آپ آف لائن ہیں
منگل5؍جمادی الثانی 1442ھ 19؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیا کشمیر میں رائے شماری قابل عمل ہے…!

تحریر:غلام نبی فائی۔۔۔لندن
ہندوستان رائے شماری کے انعقاد کی کسی بھی ایسی تجویز کو قبول کرنے سے انکار کرتا رہا ہے جس میں اس سے مطالبہ کیا گیا ہو کہ وہ اپنی فوج کا زیادہ تر حصہ کشمیر سے واپس بلالے۔ یہ نظریہ کہ جموں وکشمیر کی حیثیت سے متعلق تنازع صرف عوام کی مرضی کے مطابق ہی طے کیا جاسکتا ہے ، جس کاتعین صرف آزاد اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقہ کار پر عمل کر کے لوگوں کی خواہشات کے مطابق ہی کیا جاسکتا ہے ، یہ پاکستان اور ہندوستان دونوں کے موقف کی مشترکہ بنیاد تھی۔ اس کی تائید اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کسی بھی اختلاف رائے کے بغیر کی اور اس کو امریکہ ، برطانیہ اور دیگر جمہوری ریاستوں کی نمایاں حمایت حاصل تھی۔ یہ تنازع بنا جب ہندوستان کو یہ احساس ہوا کہ وہ عوام کا ووٹ نہیں جیت سکتا۔ جب برطانیہ نےہندوستان میں اپنی سلطنت ختم کی تو سوال یہ پیدا ہوا کہ اقتدار کس کو منتقل کیا جائے گا؟ یہ الیکشن کے ایک عمل کے ذریعے طے کیا جانا تھا۔ نیشنل کانگریس پارٹی نے ہندو اکثریتی علاقوں میں بھاری اکثریت سے ووٹ حاصل کیے اور مسلم اکثریتی علاقوں میں مسلم لیگ پارٹی نے بھاری کامیابی حاصل کی ۔ برطانیہ ، کانگریس اور لیگ کے ذریعے طے شدہ سہ فریقی معاہدے کے ذریعے ، برٹش انڈیا کو دو ریاستوں ہندوستان (ہندو اکثریتی

علاقوں) اور پاکستان (مسلم اکثریتی علاقوں) کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ ان علاقوں کی تقسیم براہ راست برطانیہ کے زیر انتظام نہیں ہو سکتی تھی ، بلکہ برطانوی بالادستی کے ما تحت مہاراجائوں ( مقامی حکمرانوں) کے ذریعہ بھی اس کا تعین کیا جانا تھا۔ ان علاقوں کو ، جن کی تعداد 565 اوران کا حجم چھوٹی چھوٹی زمینوں سے لے کر ملک کے سائز تک کے علاقوں کے مساوی تھا، ان کو ریاستیں کہا جاتا تھا۔ یہ اصول جو برٹش انڈیا کی تقسیم کے بعد منطقی طور پر بنایا گیا تھاجن کے تحت یہ شاہی ریاستیں (ا) خواہ وہ ایک یا دوسرے سے الحاق کرتی ہیں اور (ب) لوگوں کی الحاق کی خواہش دیکھے بغیرہندوستان یا پاکستان میں ضم ہوجانے سے پہلے تک آزاد رہ سکتی ہیں۔انضمام کی تکنیکی شکل کے مطابق انضمام حکمران کے ذریعہ الحاق کے معاہدے پر دستخط کرنا تھا۔ لیکن یہ عمل کیونکہ ایک فرد کے ذاتی فیصلے پر مبنی تھا تو اس پر عمل نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اگر اس کی مقبولیت نہ ہوتی تو لوگ بغاوت کریں گے اور بین الاقوامی تنازع کھڑا ہوجائے گا۔ در حقیقت ، 565 میں سے صرف تین ریاستوں کے معاملات میں تنازعات تھے۔ ان میں سے دو ریاستوں حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ میں حکمران مسلمان تھے جبکہ اکثریت ہندو تھی۔ جب حکمرانوں نے مزاحمت کی اور عوامی امنگوں کے برخلاف ہندوستان سے الحاق کے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا توہندوستان کو اپنی فوج بھیجنے اور علاقوں پر قبضہ کرنے کا جواز مل گیا۔ اس کے فیصلے کو بین الاقوامی سطح پرمنظور کیا گیا۔ کشمیر تیسرا معاملہ تھا۔تمام ریاستوں میں سب سے بڑی اور پاکستان ، ہندوستان ، چین اور افغانستان چاروں ممالک کی سرحد پر واقعہ ہے۔ یہ حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ کے برعکس معاملہ تھا،یہاں حکمران ہندو تھا جبکہ لوگوں کی اکثریت مسلمان تھی۔یہاں غیر روایتی اورمختلف حالات تھے، دیگر تمام ریاستوں کے برعکس ، 1946 میں کشمیر میں حکمران کے خلاف کھلی بغاوت دیکھنے میں آئی۔ 26 اکتوبر 1947 کو اپنے دارالحکومت سری نگر سے فرارہونے کے بعد اس( حکمران) نے ہندوستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بغاوت کو روکنے کے لئے اپنی فوج بھیجے۔ ہندوستان نے یہ شرط رکھی کہ وہ ہندوستان سے الحاق کے معاہدے پر دستخط کرے اور دستخط کا انتظار کیے بغیر ہی ہندوستان نے 27 اکتوبر 1947 کو ریاست میں اپنی فوج بھیج دی۔ یہ عمل کہیں بھی ہونے والے واقعات سے متصادم تھا، جہاں تمام معاملات میں لوگوں کی خواہش غالب تھی، جبکہ ہندوستان جانتا تھا کہ اسے ریاست کے لوگوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اور عالمی رائے عامہ کی طرف سے بھی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا ، لہٰذا ہندوستان یہ اعلان کرنے پر مجبورہوگیا کہ حکمران کے ذریعہ الحاق کا عمل "عارضی" اور "لوگوں کی خواہشات" سے مشروط کیا گیاہے۔8 نومبر 1947 کو ہندوستان کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے وزیر اعظم پاکستان کو تجویز پیش کی کہ:"ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کو اقوام متحدہ سے مشترکہ درخواست کرنی چاہئے کہ وہ جلد سے جلد کشمیر میں رائے شماری کروائے۔ " جب اس تجویز پر بات چیت جاری تھی ، عوام کی افواج (پاکستانی رضا کاروں کے ساتھ ملکر) اور حکمران کی بچ جانے والی فوج (جو اب ہندوستانی فوج کے ساتھ شامل ہوگئی تھی) کے مابین لڑائی ریاست کے مختلف علاقوں میں پھیل گئی۔ بھارت یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے گیا، جیسا پاکستان نے کیا تھا۔ کونسل کے پاس اب اس معاملے پر پہلے ہندوستان کی شکایت اور پاکستان کی جوابی شکایت تھی۔ ان گذارشات میں بہت کچھ تھا جو ہندوستان اور پاکستان کے مابین متنازع تھے ، لیکن رائے شماری کی تجویز نہیں تھی۔ سلامتی کونسل میں 15 جنوری 1948کو اقوام متحدہ میں ہندوستان کے سفیر ، سر گوپا ل سوامی آیانگر کے بیان سے یہ بات واضح ہے،"یہ سوال… چاہے وہ کشمیر ہندوستان سے الحاق کرنے سے دستبردار ہوجائے ، اور یا تو پاکستان سے دستبردار ہوجائے یا اقوام متحدہ کے ممبر کی حیثیت سے داخلے کے دعوے کے حق کے ساتھ آزاد رہے ۔ یہ سب ہم نے کشمیری عوام کے غیر منقول فیصلے کی بات کو تسلیم کیا ہے۔" ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور برطانیہ کی سربراہی میں ، سلامتی کونسل نے 21 اپریل 1948 کو ایک قرار داد منظور کی جس میں "اس اطمینان کے ساتھ کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کی خواہش ہے کہ الحاق کے سوال کا فیصلہ اقوام متحدہ کے ایک کمیشن کے ذریعے کیا جانا چاہئے کہ رائے شماری سے پہلے ہی کشمیر کو فوج سے پاک کرنے کے منصوبے پر عملدرآمدکیا جائے۔ " کس وجہ سے ہندوستان کسی بھی ایسی رائے شماری کے انعقاد کو قبول کرنے سے انکاری تھا جس میں اس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنی فوج کا زیادہ تر حصہ کشمیر سے واپس کرلے۔چونکہ یہ رائے شماری غیر جانبدار نہیں ہوسکتی جب تک کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں اپنی افواج کشمیر سے نکال نہیں لیتے ہیں ، تعطل کو یقینی بنایا گیا تھا۔ یہ تعطل اب 73 سال سے زیادہ عرصہ سے جاری ہے۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور برطانیہ نے سلامتی کونسل کی ان تمام قراردادوں کی حمایت کی جن میں رائے شماری کا مطالبہ کیا گیاتھا۔ ان کے عزم میں اشارہ امریکہ کے صدر ہیری ٹرومن اور برطانیہ کے وزیر اعظم کلیمیٹ اٹلی کی ذاتی اپیل سے ہوا جس میں افواج نکالنے کے معاملے پر اختلافات پر فیصلے رائے شماری کے منتظم و امریکی جنگ کے ایک معروف ہیرو ایڈمرل چیسٹر نیمٹز کے ذریعہ پیش کیاگیا ۔ ہندوستان نے اس اپیل کو مسترد کردیا اور ، بعد میں، کسی امریکی کے رائے شماری منتظم کی حیثیت سے کام کرنے پر اعتراض کیا۔ امریکی سینیٹر فرینک گراہم نے اقوام متحدہ کے نمائندے کی حیثیت سے برصغیر کا دورہ بھی کیا تاکہ رائے شماری سے قبل کشمیر سے فوج کے انخلا کے معاملات پر بات چیت کی جائے۔ بھارت نے ان کی تجاویز کو بھی مسترد کردیا۔ ری پبلکن اور ڈیموکریٹس کے ذریعہ امریکہ کی حیثیت دو طرفہ اور یکساں طور پر برقرار رہی تھی۔ اسی طرح برطانیہ میں بھی ، لیبر اورکنزرویٹو دونوں حکومتوں نے مستقل طور پر اپنے اس موقف کو برقرار رکھا کہ رائے شماری مسئلہ کشمیر کوجمہوری اور پر امن طور پر حل کرنے کا ایک واحد راستہ تھا۔ بھارت کی جانب سے امریکہ ، برطانیہ اور دوسر ے ممالک کے پالیسی سازوں کو اس موقف پر آمادہ کرنے میں بھارت کا یہ ناقص موقف کارگر ثابت ہوا کہ رائے شماری کا تصور ناقابل عمل ہے۔ تاہم ، اس کو حتمی نہیں سمجھا جاسکتا۔ اقوام متحدہ کے زیراہتمام کشمیر میں رائے شماری کے قیام میں کوئی ناقابل تسخیر رکاوٹیں نہیں تھیں۔ عالمی تنظیم نے درپیش انتہائی رکاوٹوں والے حالات میں بھی ، غیرجانبدار امن فورسزکی معاونت سے اپنی نگرانی اور کنٹرول میں انتخابی عمل کی تکمیل کے لئے اپنی اہلیت ثابت کی ۔ اس کی ایک نمایاں مثال نمیبیا ہے جسے سات عشروں تک جنوبی افریقہ کے زیر قبضہ اور کنٹرول میں رہنے کے باوجود پر امن طور پر آزادی دلائی گئی۔ اسی طرح ، مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان صرف اقوام متحدہ کی مداخلت سے ہی آزاد ہوئے۔ دوسری بات، ریفرنڈم یا رائے شماری کے نظریہ کی تشریح کسی توہین کے بغیر ایک یا ایک سے زیادہ حلقہ اسمبلیوں کے انتخابات کے تناظر میں کی جاسکتی ہے جو ریاست کی آئندہ حیثیت یا اس کے مختلف علاقوں کا تعین کرے۔ واحد شرط یہ ہے کہ انتخابات کو کسی دباؤ کے بغیر ، دھاندلی یا دھمکیوں سے بالکل آزاد ہونا چاہئے، اسے اقوام متحدہ کی سر پرستی اور نگرانی میں ہونا چاہئے۔ اس تاریخی بیانیہ سے یہ بات واضح ہے کہ کشمیر میں رائے شماری کے انعقاد کے طریق کار کے بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ اس دوران اقوام متحدہ کی جانب سے کشمیر امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات پر بہت کام کیا گیا۔دونوں اطراف سے فوج کا انخلا ، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی جانب سے رائے شماری کے منتظم کی تقرری ، ان کا عہدہ سنبھالنا، ان کے اختیارات کے تحت انتخابی عمل کا آغاز ، ان کی جانب سے اختیارات کا استعمال ضروری سمجھا گیا ،یہ سب کچھ فریقین مکمل طور پر جانتے ہیں۔ اگر امن کا معتبر عمل شروع کیا جاتا ہے تو ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی تفصیل کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ آخر میں ، یہ کسی مسئلہ کے حل کو درپیش موروثی مشکلات نہیں ہیں ، بلکہ کسی حل کو عملی جامہ پہنانے میں خواہش کا فقدان ہے ، جو مسئلہ کشمیر پر طویل تعطل کا باعث بنا ہے۔ تعطل کا مطلب کشمیری عوام کے لئے ناقابل بیان اذیت اور ہندوستان اور پاکستان دونوں کے لئے ناقابل تصور نقصان ہے۔ اگر اکیسویں صدی غیر منطقی ، ناانصافی اور دہشت کی صدی نہیں بنی اور اس طرح انتشار کی اجازت نہیں دیتی تو ، اس اذیت کو ختم کیا جانا چاہئے اور اس نقصان کا ازالہ کیا جانا چاہئے۔ یہ امن انسانی آبادی کے پانچویں حصہ کے مساوی جنوبی ایشیا کومحفوظ بنا سکے گا ۔ 

یورپ سے سے مزید