہیں شہروں ، محلوں اور گلیوں سے یہاں تک پہنچی ہے ۔کسی کا کوئی عزیز ،رشتہ دار یا دوست پاکستان کے الیکشن میں امیدوار ہے تو کوئی

دوسرے یورپی ممالک سے سپین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو اپنے اپنے حلقوں میں ووٹ دینے اور دلانے کے لئے سفارشیں کروا رہا ہے ۔اسی طرح سپین میں مقیم پاکستانیوں کی زیادہ آبادی بارسلونا اور اس کے گرد و نواح میں رہائش پذیر ہے ۔بارسلونا میں پاکستان کی سیاسی جماعتیں اور ان کی بنائی گئی ایگزیکٹو باڈیز ہر حوالے سے بہت متحرک رہی ہیں ۔پاکستان کا کوئی مذہبی یا قومی دن منانا ہو ،کوئی احتجاج ریکارڈ کرانا ہو ،پاکستان میں آنے والی زلزلہ اور سیلاب جیسی آفات میں اپنے ہم وطنوں کے نقصان کو کم کرنے کے لئے ان کی امداد کرنی ہو تو یہ جماعتیں اپنے اپنے پلیٹ فارم سے ایک دوسرے سے بڑھ کر کام کرتی ہیں ۔ان میں پاکستان مسلم لیگ ن ،پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان تحریک انصاف ،پاکستان مسلم لیگ ق اور ان پارٹیوں کے ونگز قابل ذکر ہیں ۔پاکستان میں الیکشن 2013 جو کہ 11 مئی کو ہونے جا رہا ہے اس میں اپنی پارٹی کو کامیاب کرانے کے لئے بارسلونا میں بھی پاکستان کی طرح کی رونقیں نظر آرہی ہیں ۔پاکستان مسلم لیگ ن سپین کے صدر نذیر احمد گوندل ،پاکستان پیپلز پارٹی سپین کے صدر عمر فاروق رانجھا ،تحریک انصاف سپین کے کوارڈینیٹر عبدا لصبور ،پاکستان مسلم لیگ ق کے سینئر رہنما اور ممبرز اپنے متعلقہ حلقوں میں رہنے والے ووٹرز کو مل کر انہیں کہہ رہے ہیں کہ وہ ہماری پارٹی کو ووٹ دیں ۔ہمارا یہ منشور ہے ہم وہ کریں گے ہم فلاں کو دیکھ لیں گے اب پاکستان کی سلامتی ہمارے قائدین کے ہاتھ میں ہے بہت سارے امیدواروں کو آزمایا جا چکا ہے اب نئے لوگ آزمائے جائیں وغیرہ وغیرہ اس طرح کے نعروں اور دلفریب باتوں سے ووٹرز کا احساس اور محبت جیتنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔گذشتہ دنوں مسلم لیگ ن سپین کے سینئر نائب صدر مزمل باجوہ دل کے والوز تبدیل کروا کے مسلم لیگ آفس میں تمام احباب کا شکریہ ادا کرنے آئے تو اس محفل میں بھی مسلم لیگ ن کے قائدین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میاں برادران پاکستان کو بحرانوں سے نکال سکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے تام احباب کا شکریہ ادا کیا جن کی دعاؤں سے انہیں نئی زندگی ملی ۔پاکستان پیپلز پارٹی سپین کے صدر عمر فاروق رانجھا جن کا تعلق منڈی بہاؤالدین سے ہے اور بارسلونا میں ان کے ، گرائیں ، بھی کثیر تعداد میں ہیں انہوں نے اپنے شہر والوں کی دعوت کی اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لئے ووٹ مانگے ووٹ مانگتے وقت انہوں نے صدر زرداری کے دو فیصلوں کی مثال دی جس کے مطابق ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن اور چائنا کے ساتھ گوادر پورٹ کا سمجھوتہ جرأت مندانہ اقدام ہیں ۔تحریک انصاف سپین کے کوارڈینیٹر عبدالصبور نے ایک جلسہ کا اہتمام کیا جس میں مقررین نے عمران خان کے ذریعے پاکستان میں سونامی اور تبدیلی لانے کی بات کی اور کہا کہ عمران خان کرپشن سے پاک اور انٹرنیشنل ویژن رکھنے والی شخصیت ہے اور ایسے نڈر لوگ ہی پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ہیں ۔الیکشن 2013ء کا نتیجہ خواہ کچھ بھی نکلے ۔کوئی جیتے یا ہارے لیکن بارسلونا کی گلیاں ، پاکستانیوں کی دکانیں ،ریسٹورنٹس اور محلے پاکستان کے شہروں اور گاؤں کا منظر پیش کر رہے ہیں ۔اہل ثروت الیکشن میں اپنے حلقوں میں اپنے پسندیدہ امیدواروں کی الیکشن مہم کے چلانے کے لئے پاکستان جا رہے ہیں ۔بارسلونا میں جہاں کہیں پاکستانی گروپ کی شکل میں کھڑے نظر آئیں تو ان کی گفتگو کا محور پاکستان میں ہونے والا الیکشن ہی ہوتا ہے ۔بارسلونا میں سیاسی پارٹیوں کے امیدواروں کی باقاعدہ الیکشن مہم چلائی جا رہی ہے ۔شرطیں لگ رہی ہیں کون جیتے گا اور کون ہارے گا ۔الیکشن 11 مئی کو ہو گا ۔اس کی تاریخ تبدیل ہو گی ۔نگران حکومت کچھ کرے گی ۔نگران حکومت کچھ نہیں کرے گی ۔نواز شریف وزیر اعظم ہوں یا عمران خان۔پرویز مشرف جیل جائیں گے یا جہاں سے آئے وہیں وآپس ۔جعلی ڈگریوں والوں کی ضمانتیں ہونگی یا وہ جیل میں رہیں گے ۔جعلی ڈگری والے اپیل کریں گے ۔پرانے برج اُلٹ جائیں گے ۔سب ایک ہیں مل کر پاکستانی قوم کو بے وقوف بنایا جا رہا ہے ۔پنجاب میں وزیر اعلیٰ پرویز الہیٰ ہونگے ۔خیبر پختونخوا میں عمران خان سیٹیں زیادہ لے گا ۔پنجاب میں ن سب کو مات دے گی ۔سندھ میں ایم کیو ایم مقابلہ جیتے گی ۔کلین سوئپ ہو گا ۔مخلوط حکومت بنے گی ۔میاں نواز شریف کو برطانیہ میں سرکاری پروٹوکول سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ آئندہ پاکستان کے وزیر اعظم ہونگے ۔پانچ سال تک ن لیگ نے پیپلز پارٹی کو کچھ نہیں کہا یہی سمجھوتہ تھا ۔ اب ن لیگ کی باری ہے ۔میڈیا نے اچھا کردار نبھایا ہے ۔کچھ فرق پڑے گا وغیرہ ۔یہ وہ باتیں ہیں جو آج کل بارسلونا میں مقیم ہر پاکستانی کی زبان پر عام ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ان میں سے کون سی بات یا اندازہ ٹھیک ہوتا ہے اور کون سا غلط ۔بہر حال الیکشن کا نتیجہ کچھ بھی ہو اوورسیز پاکستانیوں کا دل پاکستان کے میں رہنے والوں کے ساتھ ہی دھڑکتا ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں