آپ آف لائن ہیں
جمعہ11؍ربیع الثانی 1442ھ 27؍نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میرے ایک دوست ہیں، اُن کی جب ضرورت نہ ہو تو وہ آن موجود ہوتے ہیں لیکن اگر کبھی سوئے اتفاق سے اُن کی ضرورت پڑ جائے تو وہ ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ یہی حال موسمِ سرما کا ہے، مجھے اِن دنوں اُس کی سخت ضرورت ہے کہ ایک مہینہ قبل ایک گرم سوٹ تحفے میں وصول کر چکا ہوں مگر سردیاں ہیں کہ آنے کا نام ہی نہیں لے رہیں۔ اِس دوران میں نے دو تین دفعہ ’’اجتہاد‘‘ سے کام لینے کی کوشش کی مگر اُن تمام بدنصیبوں نے اُسے بدعت قرار دے کر میرے ارادوں پر پانی پھیر دیا جن کے پاس سوٹ نہیں ہیں۔ مثلاً چند روز پیشتر ٹھیک ٹھاک بارش ہوئی، جس سے موسم خوشگوار ہو گیا، میں نے موقع غنیمت جانا اور سوٹ پہن کر گھر سے نکلا۔ ابھی تھوڑی دور ہی گیا ہوں گا کہ حاسدین نے فقرے کسنا شروع کردیے۔ اِس طرح چند روز پیشتر ذرا ہوا چلنے پر میں نے ایک دفعہ پھر یہ سوٹ نکالا، مجھے دوپہر کو تھوڑی بہت گرمی تو محسوس ہوئی، پسینے کے کچھ قطرے بھی پیشانی پر نمودار ہوئے مگر اُس کے لئے میں نے جیب میں رومال رکھا ہوا تھا۔ چنانچہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد پسینہ پونچھ لیتا تھا۔ اب اگر دیکھا جائے تو سوٹ پہننے کے جملہ نتائج خود میں بھگت رہا تھا یعنی میں اپنی جان پر کھیل رہا تھا، کسی کو کچھ نہیں کہتا تھا مگر یہاں بھی یار لوگ خبثِ باطن کے اظہار سے باز نہ آئے اور کچھ ایسی نازیبا باتیں کیں کہ پیشانی پر نمودار ہونے والے قطروں کے پونچھنے کے لئے رومال کافی نہ رہا کہ اب یہ قطرے عرقِ ندامت کی صورت بھی اختیار کر چکے تھے۔ میں نے آئندہ کئی روز اِس سوٹ کو گھر سے باہر قدم نہیں رکھنے دینا۔ اِنہی دنوں اپر کلاس سوسائٹی کے ایک ڈنر میں جانے کا اتفاق ہوا، یہ بہترین موقع تھا کہ سوٹ کو ’’اظہارِ خیال‘‘ کا موقع دیا جائے۔ چنانچہ میں نے ایک دفعہ پھر یہ سوٹ زیب تن کیا مگر معلوم ہوا کہ اب خاندانی لوگ بھی کمی کمینوں کی طرح شلوار کرتہ اور جیکٹ استعمال کرنے لگے ہیں چنانچہ اُنہوں نے بھی مجھے سوٹ میں دیکھ کر ناک بھویں چڑھائیں البتہ ایک نجیب الطرفین بزرگ نے مجھے سراہتی نظروں سے دیکھا، سوٹ کو ٹٹولا، سلائی کی تعریف کی، البتہ ایک مشورہ دیا کہ برخوردار شام کے وقت ڈارک رنگ کا سوٹ پہنتے ہیں، تم سرخ رنگ کا اِس طرح پہن کر آئے ہو جیسے یہاں بُل فائٹنگ کے لئے آئے ہو۔ یہ کہہ کر اُنہوں نے میری طرف دیکھا تو اُن کے چہرے کے تاثرات سے اندازہ ہوا کہ آج تک وہ بُل (BULL)کا ذکر یوں ہی کرتے آئے ہیں۔ آج صحیح موقع پر کہا کیونکہ میرے غیض و غضب سے بھرے ہوئے چہرے کی صورت میں بُل انہوں نے آج پہلی دفعہ دیکھا ہوگا۔

اِن پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنے کے بعد اب میری جملہ توقعات 15اکتوبر سے وابستہ تھیں کیونکہ انگریز کے دور میں 15اکتوبر سے سرکاری دفتروں میں پنکھے بند کردیے جاتے تھے اور یوں موسم سرما کو اِس تاریخ سے باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا جاتا تھا۔ میرا خیال تھا کہ انگریز سے آزادی کے بعد بھی میرے ہاں تمام کام انگریز کے بنائے ہوئے ضابطوں کے عین مطابق انجام پا رہے ہیں لہٰذا موسم کے سلسلے میں بھی انگریز بہادر کا حکم چلے گا مگر میں بھول گیا تھا کہ موسموں پر اختیار تو انگریز کو خود اپنے ملک میں بھی حاصل نہیں ہو سکا،چنانچہ 15اکتوبر بھی گزر گیا ہے مگر دیسی لوگ ابھی تک وہی ملبوسات پہنے پھر رہے ہیں جو میری قوم کی ترقی میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ اگر آپ کو میرے اِس بیان پر شبہ ہو تو انگریز کے زمانے کے کسی بھی خانسامے یا خان بہادر سے بات کرکے دیکھ لیں، وہ آپ کو انگریز دور کی برکات گنوائے گا اور اُن کی ترقی کے مظاہر میں سے وہ سب سے زیادہ مرعوب ان کے کوٹ پتلون سے ہوگا۔ چنانچہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ اِس خاندان کے لوگ نیکر میں ملبوس اپنے گورے چٹے بچے کو پیار سے ہوا میں اچھالتے ہوئے یہی کہتے ہیں ’’ابا جی، میرا بیٹا تو کسی انگریز کا بیٹا لگتا ہے‘‘۔

سوٹ کے سلسلے میں ایک اہم بات تو میں آپ کو بتانا بھول ہی گیا اور وہ یہ کہ یہ سوٹ میرے انکل نے، مجھے لندن سے بھیجا تھا بلکہ لگتا تھا میرے جسم کی جسامت اور بناوٹ کے عین مطابق ہونے کی وجہ سے وہ بازار سے یہ سوٹ خریدنے خود گئے تھے، اپنے بیٹے کو نہیں بھیجا تھا، لیکن حاسدین نے اِس سوٹ کی فٹنگ کو غلط رنگ دیا اور مجھ سے پوچھا کہ لاہور کے لنڈے بازار میں اِن کی دکان کس جگہ ہے؟ میں نے نہ صرف اُن کو کھری کھری سنائیں بلکہ اُنہیں اپنے اُن جوتوں کے بارے میں بھی کچھ نہ بتایا جو میرے ایک اور انکل نے عین میرے ناپ کے مطابق امریکہ سے بھیجے تھے کہ کہیں احساسِ کمتری کے مارے ہوئے لوگ اُسے بھی نیا رنگ نہ دیں اور یوں مجھے بھی اپنی معاشرتی سطح پر کھینچ لائیں۔ بہرحال سردیوں کا جتنا انتظار کرنا تھا، وہ میں نے کرلیا، سوٹ کے سلسلے میں جتنے مہنے میں نے سننا تھے، وہ سن لئے لیکن اب مجھ میں انتظار کی مزید تاب نہیں رہی، اب تو مجھے سوٹ پہننے کے لئے اگر کوئی تحریک بھی چلانا پڑی تو چلائوں گا اور اِس ضمن میں کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا بلکہ میرے آٹھ دوست اور بھی ہیں جن کے انکلز نے کئی ماہ پہلے سوٹ اُنہیں بھیجے تھے کہ سردیوں میں پہنیں گے۔ چنانچہ میرا ارادہ ایک اتحاد بنانے کا ہے جس کا مطالبہ یہ ہوگا کہ ہم لوگ سوٹ پہننے کے لئے سردیوں کا انتظار نہیں کر سکتے لہٰذا مڈٹرم ونٹرکا اعلان کیا جائے، دعا کریں یہ مطالبہ منظور ہو جائے۔

تازہ ترین