آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ شوال المکرم 1440ھ 19؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
11مئی کے انتخابات سے قبل ہونے والی پُرتشدد کارروائیوں کے باعث ایک مرتبہ پھر قومی سلامتی کی ہمہ گیر تزویر کی ضرورت ابھر کر سامنے آئی ہے، جو کہ فی الحال موجود نہیں۔ ہمارے پاس دفاعی، خارجی اور معاشی پالیسیوں سمیت ملک میں امن و امان کیلئے اندرونی تزویرات تو موجود ہیں تاہم ان سے قومی سلامتی کی تذویر مرتب نہیں ہوتی۔ قومی سلامتی کی تزویر میں پالیسی کے یہ اجزاء نظم وضبط کے ساتھ واضح طور پر ترجیحات اور اہداف کی عکاسی کرنی چاہئے۔ ایک مناسب تذویر تسلسل کے ساتھ اہداف کو ذرائع سے منسلک کرتی ہے۔
قومی سلامتی کی تزویر عوامی امنگوں کی ترجمان ہونی چاہئے اور اسے عوامی حمایت بھی حاصل ہونی چاہئے۔ نئی حکومت کی جانب سے محفوظ و مستحکم پاکستان کے حصول کیلئے ایسی تزویر وضع کرنا اولین ترجیح ہونی چاہئے جس میں تزویری پالیسیوں کی سمت متعین کی جائے۔ ملک کو اندرونی بیرونی، نرم و سخت، پرانے اور نئے خطرات سے تخفظ دینا ہوگا۔ ہمہ گیر سلامتی کے حصول کا مطلب قومی اتفاق رائے حاصل کرنا، سیاسی و معاشی استحکام حاصل کرنا، دہشت گرد حملوں کے خطرات کو ختم کرنا، بیرونی خطرات سے نبردآزما ہونا اور انتہا پسندی کا مقابلہ کرنا اور ایک ہی وقت میں عالمگیریت کے فراہم کردہ اقتصادی مواقع سے فیضیاب ہونا ہے۔ استعداد وسائل کی مرہون منت ہوتی ہے لیکن

دفاع اور ترقیاتی ضروریات کے مابین توازن قائم رہنا چاہئے وگرنہ دوسری صورت میں سلامتی محض خسارے سے دوچار رہے گی۔ آج وطن عزیز کی سلامتی کو پیچیدہ خطرات لاحق ہیں، جس میں روایتی اور غیر روایتی یا غیر متناسب خطرات شامل ہیں۔ سب سے بڑا خطرہ اندرونی ہے لیکن پاکستان کے بیرونی خطرات میں غیر حل شدہ علاقائی تنازعات، پڑوس میں جاری جنگ اور عالمی سطح پر رونما ہونے والی جغرافیائی سیاسی تبدیلیاں ہیں۔
کچھ خطرات پاکستان کی ماضی کی پالیسیوں کا نتیجہ ہیں جبکہ کچھ دوسری ریاستوں اور غیر ریاستی عناصر کی کارستانیوں کے باعث وقوع پذیر ہوئے۔ سب ہی یہ مانتے ہیں کہ قومی سلامتی کا تصور محض عسکری طور پر ریاست کی جغرافیائی سرحدوں کو تحفظ دینے کا نام نہیں بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر ایک ہمہ گیر تصور ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اسے اصول تو مانا جاتا ہے لیکن عمل اس کے برعکس کیا جاتا ہے۔ اس کے ادراک کا مظاہرہ قومی قائدین کی لفاظی اور ملٹری اکیڈمی کی پاور پوائنٹ پریذنٹیشن میں ہوتا نظر آتا ہے۔ قومی ترجیحات میں اس کی عکاسی ہوتی ہے نہ ہی اس کے لئے کوئی ادارہ جاتی کارروائی عمل میں آتی ہے۔ سیکورٹی امور کے فیصلے غیر مستقل اور بے ربط رہے اور ان پر عملدرآمد میں کوئی امتزاج دیکھنے میں نہیں آیا۔ سیکورٹی پالیسی ردِعمل کی بنیاد پر مرتب کی گئی جس میں نہ ہی اتفاق رائے اور نہ ہی تسلسل پایا گیا۔ سول اور ملٹری قیادت ادارتی تبدیلیوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہیں کیونکہ نئے ڈھانچے میں انہیں طاقت ہاتھ سے نکل جانے کا یقین ہوتا ہے۔ اگلی حکومت کیسے یہ اہم ترین معاملہ طے کرے گی؟ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے انتخابی منشور سے یہ واضح نہیں کہ وہ کس طرح پاکستان کی سیکورٹی مسائل سے نبردآزما ہوں گی۔
سب ہی زور دیتے ہیں کہ اندرونی اور بیرونی سلامتی منقسم ہے لیکن پھر با ربط مسائل سے بھی تو نمٹنا ہے۔ تمام بڑی جماعتوں کے منشور دہشت گردی کو شکست دینے پر زور دیتے ہیں لیکن اس ہدف کو حاصل کرنے کے ذرائع کی نشاندہی نہیں کرتے۔ پیپلزپارٹی کا انتخابی منشور قومی سلامتی کا وعدہ کرتا ہے لیکن کیسے، اس کی وضاحت موجود نہیں۔ اس میں اس بات کی بھی وضاحت موجود نہیں کہ ان کی حکومت کیونکر پانچ سال میں قومی سلامتی کا حصول ممکن نہ بناسکی۔ ن لیگ کا منشور قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کا مکمل جائزہ لینے کا عہد کرتا لیکن اس کی وضاحت سے عاری ہے۔ تحریک انصاف کے منشور میں قومی سلامتی کا کثیرالزاویہ تصور پیش کرنے کا ذکر ہے تاہم وضاحت اس میں بھی موجود نہیں ہے۔ آئندہ حکومت کو سیکورٹی کی ابتر صورتحال بہتر بنانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے اور پھر اسے فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ ملک کو قومی سلامتی کی تذویر کے بغیر چلانا چاہتی ہے یا پھر اس حوالے سے ایک پُرعزم کاوش کرکے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچاکر اس کا نفاذ عمل میں لاتی ہے۔
سب سے بنیادی اصول یہ اپنایا جانا چاہئے کہ ہماری خارجہ اور قومی سلامتی کی پالیسی ملک میں ہی ترتیب دی جائے۔ بیرونی خطرات سے نبردآزما ہونے کیلئے ہمیں اندرونی طور پر مضبوط ہونا پڑے گا۔ قومی سلامتی کا تصور اس مصمم یقین کے گرد گھومتا ہے کہ ملک کی معیشت کی بحالی اور ترقی امن و امان کی مرہون منت ہے۔ معیشت کی بحالی اولین ترقی ہونا چاہئے لیکن معاشی سلامتی کا دارومدار حقیقی امن پر ہوتا ہے، جس کے لئے امن و امان کو لاحق خطرات کو ختم کرنا ہوتا ہے۔ جس سے مراد اندرونی وسائل کو بروئے کار لاکر توانائی کے بحران پر قابو پانا اورتعلیمی ایمرجنسی لگاکر آبادیاتی تغیر کے ثمرات سے فائد اٹھانا اس سے قبل آبادیاتی تبدیلی رحمت کے بجائے زحمت بن جائے۔ عسکریت پسندی کے خلاف سوات میں ہونے والی مہم سے طالبان کے انخلاء سمیت کچھ فوائد تو حاصل ہوئے لیکن تمام کاوش کا منبع آگ بجھانے کی حد تک کے اقدامات ہی تھے نہ کہ اتفاق رائے پر مبنی تسلسل کے ساتھ جامع عملدرآمد کرنا۔ نیٹو کے افغانستان کے انخلاء کے موقع پر پاکستان کو ایک ایسی سیاسی اور عسکری تزویر متعین کرنی چاہئے جس سے2014ء تک افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے مابین رابطوں کے جال کا قلع قمع کیا جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں