آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ14؍رجب المرجب 1440 ھ22؍ مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خبر آئی ہے کہ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ڈینگی مہم متاثر ہوسکتی ہے،پنجاب حکومت کی طرف سے سات ماہ قبل فنڈز ٹاؤنز کو جاری کئے گئے تھے۔ یہ خصوصی فنڈز محکمہ خزانہ اور اے جی آفس کی عدم دلچسپی کی نذر ہورہے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ سات ماہ قبل صوبے میں باقاعدہ منتخب جمہوری حکومت تھی۔ اس وقت فنڈز کی فراہمی میں کیوں نہیں تیزی دکھائی گئی؟
دوسری طرف اے جی آفس والے ہوتے بڑے ظالم ہیں، اللہ تعالیٰ دشمن کو بھی ان کے عذاب سے محفوظ رکھے جہاں کمیشن اور حصہ کے نام پر رشوت کا بازار کھلم کھلا گرم ہے ہر کسی کو حتیٰ کہ لوگوں کو اپنی ریٹائرمنٹ کے واجبات لینے کے لئے بھی رشوت دینا پڑتی ہے۔ آج تک کسی حکومت نے اے جی آفس والوں کے بارے میں بات نہیں کی۔ آئندہ کسی کالم میں اس پر بات ہوگی۔ا س وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف خسرہ کامرض بڑھتا جارہا ہے تودوسری طرف ڈینگی (بھارت میں اس کو ڈینگو کہتے ہیں) پوری طرح پر تولے بیٹھا ہے۔ کالی کھانسی کی شنید ہے کہ آنے والی ہے ۔امریکہ بہادر کے ملک میں ایسے وائرس آچکے ہیں جن پر کوئی دوائی اثر نہیں کرتی اگر وہ یہاں آگئے تو کیا بنے گا؟ہمارے ملک میں خیر سے جوبرائی اور بیماری ایک مرتبہ آجائے تو پھر وہ جانے کا نام کبھی نہیں لیتی بلکہ کئی نئی طرح کی بیماریاں آجاتی ہیں۔ ایک طرف الیکشن کی آمد ہے اور ایک بے چاری

نگران حکومت، جس کے پاس فنڈز کی کمی، دوسری طرف جنرل مشرف نے پاکستان آکر سخت ترین غلطی کرڈالی۔ بہت بڑی روحانی شخصیت سید سرفراز اے شاہ نے بھی انہیں منع فرمایا تھا کہ آنے کی غلطی نہ کرنا، بہرحال جنرل مشرف کی وفاؤں کا دم بھرنے والے جنرل حامد اور طارق عزیز کب کے غائب ہوچکے ہیں بقول جگر مراد آبادی
کس طرف جاؤں؟ کدھردیکھوں،کسے آواز دوں
اے ہجوم نامردای، جی بہت گھبرائے ہے
اب تو واقعی جنرل مشرف کا جی بہت گھبرارہا ہے خوبصورت سپنے دکھانے والے نہ جانے کس جہاں میں کھو چکے ہیں
تم نہ جانے کس جہاں میں کھوگئے
ہم بھری دنیا میں تنہا رہ گئے
جنرل مشرف کو کیا پتہ تھا کہ ان کے عزیز دوست اور اینکر پرسن جوان کو پتہ نہیں کیا کچھ بتاتے رہے اب خود بیگانے بن چکے ہیں
ہر اک سے بیگانہ بن رہے ہیں، کسی کی جانب نظر نہیں ہے
خبر وہ رکھتے ہیں اس طرح سے کہ جیسے کوئی خبر نہیں
چلئے چھوڑئیے ان باتوں کو اس موضوع پر لکھنے والے بڑے بڑے اچھے قلم کار موجود ہیں۔ ہم تو نگران حکومت میں فنڈز کی عدم دستیابی کے بارے میں بات کریں گے۔ آج کل سیاسی پارٹیاں جس قدر رقم پبلسٹی ، اپنے کارہائے نمایاں ،اپنی خوبیوں اور اپنے دعوؤں پر خرچ کررہی ہیں اگر یہی رقم وہ کبھی عوام کو صحت اور تعلیم کی سہولتیں دینے پر خرچ کرتیں تو آج انہیں بڑے بڑے اشتہار، پوسٹرز اور ٹی وی چینلز پر فلمیں دکھانے کی ضرورت نہ پڑتی۔ لوگ خود ہی انہیں ووٹ دے دیتے۔
نجم سیٹھی نگران وز یر اعلیٰ نے حالیہ ڈنر میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ان کے پاس اتنے فنڈز نہیں کہ وہ بہت سارے منصوبوں پر خرچ کرسکیں چنانچہ ہمارا ان کو مشورہ ہے کہ وہ کچھ فنڈز سیاسی جماعتوں سے بھی مانگ لیں کیونکہ اب قوم سمجھ دار ہوچکی ہے۔وہ شاید اس قسم کی پبلسٹی پر اس طرح ووٹ نہ دیں۔ اپنے الطاف بھائی کہتے ہیں کہ” وہ پنجاب میں آئے اور چھا گئے“کاش وہ بیماریوں پر چھا جائیں کیونکہ ہمارے ملک میں اب بیماریاں اور برائیاں دونوں بہت تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہیں۔
