آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
زیر نظر کالم میں میرا منشاء خامہ فرسائی ولی نصر کی کتاب بعنوان دی ’ان ڈسپینسیبل نیشن‘ پر جائزہ پیش کرنا ہے۔ کتاب اس اہم نکتے کی جانب اشارہ کرتی ہے صدر اوباما کے تذویری فیصلوں پر کس طرح ملک کی اندرونی سیاست اثر انداز ہوتی ہے اور بردباری سے کئے گئے فیصلے کس طرح سیاسی ردعمل کے باعث واپس لئے گئے۔ اوباما نے سفارتکاری کو مرکزی کردار سونپنے کے بجائے خطے پر سے توجہ ہٹاتے ہوئے اپنے پیشرو کی پالیسیوں کی اندھی تقلید کی۔ کتاب کا مقصد امریکہ کے ختم ہوتے ہوئے اثرورسوخ پر بحث کرنا ہے جو کہ سفارت کاری سے عاری اور دباوٴ پر جاری پالیسیوں کی بابت وقوع پذیر ہوا ہے۔ نصر صاحب کی دلیل یہ ہے کہ واشنگٹن کی غیرمتزلزل پالیسیوں کی بنا پر طویل مدت کے امریکی مفادات کو نقصان پہنچا ہے اور اس سے مشرق وسطیٰ کے استحکام کو بھی خطرات لاحق ہوئے ہیں۔ نصر صاحب تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں اور وہ امریکہ کے سابق خصوصی نمائندہ برائے پاکستان اور افغانستان رچرڈ ہالبروک کے سینئر مشیر کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ جس سے پاکستان اور افغانستان پر تحریر کئے گئے ان کی کتاب کے تین باب خصوصی طور پر دلچسپ بن جاتے ہیں۔
نصر کے مطابق اوباما نے وائٹ ہاوٴس کے مشیروں کے جس گروہ پر انحصار کیا وہ تذویری زاویئے کو ترجیح دینے کے بجائے عوامی رائے کو

مطمئن کرنے اور شب کی خبروں سے زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ صدر اوباما نے مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے نئے دور کے آغاز کا وعدہ کیا تھا لیکن اس حوالے سے ان کی پیشرفت مختصر رہی، اوباما خطے کے پیچیدہ مسائل سے ملک کی اندرونی سیاست کے تناظر میں نبردآزما ہوئے، یہ نکتہ پاکستانی پالیسی سازوں کے بھی قابل غور ہے ۔نصر نے لکھا ہے کہ اوباما نے امریکہ کی توجہ کو مشرق وسطیٰ کی خارجہ پالیسی پر غلبے سے ہٹاکر ملک کے اندرونی مسائل حل کرنے کی جانب مرکوز کی۔ لیکن اس علیحدگی کی قیمت اسے خطے میں اپنے اثرورسوخ میں کمی کی صورت میں چکانا پڑی جس سے دوسری طاقتوں کیلئے خطے میں کارفرما ہونے کے مواقع پیدا ہو گئے۔ ڈرون پالیسی اپنانے سے امریکی سفارتکاری زائل ہوئی اور اس کی مقبولیت کو بھی ٹھیس پہنچی ہے۔ انہوں نے ’پاکستان ،کون ہارا‘ کے عنوان سے باب میں تذکرہ کیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ عہدہ برا ہونے کا امریکی طریقہ غلط تھا جس کے باعث امریکہ کے پاکستان میں اثرورسوخ میں بھی کمی آئی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ صدر اوباما نے پاکستان کے حوالے سے خارجہ پالیسی پینٹاگون، سی آئی اے اور خفیہ اداروں کو سونپ دی تھی جو کہ پاکستان سے محض تعاون چاہتے تھے تعلقات نہیں، یہی اوباما کی ناکامی تھی۔
نصر نے امریکی موقف کی تائید کرتے ہوئے دلیل دی ہے کہ 2008-9ء میں پاکستان طالبان کی واپسی کا ذمہ دار ہے جبکہ پاکستان کا موقف رہا ہے کہ طالبان کے دوبارہ منظم ہونے میں امریکی تذویری خامیاں کارفرما رہی ہیں، دونوں ممالک کے موقف میں تضاد کے باعث گزشتہ برسوں میں پاک امریکہ تعلقات ابتری کا شکار رہے ہیں۔ انہوں نے ہالبروک کی آفپاک(AFPAK) پالیسی کو دونوں ممالک میں ایک ہی طرح کے خطرے سینمٹنے کے لئے ایک انوکھی پالیسی اصطلاح گردانا ہے۔ کئی پاکستانی اسے اوباما کی ابتدائی تذویری غلطیوں میں شمار کرتے ہیں جس سے پاکستان کو مسئلے کا حصہ بناکر پیش کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اس سے یہ تاثر جنم لیتا ہے کہ اوباما انتظامیہ پاکستان پر پالیسی مرتب کرنے میں ناکام رہی ہے۔ بعد ازاں ہالبروک کی جانب سے پاک امریکہ تذویری مذاکرات شروع کیا جانا (AFPAK) پالیسی سے پیدا ہونے والے اثرات کو ختم کرنا تھا۔ تاہم ان کے دنیا سے کوچ کرجانے کے بعد تذویری مذاکرات کا سلسلہ رک گیا جوکہ 2011ء میں پیدا ہونے والے بحران کے باعث ختم ہوا تھا اور پھر کبھی اس کا احیاء نہ ہو سکا۔ نصر کی کتاب کے مطابق پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کیلئے جولائی2011ء میں جنرل اشفاق پرویز کیانی اور سینیٹر جان کیری کی ابوظہبی میں ملاقات کو اہمیت کا حامل قرار دیا گیا ہے۔
جب ہالبروک نے صدر اوباما سے پاکستان کے ساتھ سفارتی طریق کار اپنانے کا مطالبہ کیا تو ان کی نہ سنی گئی۔ ایبٹ آباد کے واقعے کے بعد امریکہ نے پاکستان کے ساتھ دوست کے بجائے دشمن کی طرح سلوک شروع کر دیا، یکجا ہونے کو دباوٴ کی پالیسی سے تبدیل کردیا گیا۔ نصر کے مطابق تعلقات بدتر کرکے انہیں بہتر بنانے کی یہ پالیسی بے سود ثابت ہوئی۔ ان کا واشنگٹن کی افغانستان کے حوالے سے پالیسی کاتجزیہ غورطلب ہے۔ نصر نے امریکی پالیسی کے نشیب و فراز کا احاطہ کیا ہے، جب اوباما نے2009ء میں افغانستان میں طاقت کے استعمال کی اجازت دی تو اس وقت ہالبروک و دیگر نے افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل پر زور دیا، حالانکہ طالبان نے بھی اپریل2009ء میں مذاکرات کیلئے رضامندی ظاہر کی لیکن سفارتکاری کا راستہ اختیار نہیں کیا گیا۔ جب اوباما نے افغانستان سے2014ء میں امریکی افواج کی واپسی کا اعلان کیا تو آخری پیشرفت پر واشنگٹن کا اثر زائل ہوتا نظر آیا۔ انخلاء کے وقت امریکہ نے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہا۔
کتاب کے اختتام پر نصر صاحب نے امریکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نہ ہی امریکہ افغانستان میں جنگ جیتا اور نہ ہی اس نے مذاکرات سے مسئلے کا کوئی حل نکالاہے۔ وہ صرف اس امید پر اپنے ہاتھ جھاڑ کر کھڑا ہوگیا ہے کہ اس کی روانگی پر قدرے پُرسکون ماحول ہوگا اور اس کے انخلاء کے بعد آنے والی ناگہانی صورتحال پر اسے موردِالزام نہیں ٹھہرایا جاسکے گا۔ قارئین کو اس کتاب کا ضرور مطالعہ کرنا چاہئے خاص طور پر وہ لوگ جو امریکہ کی(AFPAK)پالیسی سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور وہ جو اوباما کی خطے میں خارجہ پالیسی جاننے میں دلچسپی رکھتے ہیں جسے نصر صاحب نے اپنے تجریئے کے ساتھ کتاب میں رقم کیا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں