آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ڈاکٹر خالد حمید، لاہور

کورونا کا مُہلک وائرس دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے۔ اِس بلائے ناگہانی نے اپنی دہشت اور تباہ کاری سے جہاں دنیا کے تمام ممالک کی معیشت تہس نہس کی، وہیں ترقّیاتی منصوبوں کی بساط بھی لپیٹ دی۔ اِس جان لیوا عفریت سے نظامِ حیات اِس بُری طرح جمود کا شکار ہوا کہ کروڑوں افراد بے روزگاری کی دلدل میں دھنس گئے۔ اِن حالات میں پاکستان جیسے ترقّی پذیر ممالک انتہائی قلیل وسائل کے ساتھ کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہیں، تاہم اِس ضمن میں حکومتی اقدامات کے ساتھ عوام کو بھی حفاظتی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی۔ 

اگر اِس قومی فریضے میں تساہل اور غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا گیا، تو یہ لاپروائی مُلک و قوم کے لیے انتہائی مُہلک ثابت ہو سکتی ہے۔جہاں ایک طرف طبّی عملہ کورونا کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر خدمات انجام دے رہا ہے، وہیں ہمارے دلیر کسان قوم کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے جان لڑا رہے ہیں۔ اِس جان لیوا وبا کے دوران قابلِ فخر کسانوں اور کھیت مزدوروں کو مثالی خدمات پر جتنا بھی خراجِ تحسین پیش کیا جائے، کم ہے۔

اِس وقت ضرورت اِس امر کی ہے کہ اپنے کسانوں کی خدمات کو سراہنے اور کورونا سے پیدا شدہ مسائل کے حل کے لیے قومی سطح پر ایک تحریک چلائی جائے۔اِس تحریک کا مقصد جہاں کسان کی قومی غذائی وسائل کے تحفّظ کو یقینی بنانے کی کاوشوں اور موجودہ مُہلک صُورتِ حال میں بھی پوری قوم کی غذائی ضروریات کو باقاعدگی سے پورا کرنے کے عظیم جذبے کی حوصلہ افزائی کرنا ہو، وہیں حکومت کو کسان اور زراعت کی ترقّی کے منصوبوں کو ترجیح دینے کا احساس بھی دِلانا ہو۔ یہ تحریک اِس لیے بھی ضروری ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات کے ساتھ ہمیں فوڈ سیکوریٹی سے وابستہ معاملات پر بھی نظر رکھنی ہوگی اور اِس میں سب سے اہم کردار کسان ہی کا ہے۔ 

اگر وہ خوف یا ناکافی حفاظتی انتظامات کے سبب کھیت جانا چھوڑ دے، تو تصوّر کیا جا سکتا ہے کہ مُلک کس سنگین امتحان سے دوچار ہوجائے گا؟اقوامِ متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت نے ایک حالیہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ’’کورونا جیسی مُہلک وبا کے پھیلائو کا سلسلہ زیادہ عرصے تک بڑھا، تو قومی فوڈ سیکوریٹی پر خصوصی توجّہ نہ دینے والے ممالک کی بہت بڑی آبادی خوراک کی کمی، غربت اور فاقہ کشی سے دو چار ہو سکتی ہے۔ لہٰذا، تمام ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی خوراک اور زراعت کی سلامتی کو درپیش مسائل پر قابو پانے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی اختیار کریں۔

نیز،زیادہ وسائل رکھنے والے ممالک، پس ماندہ اور کم وسیلہ ممالک کے عوام کو کورونا پر قابو پانے میں مدد دینے کے علاوہ فاضل غلّہ اور جدید زرعی ٹیکنالوجی پہنچانے میں مدد کریں تاکہ غربت اور فاقہ کشی کے شکار خطّوں کو مفلوک الحالی سے نجات دِلائی جا سکے۔‘‘ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 38 فی صد افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اگر غذا کی قلّت ہوئی، تو اِن افراد کے ساتھ کم آمدنی والوں کو بھی سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا کہ کم مقدار میں غذا کی موجودگی قیمتوں کو مزید پَر لگا دے گی۔

کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ کوئی بھی ادارہ چھوٹے کسانوں اور کھیت مزدوروں کو کورونا وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدابیر سے آگاہی فراہم کرنے کی مہم نہیں چلا رہا۔یوں لگتا ہے، جیسے ساری حفاظتی سرگرمیاں صرف شہروں ہی تک محدود ہیں۔ اگر صُورتِ حال ایسی ہی رہی، تو خدشہ ہے کہ دیہات سے تعلق رکھنے والی 70فی صد آبادی میں اس مہلک وائرس کا پھیلائو ہمیں بڑے پیمانے پر مسائل سے دوچار کر سکتا ہے۔

لہٰذا، حکومت اور زرعی تنظیموں کو دیہات پر بھی توجّہ دینی ہوگی تاکہ کسان حسبِ معمول کھیتی باڑی کے معمولات جاری رکھتے ہوئے قوم کے لیے زمین کا سینہ چیرتے رہیں۔علاوہ ازیں، کسانوں کو بلاسُود اور آسان شرائط پر زرعی قرضے فراہم کرنے کے لیے بھی زیادہ سے زیادہ وسائل مختص کرنے کی ضرورت ہے، جب کہ سابقہ قرضوں سے بھی سود ختم کیا جانا چاہیے۔ 

گندم کی کٹائی سے قبل ہونے والی شدید بارشوں سے فصل کو خاصا نقصان پہنچا اور پھر رہی سہی کسر ٹڈّی دَل کے حملوں نے نکال دی۔ بہت سے چھوٹے کسانوں کے پاس نئی فصل کی کاشت کے لیے پیسے نہیں ہیں۔ اُنھیں بیج اور کھاد چاہیے، مگر اُن کی جیب خالی ہے۔ لہٰذا، حکومتی سطح پر اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے فوری حکمتِ عملی طے کرنا ضروری ہے تاکہ کسان اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر قوم کو بھی سنبھالا دے سکیں۔