آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
الیکشن کے نتیجہ میں عوام کا بھلے کوئی بھلا نہ ہو لیکن چند دنوں کیلئے مفت روٹی ،پانی اور رونق میلے کا بندوبست ضرور ہو گیا ہے ۔ عوام کے منہ سے نوالے چھیننے والے الیکشن کے دوران دسترخوان کھول دیتے ہیں کہ کھاؤ جی بھر کے کھاؤ، جی بھر کے گراؤ کہ اس کے بعد صرف ہم نے ہی تو کھانا گرانا ہے ۔ ابھی چند روز پہلے ہی میں ٹی وی پر ایک ”انتخابی دعوت “ کے شرمناک مناظر دیکھ رہا تھا جن میں خواتین کی فری سٹائیل ریسلنگ قابل دید تھی ۔ سچ یہ ہے کہ اس طرح تو بھوکے جانور بھی خوراک پر نہیں جھپٹتے جیسے چیلوں کی مانند” سیاسی صدقے “ کی بوٹیوں پر یہ بیبیاں جھپٹ رہی تھیں ۔انسانیت کی تذلیل سے بھرپور یہ فوٹیج دیکھتے ہوئے مجھے دو شعر بے ساختہ یاد آئے ۔ایک علامہ اقبال کا دوسرا ساحر لدھیانوی کا ، اقبال کیونکہ ”شاعر مشرق “بلکہ ”شاعر مشرق و مغرب “ ہیں اس لئے پہلے ان کا شعر ہو جائے
الٹنا پلٹنا پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یعنی مقصد مرغن غذاؤں اور مشروبات پر جھپٹنا وغیرہ نہیں …لہو گرم رکھنے کا تھا اک بہانہ جبکہ لہو کے بارے میری عاجزانہ سی لاجک یہ ہے کہ اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ لہو ٹھنڈا ہے یا گرم … اصل بات یہ کہ لہو سفید نہیں ہونا چاہئے ۔
دوسرا شعر ہے ساحر لدھیانوی کا
مفلسی حس لطافت کو مٹا دیتی ہے
بھوک آداب

کے سانچوں میں نہیں ڈھل سکتی
بات کسی ایک پارٹی کے ورکرز کی نہیں …ہر پارٹی کے ورکر کا یہی حال ہے کہ کھانا پی پی پی کا کھلے، ن لیگ کا ہو یا پی ٹی آئی کا،ہمارا اجتماعی بھوکا پیٹ دنیا کے سامنے ننگا ہو جاتا ہے کہ صدیوں سے یہ ظالم بھوک ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہی ۔ سر تا پا بھوک ہی بھوک ہے ۔فرق ہے تو صرف اتنا کہ
یہ پی پی پی کے بھوکے ہیں
وہ ن لیگ کے بھوکے ہیں
کمال دیکھو کہ بھوکے آپس میں بٹے ہوئے ہیں اور انہیں بھوکا رکھنے والے آپس میں ملے ہوئے ہیں ۔ ان کے درمیان جھگڑا ہے تو صرف اس بات پر کہ اس بار تم نے انہیں بھوکا مارنا ہے یا ہم نے ؟ اس بار ہمارے پیٹ بھرنے ہیں یا تمہارے؟ میں نے برسوں پہلے بار بار یہ اپیل کی تھی کہ ظالمو! کچھ اور نہیں کر سکتے تو اس ملک میں بھوک ہی برابر بانٹ دو لیکن ظاہر ہے حکمران طبقوں کو یہ مشورہ پسند نہیں آیا ۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ جب کبھی غیر ملکی بالخصوص مغربی سفارتکار پاکستانی ٹی وی چینلز پر غیوروباشعور پاکستانیوں کو روٹیوں، بوٹیوں اور مشروبات کی بوتلوں پر جھپٹتے ، ایک دوسرے سے چھینتے، گراتے دیکھتے ہوں گے تو کتنا ہنستے ہوں گے اور کیا سوچتے ہوں گے کہ ” اسلام کے قلعہ “ کے یہ باسی کیسے ” ایٹمی بھوکے “ ہیں ۔
پیٹ میں روٹی نہیں، ملک میں بجلی پانی گیس نہیں، تھانوں میں دادرسی نہیں، عدالتوں میں انصاف نہیں ، ہسپتالوں میں علاج نہیں سکولوں میں مویشی ہیں طلبہ نہیں لیکن ان کے ہاتھوں میں ایٹم بم اور میزائل بہت ہیں، آنکھوں میں نشاط ثانیہ کے خواب بہت ہیں۔ سچ یہ ہے کہ سر سے پاؤں ک جھوٹ، ریاکاری، منافقت اور مارو ماری کے مناظر ہیں لیکن ان کی مونچھیں سو فیصد ”نتھو لال “ جیسی ہیں ۔ قد کوڈو سے بھی چھوٹا لیکن مونچھیں عالم چنا سے بھی لمبی؟
قارئین !
معاف کیجئے میں ندامت، ،خجالت اور درد کی لہروں کے ریلے کی زد میں موضوع سے ذرا دور نکل گیا کہ آج تو مجھے صرف المیہ اور طربیہ قسم کے انتخابی اشتہارات پر آپ کی توجہ درکار تھی ۔
یوں تو بلے، تیر، شیر، سائیکل، ترازو وغیرہ جیسے انتخائی نشانوں کے ساتھ درجنوں قسم کے اشتہار مختلف ٹی وی چینلز پر دھڑا دھڑ چل رہے ہیں لیکن دو اشتہاروں کا جواب نہیں جن میں سے ایک ٹریجڈی کی انتہا اور دوسرا کامیڈی کی انتہا ہے ۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے ”بھٹو کی بیٹی آئی تھی “ کے عنوان سے چلنے والا اشتہار دیکھ کر جان شکنجے میں کراہتی روتی اور سسکتی محسوس ہوتی ہے ۔ میرے قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ مجھے پیپلز پارٹی اور بھٹوز کے سحر شکنجے سے رہا ہوئے مدتیں بیت گئیں ۔ صدر زرداری کی 5-6 INVITATIONSمیں سے کسی ایک پر بھی میں نے ”لبیک “کبھی نہیں کہا کہ جس گاؤں نہیں جانا اس کا راستہ کیا پوچھنا لیکن ”بھٹو کی بیٹی آئی تھی “ والا ایڈ دیکھ کر میری ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی اور آنکھوں میں نمی نجانے کہاں سے آ گھسی۔ میری اہلیہ سو فیصد ہاؤس وائف اور سیاست سے مکمل طور پر لاتعلق لیکن بچوں کی طرح بلک بلک کر اس طرح روئی کہ چپ کرانا مشکل ہو گیا ۔ میں نے کافی لوگوں سے نوٹس ایکسچینج کئے تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ اس اشتہار نے ٹھٹھرے ہوئے جیالوں میں زندگی کی حرارت پیدا کر دی ہے ۔
دوسرا اشتہار جو کامیڈی کی انتہا ہے وہ بھی ہے تو پیپلز پارٹی کی طرف سے لیکن اس میں فوکس ”معطل “ خادم اعلیٰ شہباز شریف پر ہے جو اپنے مخصوص ہذیانی ، ہیجانی ، طغیانی، طوفانی اور اپنے تئیں عوامی انداز میں چار مختلف موقعوں پر لوڈشیڈنگ کے حوالہ سے چار مختلف ،متضاد دعویٰ داغ رہے ہیں ۔
کہیں 6ماہ میں لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کی خوشخبری
پھر ڈیڑھ سال میں لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کی بڑھک
کہیں دو سال میں لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کا دعویٰ
اور پھر تین سال میں لوڈشیڈنگ سے نجات دلانے کا اعلان اور بونگی، کامیڈی کی انتہا یہ کہ شہباز یہ کہنے سے بھی باز نہ آئے کہ …”اگر میں ایسا نہ کر سکا تو میرا نام شہباز شریف نہیں “ ہر وہ شخص جو فکری طور پر غلام نہیں ہو گا، جس کا ضمیر زندہ اور ذہن صحت مند ہو گا … اس اشتہار کے بعد شریف سٹائیل سٹے باز گورننس کا اندازہ لگا سکتا ہے جس کا ہر کام نمائشی، آرائشی اور سطحی ہوتا ہے ۔ انہیں تو ترجیحات کی”ت“ بھی معلوم نہیں۔ اربوں روپے کا ستیاناس کرکے اک بس چلائی اور بغلیں یوں بجا رہے ہیں جیسے” CURIOSITY“ کو مریخ پر پہنچا دیا ہو ۔شہر کے حسن کو گنہایا اور الگ …سستی روٹی سے لیکر دانش سکولوں کے انتہائی غیر دانش مندانہ فیصلے تک ہر جگہ ڈرامہ، کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو لوڈشیڈنگ والے اس جھوٹ درجھوٹ در جھوٹ درجھوٹ کے بعد یہ ووٹ مانگنے کی جرات نہ کرتے لیکن …بے شک جیسی قوم ہو ویسے حکمران ان پر مسلط کر دیئے جاتے ہیں ۔ الیکشن ہوگے تو اس کے نتائج فیصلہ کریں گے کہ ہم کیسی قوم ہیں ۔ بائی دی وے یہ الیکشن کمیشن کیسا ہے جو دروغ گوئی، گپ بازی کے اس عظیم الشان ناقابل تردید مظاہرہ کے بعد بھی ”صادق و امین “ جیسے سرٹیفکیٹ پر مصر ہے ۔ نہ صادق نہ امین نہ تخلیق نہ ذہین!
لوگو! تم ہی کچھ کر سکتے ہو تو کرلو ورنہ باقی تو اس دھوکہ منڈی میں میرے اس شعر جیسا حال ہی ہے
سب آنکھ کا دھوکہ ہے روانی تو نہیں ہے
دریا میں فقط ریت ہے پانی تو نہیں ہے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں