آپ آف لائن ہیں
اتوار9؍صفر المظفّر 1442ھ 27؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کراچی سے 5مارچ کو دبئی کے لئے روانہ ہوئے تو کورونا کا خطرہ شروع ہو چکا تھا اورچین کے شہر وو ہا ن کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا تھا ۔ 11مارچ کو نیویارک پہنچے تو معلوم ہو ا نیو یارک میں ایمر جنسی لگ گئی ہے اور لاس اینجلس میں بھی اس وائرس کا حملہ ہو گیاہے ۔اگلی فلائٹ سے کینیڈا پہنچے کہ اکثر گرمی کی چھٹیاں ہم کینیڈا جاکر پوتے،پوتیوں کے ساتھ گزارتے ہیں۔کینیڈا پہنچ کر معلوم ہواکہ25جنوری سے کورونا کا پہلا مریض 9مارچ یعنی صرف 2دن پہلے انتقال کر گیا ہے ۔اب حکومت کینیڈا نے بھی ایمر جنسی ڈکلیئر کرد ی ۔تما م اسکول ،کالج، پارکس ،مالز ،دکانیں،ریسٹورنٹس ،بازار ،جوا خانے بند کر دئیےگئے ،غیر ضروری باہر نکلنے پر بھی پابندیاں لگا دیں ۔صرف فارمیسی ،گروسری کی دکانیں (جو مالز سے باہر تھیں) بینکس اور ان سے ملحق ادارے فیکٹریاں کھولنے کا اعلان کیا۔ سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ کینیڈانے امریکہ کی تمام سرحدیں آنے جانے کے لئے بند کر دیں ۔صرف مال برداری کو بر قرار رکھا کیونکہ کینیڈا کی ایکسپورٹ تقریباََایک بلین ڈالرز روزانہ ہو تی ہیں اور وہ سرحدیں آج تک بند ہیں ۔جس پر صدر ٹرمپ نے کینیڈا پر پابند یاں لگانے کی کئی مرتبہ دھمکیاں بھی دیں مگر کینیڈا کے وزیر اعظم ٹروڈو نے اپنی طرف سے نرم جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے 37ملین شہریوں کی

زندگی خطرے میں نہیں ڈال سکتے پھر بھی چند فلائٹ کو چھوڑ کر اپنے ملک میں ائر کینیڈا کی فلائٹس ہی بند نہیں کیں بلکہ تمام جہاز گرائونڈ کردئیے ۔تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود 37ملین آبادی والے ملک میں ایک لاکھ 18ہزار سے زائد کورونا کے مریض تشخیص ہو ئے اور 8962اموات بھی ہو چکی ہیں۔ اس کے بر عکس پاکستان جو کینیڈا کی آبادی سے 7گنا بڑا ہے ،یعنی 22کروڑ کی آ بادی میں 2لاکھ 81ہزار کورونا کے مریض تشخیص ہو ئے اور 6014اموات ہو ئیں ۔یہ سب اللہ کا کرم تھا اور حکومتوں کی حکمت عملی تھی۔ اگر چہ ہمارے عوام ان پانچ مہینوں میں بے احتیاطی برتتے رہے،جبکہ کینیڈا میں اپنی آنکھوں سے پانچ ماہ سے دیکھ رہا ہوں کہ یہاں کے عوام نے بھر پور احتیاطی تدابیر اختیار کیں یہاں کی حکومت نے بیروز گار ہو نے والے تمام شہری مرد و خوا تین اوربچوں کو وظیفے جاری کئے جو آج تک مل رہے ہیں ۔سڑکیں مکمل ویران رہیں، آمد ورفت برائے نام رہی ،پھر جب حالات نارمل ہونے شروع ہوئے تو کینیڈا کے 10صوبوں اور3ٹیریٹریزمیں الگ الگ صورت حال رہی ،صوبائی حکومت خود فیصلہ کرتی ہے ،مرکز دخل اندازی نہیں کرتا۔ ہر صوبے ہی کی نہیں بلکہ ہر کائونٹی کی پولیس الگ ہو تی ہے ۔جو میئر کے ماتحت ہو تی ہے ،صوبائی پولیس وزیر اعلیٰ کے ما تحت ہو تی ہے۔