آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ11؍ شوال المکرم 1440 ھ 15؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عام تاثر یہ ہے کہ سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف نے پاکستان واپس آکر اپنے آپ کو مشکل میں ڈال دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صرف پرویز مشرف ہی نہیں بلکہ ان کی وجہ سے سب لوگ مشکل میں ہیں۔ وہ لوگ بھی مشکل میں ہیں، جو پرویز مشرف کی پریشانیوں پر خوش ہیں اور آہستہ آہستہ اس بات کا احساس سب لوگوں کو ہورہا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے اگر لوگ یہ بات کہتے تھے کہ پرویز مشرف نے وطن واپس آکر غلطی کی ہے تو یہ بات کسی اور تناظر میں ہوتی تھی لیکن اب اگر وہ یہ بات کہتے ہیں تو یہ قطعی طور پر مختلف تناظر میں ہوتی ہے۔
کچھ حلقوں کا خیال یہ ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کوئی بے وقوف آدمی نہیں ہیں۔ وہ بین الاقوامی ضمانتیں حاصل کرکے پاکستان واپس آئے ہیں۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ پرویز مشرف بے وقوف آدمی ہیں یا نہیں؟ اس کا کوئی حتمی جواب دینا قبل از وقت ہوگا لیکن اس بات میں کچھ حقیقت نظر آرہی ہے کہ بعض بیرونی ضمانتوں کے بغیر وہ پاکستان آنے کا فیصلہ نہیں کرسکتے تھے۔ اس بحث میں بھی الجھنا بے کار ہے کہ وہ ضمانتیں کیا ہوں گی؟ تاہم ضمانتیں دینے والے بھی مشکل کا شکار ہوں گے۔ پاکستان کا ایک عام آدمی بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ امریکہ اور اس کی اتحادی بعض عرب ریاستوں کا پاکستان میں بہت اثر ورسوخ ہے اور انہی کی ضمانت یا گارنٹی پر ہی پرویز مشرف نے پاکستان

آنے کا فیصلہ کیا ہوگا۔ شاید انہی ضمانتوں کی وجہ سے پرویز مشرف اعتماد کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ”میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں۔“ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ضامن طاقتوں کو کیا مجبوری آن پڑی تھی کہ انہوں نے پرویز مشرف کو واپس پاکستان بھیج دیا ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ طاقتیں دوبارہ پرویز مشرف کو پاکستان میں اقتدار سونپنا چاہتی ہیں۔ اگر فرض کرلیں کہ ان طاقتوں کا ایسا ہی کوئی ارادہ ہے تو پھر انہوں نے انتہائی مشکل طریقہ اختیار کیا ہے۔ سیاسی اور جمہوری طریقے سے تو پرویز مشرف کا اقتدار میں آنے کا بظاہر کوئی راستہ نظر نہیں آتا جبکہ وہ فوج سے بھی ریٹائر ہوچکے ہیں۔ سیاسی اور جمہوری عمل کو التواء کا شکار کرکے کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا گیا تو اس کے لئے پاکستان کی مسلح افواج، عدلیہ اور سیاسی جماعتوں کی مدد لینی پڑے گی۔ کیا فوج، عدلیہ اور سیاسی قوتیں صرف پرویز مشرف کو دوبارہ اقتدار میں لانے کے لئے ہر طرح کی مدد اور حمایت فراہم کریں گی؟ مستقبل قریب میں اس سوال کا مثبت جواب نظر نہیں آتا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ضمانتیں فراہم کرنے والی طاقتوں نے پرویز مشرف کی عوامی مقبولیت کا اندازہ بہت پہلے سے لگالینا ہوگا۔ کم از کم ان کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ وہ بے وقوف نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ انہوں نے پرویز مشرف کو گارنٹی دی ہو کہ پاکستان میں انہیں کوئی نقصان نہیں ہوگا لیکن انہوں نے یہ بات محسوس کرلی ہوگی کہ انہوں نے گارنٹی دے کر اپنے لئے مشکلات پیدا کرلی ہیں کیونکہ اس سے ان کے خلاف پاکستان میں زیادہ غم وغصہ پیدا ہوسکتا ہے۔ اس لئے ان کی کوشش ہوگی کہ وہ جلد سے جلد اس مسئلے سے جان چھڑائیں۔
اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے آئین توڑا، ججوں کو نظر انداز کیا اور بہت سے دیگر کام ایسے کئے، جن سے پاکستان کے بہت سیاسی اور غیر سیاسی حلقے ناخوش ہیں۔ ان کے خلاف نواب اکبر بگٹی کے قتل کی ایف آئی آر بھی درج ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کیس میں بھی وہ نامزد ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو انہوں نے وزیراعظم ہاؤس سے گرفتار کرایا تھا اور ان کی حکومت کا تختہ الٹا تھا۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ عدلیہ اور سیاسی جماعتیں ان سے بہت ناخوش ہیں۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس عدلیہ سے سابق فوجی سربراہ اور سابق آمر کو سزا ہوسکے گی، جس عدلیہ نے اب تک ایک وزیراعظم کو پھانسی کی سزا دی۔ دوسرے وزیراعظم کو عمر قید کی سزا دی اور تیسرے وزیراعظم کو نااہل قرار دیا۔ ویسے بھی آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت عدلیہ اس وقت تک کارروائی نہیں کرسکتی۔ جب تک وفاقی حکومت اسے درخواست نہ دے۔ نگراں وفاقی حکومت نے عدلیہ کو واضح کردیا ہے کہ وہ اس معاملے میں نہیں الجھنا چاہتی ہے کیونکہ اس کا کام الیکشن کرانا ہے۔ الیکشن کے بعد قائم ہونے والی حکومتیں بھی شاید اس معاملے میں نہ الجھیں کیونکہ میاں نواز شریف بھی انہی طاقتوں کی گارنٹی کی وجہ سے جیل سے سیدھے سعودی عرب کے محلوں میں پہنچ گئے تھے اور پیپلز پارٹی کی قیادت بھی بعض معاملات میں انہی طاقتوں کی ضمانتیں حاصل کرچکی ہیں۔ اس طرح نگراں حکومت سمیت سب لوگ پریشان ہیں۔ سب سے زیادہ پریشان اس وقت پولیس ہے، جو سابق چیف آف آرمی اسٹاف کے بارے میں اپنی طرف سے بھی کچھ نہیں کرسکتی اور اسے واضح احکامات بھی نہیں۔ جب بھی پرویز مشرف کی بات ہوتی ہے۔ لوگ پاکستانی فوج کے بارے میں قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ فوج انہیں جیل جانے دے گی نہ سزا ہونے دے گی۔ اگرچہ ان قیاس آرائیوں میں صداقت نہ ہو لیکن فوج کے لئے یہ مشکل صورتحال تو ہے۔ کچھ لوگوں کو اس بات کی بھی پریشانی ہے کہ اگر پرویز مشرف کا زیادہ ٹرائیل کیا گیا تو وہ بعض معاملات میں ان لوگوں کو بھی ملوث کرسکتے ہیں اور ایک پنڈورا بکس کھل سکتا ہے۔ خود ان طاقتوں کے لئے بھی مزید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، جو ان کی ضمانتیں دے رہی ہیں۔ سب سے زیادہ مشکل میں وہ لوگ ہیں، جنہوں نے پرویز مشرف کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ وطن واپس آجائیں اور انہیں یقین دلایا تھا کہ جب وہ ایئرپورٹ اتریں گے تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا ایک سمندر ان کے استقبال کے لئے امڈ آئے گا۔ جب تک پرویز مشرف پاکستان میں ہیں، ان مشیروں کی شامت رہے گی۔ صرف یہ مشیر مشکل میں نہیں رہیں گے بلکہ پرویز مشرف کی پاکستان میں موجودگی سب کے کردار کو بے نقاب کرتی جائے گی۔ اب یہی ہوسکتا ہے کہ پرویز مشرف سخت بیمار ہوجائیں اور ملک سے دوبارہ باہر چلے جائیں۔ سب سکھ کا سانس لیں گے۔ ایک فوجی آمر کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کی خواہش بعد میں بھی پوری ہوسکتی ہے۔
اب آتے ہیں اس سوال کی طرف کہ جنرل پرویز مشرف نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیوں کیا؟ ہم اس سوال کا جواب اس لئے نہیں دے سکتے کہ پرویز مشرف نے 11سال تک پاکستان پر حکمرانی کی اور ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی بے وقوف اتنا طویل عرصے تک اقتدار میں نہیں رہ سکتا۔ اصل میں ہمارے غیر لچکدار تصورات ہمیں الجھا دیتے ہیں۔ ہم یہ بات بھول جاتے ہیں کہ فوجی آمر یا مافیا گروہوں کے سربراہ کوئی ذہین لوگ نہیں ہوتے لیکن یہ وہ موزوں ترین لوگ ہوتے ہیں، جنہیں ایک سسٹم بہتر طور پر استعمال کرسکتا ہے۔ آج تک دنیا میں جتنے فوجی آمر یا طاقتور تنظیموں کے لوگ گزرے جن میں سے کسی کو دنیا نے ذہین اور دانش مند انسان کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔ وہ سب ایسے ہی ہوتے ہیں اور سب پرویز مشرف ہوتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں