آپ آف لائن ہیں
بدھ12؍ صفر المظفّر 1442ھ30؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تفہیم المسائل

سوال: میں نے اپنی بیٹی کے عقیقے پر بکری ذبح کی ، میرے دوست کا کہنا ہے کہ بکری کا عقیقہ نہیں ہوتا ،کیا یہ درست ہے ؟،(آصف جت )

جواب:آپ نے سُنّت کے مطابق بالکل درست عمل کیا ، عقیقہ ادا ہوگیا ،حدیث پاک میں ہے : ترجمہ:’’ أ مّ کُرز رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: لڑکے کی طرف سے دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ،اس میں کوئی حرج نہیں کہ وہ نَر ہوں یا مادہ ،(سُنن ابو داؤد:2835)‘‘۔

صدرالشریعہ علامہ امجد علی اعظمی ؒ لکھتے ہیں: ’’لڑکے کے عقیقہ میں دو بکرے اور لڑکی کے عقیقے میں ایک بکری ذبح کی جائے یعنی لڑکے کے عقیقےمیں نَر جانور اور لڑکی کے عقیقےمیں مادہ مناسب ہے اور لڑکے کے عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی کے عقیقےمیں بکرا کیا ،تب بھی حرج نہیں اور عقیقہ میں گائے ذبح کی جائے تو لڑکے کے لیے دو حصے اور لڑکی کے لیے ایک حصہ کافی ہے یعنی سات حصوں میں دو حصے یا ایک حصہ،(بہارِ شریعت ،جلدسوم،ص:357)‘‘۔

اقراء سے مزید