مرکز کی پولیس گارڈ ہوتی ہے ،جو وزیر اعظم کے ماتحت ہو تی ہے ۔سب سے پہلے اونٹوریوصوبے کے وزیر اعلیٰ نے پارکس یکم جون سے کھولنے کا حکم جاری کیا ۔اس کو دیکھ کر 7 صوبو ں نے بھی مراعات دیں ۔2صوبے اس پر راضی نہیں تھے کیونکہ وہاں کورونا کنٹرول میں نہیں آرہاتھا،پھر آہستہ آہستہ ان دونو ں صوبوں نے بھی پابند یاں نرم کرنا شروع کر دیں ۔دوسرے فیز میں ریسٹورنٹس صرف باہر بیٹھ کر کھانے والوں کے لئے کھولے۔ پھر آہستہ آہستہ تمام ہوٹل ،ریسٹورنٹس ،مالز ،دکانیں ،جمز (Jyms)مساجد ،گرجا گھرSOPکے ساتھ کھول دئیے ۔اب صرف جوئے خانے کے علاوہ سب کچھ کھول دیاگیاہے۔سب کے SOPہیںیعنی ایک وقت میں کتنی تعداد میں عوام آجاسکتے ہیں ۔تمام پارکس ،جھیلوں اور بازاروں میں ماسک لازمی قرار دیا گیا ہے۔آپ کو کو ئی دکاندار یا ریسٹورنٹس ،شراب خانے میں بغیر ماسک داخل نہیں ہونے دے گااور ہر مالک اور ملازم لازمی ماسک پہنے کا پابند ہو گا۔یہی حال Gyms،مساج پالرز، ہیر سیلون، شادی ہالوں میں ہے۔یہاںتمام فیکٹریاںکھل چکی ہیں ،ستمبر تک حکومت وظیفے بند کرنے کا اعلان کر چکی ہے ۔مگرجب ہم پاکستان میں بندش کا معاملہ دیکھتے ہیں توابھی تک کوئی SOPنہ صوبائی حکومت طے کر رہی ہے نہ مرکزی حکومت ،عوام کی بے چینی بڑھ رہی ہے ،اتنا غریب ملک پھر مہنگائی عدم تحفظ،بے روزگاری دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔لاقانونیت، ڈکیتیاں ، قتل و غارت،بدمعاشی پھر شروع ہو چکی ہے ۔روزمرہ کی اشیاء خود حکومتی افراد مافیا بن کر لوٹ رہے ہیں۔ 70فیصد معاشی بوجھ اٹھانے والے شہر کراچی کوخود حکومت نے لاوارث سمجھ کر صرف وعدوں پر ٹرخایا ہو اہے۔ہمارے صدر محترم جن کا تعلق کراچی سے ہے، چپ ہیں ۔کب تک اس شہر کولاوارث رکھا جائےگا جو صرف ایک بارش سے ڈوب جاتا ہے ،بجلی اور نظام سب تباہ ہو جاتے ہیں ،کے الیکٹرک کے آگے سب بے بس ہو چکے ہیں ۔لاکھوں اسکولوں کے اساتذہ ،شادی ہالوں ،ریسٹورنٹس کے ملازمین سڑکوں پر آچکے ہیں ۔ حکومت اگر ان کو بے روزگار ی الا ئونس نہیں دے سکتی تو کم از کم ان اداروں کو کھولے ،جبکہ کینیڈا کے مقابلے میں 7گنا اموات اور مریض اللہ کے کرم سے صرف 6014یعنی کینیڈا سے بھی کم ہو نے پر پابندیاں برقرار رکھنا سراسر زیادتی اور عوام کے صبر کا امتحان لینے کے برابر ہے۔جب کہ کینیڈا میں اسکولوں ،یونیورسٹیز کی چھٹیاں قبل از وقت کر دی گئی تھیں،مگر ساتھ ہی آن لائن کلاسیں شروع کر دی گئیں جس سے طلبا کا نقصان نہیں ہوا ۔مونٹریال میں کورونا ابھی کنٹرول میں نہیں آیا مگر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہمارے پاس عوام کو دینے کے لئے پیسے نہیں ہیں،لہٰذا مجبوراً ہمیں کاروبار کھولنا پڑے گاتو انہو ں نے تمام کاروبار کھول دیا ۔یاد رکھیں اب پورا پاکستان موجودہ حکومت کی حکمت عملی سے بیزار ہو چکا ہے۔