آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
قدیم یونانی کہانی ہے کہ بیماری کا دیوتا ایک روز ایک شخص کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے آپ کو بیمار کرنا ہے، بیماری کا انتخاب خود کرلو۔ اُسی لمحہ اس شخص کو ہچکی آئی اور شرارتاً بولا کہ کیا یہ بھی بیماریوں کی فہرست میں شامل ہے؟ دیوتا بولا۔ ”ہے تو نہیں‘ اگر تمہاری خواہش ہے تو کئے دیتا ہوں“ اور اس شخص کو ہچکی کی بیماری دے کر چلتا بنا پھر مسلسل ہچکی سے موصوف کی وہ گت بنی کہ جان لبوں پر آگئی۔ سب کام چھوڑ چھاڑ کر دیوتا کے پیچھے بھاگا اور عرض کی کہ بیشک ہیضہ دے دو‘ طاعون دے دو‘ کینسر دے دو‘ اس نامراد ہچکی سے میری جان چھڑاؤ۔ حکیم محمد سعید شہید نے یہ داستان سنانے کے بعد کہا تھا کہ بیماریوں سے اللہ بچائے۔ سب نامراد ہیں‘ کوئی بھی اچھی نہیں ہوتی۔ ہمارے ایک بزرگ دوست چالیس برس سے شعبہ طب سے وابستہ ہیں۔ پبلک سیکٹر کے کئی معروف میڈیکل کالجز کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ پاکستان کی جتنی آبادی ہے، اس سے دگنے مریض ہیں۔ منطق یہ پیش کرتے ہیں کہ بیمار تو سبھی ہیں، ہر کسی کو کوئی نہ کوئی روگ ضرور ہے مگر آدھی سے زیادہ آبادی کو دو یا دو سے زیادہ عارضے لاحق ہیں۔ شوگر ہے تو کڈنی بھی متاثر ہے۔ بی پی ہے تو دل کے حالات بھی اچھے نہیں۔ کم خوابی ہے تو ذہنی امراض بھی ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور ان کثیر العلت مریضوں سے نمٹنا آسان نہیں

ہوتا۔ یوں بیماروں کی تعداد اصل آبادی سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ بے شک ان کے قول میں وزن ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی اکثریت کسی مستند حکیم یا ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتی اور محض ٹونے ٹوٹکوں‘ دم پھانڈے اور تعویزوں کا سہارا لیتی ہے۔
ہمارے بزرگوں کا ایک روحانی سلسلہ صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ وہ سب ایک ایک کرکے اللہ کو پیارے ہوتے گئے اور سلسلہ کی ذمہ داری اب ان کمزور کندھوں تک آن پہنچی ہے۔ یہ بھی واضح کردوں کہ بندہ کسی طور بھی پیرنہیں‘ عادتاً نہ فطرتاً عملاً نہ شکلاً ایک عام گنہ گار سا مسلمان ہوں اور بس۔ مگر متوسلینِ درگاہ کو‘ جنہیں عرف عام میں مرید کہا جاتا ہے‘ نہ جانے کیا سجھائی دیتا ہے کہ من پسند رشتے‘ زوجین میں سلوک و اتفاق‘ فراخیٴ رزق‘ بچوں کی تعلیم اور بھینس کے بروقت دودھ نہ دینے سے لے کر ٹی بی‘ فالج‘ کینسر‘ ہیپاٹائٹس جیسے موذی امراض کے علاج کیلئے بھی تعویز کے طلبگار ہوتے ہیں‘ انہیں لاکھ سمجھائیں‘ علاج کیلئے آمادہ نہیں ہوں گے۔ بس ایک ہی رٹ ہوتی ہے ”سرکار! آپ اللہ اللہ کردیں‘ پچھلی دفعہ آپ نے کیا تھا، سال بہت اچھا گزر گیا۔ اب بھی مہربانی فرمائیں“ اور ضد کا عالم یہ ہوتا ہے کہ منوائے بغیر نہیں ٹلتے۔ ایسے میں بزرگوں کے زمانے کے تعویز کام آتے ہیں جنہیں اب نقل کرنے کی زحمت بھی نہیں کرنا پڑتی۔ حسب ضرورت فوٹو کاپی بنوالیتے ہیں اور ضرورت مندوں میں حسب خواہش تقسیم کردیتے ہیں۔ ایک مزے کی بات اور کہ ایک تعویز تو شاید ہی کوئی لیتا ہو۔ تین تین‘ چار چار کا مطالبہ ہوتا ہے اور پیچھے رہ جانے والوں کیلئے بھی لئے جاتے ہیں تاکہ ”فیض“ سے کوئی محروم نہ جائے اور تعجب اس بات کا ہے کہ نتائج پچاس فیصد سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔ ہمارے ایک بزرگ کہا کرتے تھے کہ ”پچاس فیصد تو ان کا حق بنتا ہے کیونکہ آدھے کام خود بخود ہوجاتے ہیں۔ آدھے بیمار بھی اپنے آپ ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ اس سے اوپر جو بھی ہے وہ ان غریبوں مسکینوں کی خوش عقیدگی کا انعام ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کو مایوس نہیں کرتا۔ یوں اگر ہر عرس کے موقع پر چڑھاوے کے بکروں کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے تو اسے ہر گز ہر گز اپنا کمال نہ سمجھنا، یہ انہیں کا کمال ہے‘ انہیں کی کمائی ہے۔ دو گنا پلّے سے ڈال کر انہی پر خرچ کردینا“ اور الحمدللہ ہم اس پر کاربند ہیں۔