سیاسی پارٹیاں اگر تھوڑی سی رقم خسرہ اور ڈینگی پر خرچ کردیں تو شاید ان کے وہ امیدوار جو کمزور ہیں اس صدقہ جاریہ کی وجہ سے الیکشن میں کامیابی حاصل کرلیں اور یقینا آخرت بھی سنور جائے گی۔ اب خسرہ کو ہی دیکھ لیں دنیا کے کئی ممالک میں خسرہ ختم ہوگیا ہے، کئی ممالک اس پر قابو پاچکے ہیں اور اپنے ہاں خسرہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ ہمارے حکمران اور ان کے بچے ان بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں جو کبھی بھی کسی وباء کی صورت میں ہمارے ہاں آتی ہے۔ ایلیٹ کلاس کے بچے اس لئے محفوظ رہتے ہیں کہ انہیں بہترین ویکسیئن میسر ہے۔خسرہ کا زور کبھی سندھ میں ہوجاتا ہے تو کبھی پنجاب میں، سندھ میں تو صحت کی سہولیات کا عالم یہ ے کہ آج بھی وہاں کے لوگ پتھر کے زمانے کے رہنے والے لگتے ہیں۔اب تک مجموعی طور پر پورے ملک میں خسرہ سے پانچ سو بچے مرچکے ہیں۔ ہر روز دو تین بچے اس بیماری کی نذر ہورہے ہیں جبکہ خسرہ سے متاثرہ بچوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ میو ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹرز اہد پرویز نے بتایا کہ روزانہ پانچ سو بچے ایمرجنسی میں آرہے ہیں۔
پنجاب کی نگران وزیر صحت سلیمہ ہاشمی(جو کہ نامور شاعر فیض احمد فیض کی بیٹی، ماہر تعلیم اور این سی اے کی پرنسپل رہ چکی ہیں) وہ کہتی ہیں کہ خسرہ کے خلاف مہم جون میں شروع کریں گے۔ ہمارا مشورہ ہے کہ جس طرح شہباز شریف اور پروفیسر فیصل مسعود نے ڈینگی کے خلاف انتہائی موثر اقدامات کئے تھے اسی طرح وہ خسرہ کے خلاف برق رفتار اقدامات کریں۔ ظاہر ہے کہ نگران حکومت کو تو خسرہ کے پھیلنے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا البتہ وزیر صحت کا یہ بیان کہ ویکسیئن کی کوریج میں نقائص رہ گئے ہیں قابل غور ضرور ہے اور اس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے اور ان وجوہ کی تلاش کرکے ان کا سدباب کرنا چاہئے تاکہ آئندہ خسرہ پھیل نہ سکے۔پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کی امیونائزیشن کی مشاورتی کمیٹی کے سینئر رکن اور معروف ماہر امراض بچگان پروفیسر ڈاکٹر طارق اقبال بھٹہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں آدھے بچوں کو ویکسیئن لگتی ہی نہیں ۔کہاجاتا ہے کہ پنجاب میں ویکسئین کی کوریج اوسطً 57فیصد ہے اور پنجاب ہی کے بعض علاقوں میں کوریجصرف 20 فیصد ہے اگر پنجاب جیسے ترقی یافتہ صوبے کا یہ حال ہے تو باقی صوبوں کی صورتحال کیا ہوگی؟
کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ آج ہم ویکسئین کے معاملے میں صومالیہ سے بھی پیچھے ہیں۔ ایران میں ویکسی نیشن کی کوریج99فیصد اور مصر میں98فیصد ہے اور اپنے ہاں صرف دعوے اور جھوٹی باتیں ہیں ۔بنگلہ دیش اور سری لنکا نے اپنے ملک سے پولیو ختم کردیا ہے اور ہم ابھی تک ا س لعنت سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکے۔ کچھ خاص لوگوں نے بتایا کہ پاکستان کو جو ویکسیئن ملتی ہے اس میں سے آدھی ویکسیئن غائب ہوجاتی ہے۔ ہر کام میں کرپشن ہے پاکستان کے بعض صوبوں میں ویکسیئن کی کوریج صرف 17 فیصد ہے البتہ آزاد کشمیر میں کوریج بہتر ہے۔پچھلے پانچ سال میں آزاد کشمیر میں کوئی پولیو کیس نہیں ہوا۔
ہم تو نگران حکومت سے کہیں گے کہ الیکشن کے دنوں میں یہ بات تو سامنے آگئی ہے کہ سیاسی پارٹیوں کے پاس پیسے کی کوئی کمی نہیں حکومت پبلسٹی کی مد میں کوئی ہیلتھ ٹیکس لگادے تو اس سے یقینا ہمارے وبائی امراض کی روک تھام اور غریبوں کو بروقت ویکسیئن کی فراہمی اور کوریج میں بہتری آسکتی ہے۔ ارے بھائی اگر ووٹر ہی بیمار ہوگئے تو ووٹ ڈالنے کون آئے گا اپنے ووٹروں کی صحت کی خاطر حکومت ضرور کوئی ہیلتھ ٹیکس لگادے مگر خدارا اس فنڈ کو کرپشن سے بچا لیجئے گا۔ آخر سیاسی جماعتوں نے یہ پیسہ بھی تو حکومتوں میں رہ کر اکٹھا کیا ہے جو یقینا اس ملک کے غریب عوام کی کمائی پر ٹیکس لگا کر حاصل کیا گیا ہے اور کچھ نے یہ کمائی دوسرے ذرائع اور طریقوں سے حاصل کی ہے۔ آج سیاسی پارٹیاں، پبلسٹی کے علاوہ کھانوں، میٹنگوں اور ووٹروں کو خوش کرنے کے لئے ہر طریقہ ا ستعمال کررہی ہیں اور سب معاملات میں صرف پیسہ ہی شامل ہے لہٰذا نگران حکومت جاتے جاتے ہیلتھ ٹیکس کا نظام متعارف کرا جائے تو رہتی دنیا تک یہ صدقہ جاریہ ہوگا قوم کو آج تمام سیاسی پارٹیاں سپنے دکھارہی ہیں
لے تو آئے ہو ہمیں سپنوں کے گاؤں میں
پیار کی چھاؤں میں بٹھائے رکھنا سجنا

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں