• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سزائے موت کے ملزم سجاد حسین کو 18 سال بعد بری کر دیا، عدالتِ عظمیٰ کے جسٹس منظور ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

ملزم سجاد حسین پر کلاشنکوف سے فائر کر کے ایک شخص کو قتل کرنے کا الزام تھا۔

ملزم کے وکیل نے عدالتِ عظمیٰ کو بتایا کہ ملزم سے کلاشنکوف بھی برآمد نہیں ہوئی۔

جسٹس منظور ملک نے استفسار کیا کہ یہ واقعہ کتنے گھنٹے کے بعد رپورٹ ہوا؟

ملزم کے وکیل نے جواب دیا کہ یہ واقعہ 56 گھنٹے کے بعد رپورٹ ہوا۔

جسٹس منظورملک نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ مدعی تھانے گیا پھر بھی بروقت رپورٹ درج نہیں ہوئی۔

ملزم کے وکیل نے بتایا کہ اس کیس میں وجۂ عناد بھی ثابت نہیں ہو سکی۔


جسٹس منظور ملک نے استفسار کیا کہ اس بندے کا کیا قصور ہے کہ اس نے اتنی بڑی سزا کاٹ لی؟

ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے ملزم سجاد حسین کو سزائے موت سنائی تھی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے ملزم کو بری کر دیا۔

قومی خبریں سے مزید