آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ20؍محرم الحرام 1441ھ 20؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اب جبکہ معیشت ڈھلوان سے گرتی ہوئی تسلسل کے ساتھ ابتری کی جانب گامزن ہے۔ اس نازک مرحلے پر معیشت کا احتیاط کے ساتھ انتظام سنبھالنے کیلئے قیادت سامنے نہیں آرہی ہے۔ نگراں حکومت وزارت خزانہ پر وزیر کی تعیناتی کیلئے کافی زیادہ وقت لے چکی ہے۔ ملککی اندرونی اور بیرونی ادائیگیوں میں تیزی سے بڑھتا ہوا عدم توازن ایک حقیقت ہے جس سے ملکی استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔
گزشتہ مہینوں میں بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے حوالے سے صورتحال ادائیگیوں کے بحران تک جاپہنچی ہے۔ تیزی سے خاتمے کی جانب گامزن زرمبادلہ کے ذخائر کی بابت آنے والے مہینوں میں حکومت اپنے بیرونی قرضوں کی ادائیگی سے قاصر رہے گی۔ رواں مالی سال کے آخر تک اسٹیٹ بنک کے زرمبادلہ کے ذخائر 6.6/ارب ڈالر کی سطح تک کم ہو جائیں گے جبکہ27مارچ سے7/اپریل تک زرمبادلہ کے ذخائر میں 70کروڑ ڈالر سے زائد کی کمی واقع ہوئی۔ ذخائر میں مذکورہ کمی آئی ایم ایف سمیت بیرونی ادائیگیوں کی وجہ سے ہوئی لیکن اس کی ایک اور وجہ اسٹیٹ بنک کی جانب سے روپے کی قدر میں اضافے کیلئے مداخلت کیا جانا ہے۔ روپے کی قدر کو بڑھانے کیلئے اسٹیٹ بنک کی جانب سے زرمبادلہ کے ذخائر کے عوض روپے کو خریدنے کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر کو سنگین خطرات لاحق ہوئے اور یہ 2008ء کی اس سطح تک پہنچ گئے ہیں جن کی وجہ سے اس وقت

ادائیگیوں کا بحران پیدا ہوا تھا۔ روپے کی قدر کو مصنوعی طور بڑھانے کی کاوش سے زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی واقع ہوئی اور یہ طریقہ کار روپے کی قدر کو تادیر سہارا نہیں دے سکتا۔ جون کے مہینے تک آئی ایم ایف کو 90کروڑ ڈالر کی ادائیگی کرنی ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر 5.5/ارب ڈالر کی سطح تک کم ہو جائیں گے، زرمبادلہ کی یہ کم ترین سطح ملکی درآمدات کی محض ڈیڑھ ماہ کی ادائیگیوں کی سکت رکھتی ہے۔
یہ صورتحال معیشت کے خطرے میں داخل ہونے کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں مارکیٹیں ماضی میں بھی خوفناک صورتحال سے دوچار ہوچکی ہیں۔ معیشت کی باگ ڈور سنبھالنے کیلئے متوازن قیادت نہ ہونے کے سبب معیشت اور بھی کمزور ہوئی ہے۔ آخری مہینے میں پیپلزپارٹی کی حکومت کی جانب سے شاہ خرچیوں اور آمدنی میں کمی کے باعث رواں مالی سال بجٹ خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے8 فیصد یااس سے زائد کی سطح تک جاسکتا ہے حالانکہ حکومت کی جانب سے بجٹ خسارے کا ہدف اس سطح سے کہیں کم رکھا گیا۔ اسی طرح کی صورتحال سے 2008ء میں معاشی بحران نے جنم لیا تھا۔ نگران حکومت کے فطری ردعمل کے سبب آئی ایم ایف بیل آوٴٹ پیکیج دے سکتی ہے تاہم وہ نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کا انتظار کرے گی کیونکہ نگراں حکومت کے پاس آئی ایم ایف سے کسی بھی پیکیج لینے کا اختیار موجود نہیں ہے لیکن عبوری حکومت کو چاہئے معاشی استحکام کیلئے فوری اقدامات کرے جس میں حکومتی اخراجات میں کمی اور اضافی اندرونی قرض میں کمی شامل ہے۔ روپے کی شرح مبادلہ میں کمی کو روکنے کیلئے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کرنا ہے یا شرح مبادلہ کو کم ہونے دینا اور زرمبادلہ کے ذخائر کو تحفظ دینا ان دونوں میں سے دوسری صورتحال کا انتخاب کرنا چاہئے۔ ملکی اداروں کو بیل آوٴٹ پیکیج دینے کے بجائے اندرونی قرضوں میں کمی کرنی چاہئے۔
ان اقدامات سے اگلی حکومت کو معیشت کی بحالی کیلئے پائیدار اقدامات اٹھانے کیلئے کچھ مدد ملے گی۔ خوفناک معاشی صورتحال سے نبردآزما ہونے کیلئے فوری اور ضروری اقدامات میں توازن قائم کرنا ہوگا جس میں معیشت کو استحکام دینے کے ساتھ پیداوار میں اضافے کے اقدامات شامل ہیں۔ نئی حکومت کو ایک جانب تو بجٹ خسارے میں کمی کرنا ہوگی جس سے حکومتی قرضے اور افراطِ زر میں اضافہ ہوتا ہے، دوسری جانب اسے بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے خسارے میں توازن لاکر زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی سے بچانا ہوگا۔ حکومت کو اپنی توجہ معاشی بحران کے خاتمے تک ہی محدود نہیں رکھنی چاہئے بلکہ معیشت کے بنیادی مسائل کو بھی حل کرنا چاہئے جن کی وجہ سے ملک تواتر کے ساتھ مالی بحران کا شکار ہوکر باربار آئی ایم ایف سے رجوع کرتا رہا ہے۔ نئی حکومت کو ملک کی تمام مالی مسائل کی جڑ یعنی ملکی مجموعی پیداوار(جی ڈی پی) میں ٹیکس کی شرح میں اضافہ کرکے ایک معاشی تذویر متعین کرنی ہوگی۔
ملک میں سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے سیکورٹی، سیاسی اور معاشی صورتحال کو بہتر بنانے میں توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ اس کے تحت توانائی کے شعبے میں ایسی سبسڈی دینے سے اجتناب کیا جائے جس کا کوئی ہدف نہ ہو اور انفرااسٹرکچر کو بہتربنایا جائے تاکہ سرمایہ کاری کی فضا کو بہتربنایا جاسکے اور بچت کے اقدامات کی حامل زری پالیسی مرتب کی جائے۔ اگر نئی حکومت معیشت کی بہتری کیلئے بروقت ساختیاتی اصلاحات کا نفاذ کرے تو ملک بروقت ترقی کی شرح میں اضافے کی خط مستدیر پر براجمان ہوجائے گا۔ معیشت کے مسائل فوری حل کرنے کے لئیآئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کرنا اور اندرونی ساختیاتی اصلاحات کی تذویر کا نفاذ نہ کرنے سے یہ غیر معمولی موقع ضائع ہوجائے گا۔
نئی حکومت کو سو دنوں میں معیشت کی سمت متعین کرنے کیلئے اصلاحات نافذ کرنی چاہئے۔ جمود کی حمایت کرنے والی طاقتیں اور ذاتی مفادات کی پرستش کرتے اثرورسوخ رکھنے والے گروہ ایسی ہر سیاسی انتظامیہ کا راستہ روکیں گے جو اصلاحات کے نفاذ کی سعی کرے۔ پچھلے چار سالوں میں ٹیکس سے استثنیٰ دینے اور اسے ختم کرنے کی حد 650/ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔
کمرشل بنکوں کو نجی شعبے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے سہولت فراہم کرنی چاہئے تاکہ سرمایہ کاری کو تقویت ملے نہ کہ صرف حکومت کو قرضہ فراہم کرنے کے مصرف تک محدود رہنا چاہئے۔ ساختیاتی اصلاحات سے جو پیغام جانا چاہئے وہ یہ ہے کہ حکومت اب اشرافیہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے عام عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ایسی پالسی مرتب کرے گی جس کے تحت معاشرے کے تمام طبقے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