یہ ان چند ہزار لوگوں کی کہانی ہے جن سے راقم کا واسطہ پڑتا ہے۔ وطن عزیز میں ایسی درگاہیں ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور کروڑوں کی تعداد میں لوگ ان سے وابستہ ہیں اور فیضیاب بھی ہوتے ہیں۔ دراصل یہ ایک طرح کا کیتھارسس ہے۔ جن کا کوئی آگے پیچھے نہیں‘ جن کی کوئی نہیں سنتا‘ جن کو کوئی پاس بھٹکنے نہیں دیتا‘ جن کا کوئی حوالہ نہیں ہوتا‘ جن کی کوئی سفارش نہیں ہوتی‘ علاج تو دور کی بات جنہیں مشورہ تک میسر نہیں ہوتا‘ یہ آستانے ان کے لئے پناہ گاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وطن عزیز میں بھی طبی سہولتوں کی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پبلک سیکٹر میں اچھے اسپتال ضرور ہیں مگر ان کی تعداد اس قدر کم ہے کہ آبادی کے عشر عشیر کو بھی اکاموڈیٹ نہیں کرپاتے۔ رہے پرائیویٹ اسپتال تو ان کے تو سامنے سے بھی گزر جائے تو غریب آدمی مقروض ہوجاتا ہے۔ ہزاروں کی بات نہیں رہی‘ لاکھوں کا معاملہ ہے جو غریب آدمی کہاں سے لائے؟
سنجیدہ قسم کی جسمانی بیماریاں تو رہیں ایک طرف ہمارے ہاں تو نفسیاتی عوارض کا تناسب بھی خوفناک حد تک زیادہ ہے۔ ایک اسٹیڈی کے مطابق وطن عزیز کی80 فیصد آبادی ڈپریشن کی مریض ہے۔ رپورٹ ذرا پرانی ہے اور اس دوران تشدد‘ دہشت گردی‘ لوٹ مار‘ چھینا جھپٹی‘ مہنگائی اور بے روزگاری نے لوگوں کا جو حشر کیا ہے یقیناً اب ہر پاکستانی ڈپریشن کا مریض بن چکا ہے۔ اب تو ڈپریشن سے بھی آگے کا معاملہ ہے۔ شدید اینگزائٹی‘ جس نے بے شمار لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ راقم بھی اس نامراد بیماری کا شکار ہے اور شہر کے ایک نامی گرامی طبیب کے پاس اس وقت سے جارہا ہوں جب مشورہ فیس 500 روپے ہوا کرتی تھی‘ جو بتدریج بڑھتی گئی۔ اب کی بار جو گیا تو دو منٹ کے مشورہ کی فیس ڈھائی ہزار روپے ادا کرنا پڑی۔ جو اس قدر گراں گزری کہ فیصلہ کرلیا کہ آئندہ اس نامراد اینگزائٹی کو خود سے کنٹرول کرنا چاہئے۔ (چھ ماہ ہوا چاہتے ہیں‘ الحمدللہ ڈاکٹر کے پاس نہیں گیا‘ قوت ارادی کام آرہی ہے) الحمدللہ راقم سوسائٹی کے ان خوش نصیبوں میں سے ہے جو ایفورڈ کرسکتے ہیں۔ اگر مجھے 2500 روپے اس قدر بھاری لگے ہیں تو موصوف کے کمرہ انتظار میں بیٹھے کم وسائل بھائیوں پر کیا گزرتی ہوگی؟
مگر کرپشن میں لتھڑی سوسائٹی میں صرف ڈاکٹروں کو سنگل آؤٹ کرنا بھی زیادتی ہوگی‘ جہاں کرپشن اربوں/ کھربوں تک چلی گئی ہے اور کروڑوں تک محدود رہنے والوں کو پھسڈی اور کم حوصلہ خیال کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر تو ماشاء اللہ بہت پڑھے لکھے‘ ڈھیروں ڈگریوں کے مالک پروفیشنلز ہیں‘ یہاں تو توقیر صادق جیسے میٹریکولیٹ 82 بلین کی دیہاڑی لگالیتے ہیں۔ البتہ ان کی اپنی کمیونٹی میں ہی روشن مثالیں موجود ہیں‘ جیسے حکیم محمد اجمل مریضوں سے فیس نہیں لیا کرتے تھے اور دوائی بھی پلّے سے دیتے تھے مگر یہ سہولت صرف مطب پر آنے والوں کیلئے تھی۔ دوسرے شہر جاکر مریض دیکھنے کی فیس ایک ہزار روپے مقرر تھی۔ ظاہر ہے اس سہولت سے صاحب ثروت نوابین اور والیان ریاست ہی فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ Capacity to pary کا یہ اصول راقم نے ہندوستان کے علاوہ بھی بعض ممالک میں دیکھا ہے۔ جہان کنسلٹنٹس کی فیس فلیکس ایبل ہے۔ صاحبانِ ثروت سے پوری‘ سفید پوشوں سے حسب توفیق اور مساکین کو مکمل معافی۔ ہمارے ہاں بھی اس پریکٹس کو فروغ پانا چاہئے۔ فیس کے چند ہزار کم بھی ہوگئے تو کیا؟ نہ جانے کسی مسکین کے دل سے نکلی ہوئی دعا آپ کو کس کس طور سے نواز دے اور کون کون سی مشکل سہل کردے!