اب بھی وقت ہے!
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پر امن معاشرے کے قیام کی اولین بنیاد بقائے باہمی کے اصول کو تسلیم کرنا ہے اس کی مختلف تحریکیں سامنے آتی رہی ہیں کہ کیسے ایک دوسرے کے نظریات کو برداشت کرتے ہوئے باہمی احترام و محبت کو قائم کیا جا سکتا ہے۔ پروفیسر سرور نے اپنی کتاب’’ مولانا عبید اللہ سندھی حالات و افکار‘‘ میں ابن عربی کے اشعار نقل کیے ہیں انسانی معاشرے کی بقا کے لیے کیا کمال کی پکاراور فکر ابنِ عربی نے دی کہ’’ آج کے دن سے پہلے میرا حال یہ تھا کہ جس ساتھی کا دین مجھ سے نہ ملتا میں اس کا انکار کرتا اور اسے اجنبی سمجھتا ۔ لیکن اب میرا دل ہر صورت کو قبول کرتا ہے وہ چراگاہ بن گیا ہے غزالوں کی اور دیر راہبوں کے لیے، آگ پوجنے والوں کا آتش کدہ اور حج کا قصد کرنے والوں کا کعبہ ، توریت کی الواح اور قرآن کا صحیفہ ، میں اب مذہب عشق کا پرستار ہوں عشق کا قافلہ جدھر بھی مجھے لے جائے ۔ میرا دین بھی عشق ہے میرا ایمان بھی عشق ہے‘‘۔ انسانی معاشرے کے لیے کیا امن کا پیغام اس میں موجود ہے، کمال ہے ۔ ایک شاندار صوفیانہ رنگ اور اسی فکر کی سیاسی تعبیر معاشرے کا ایک عادلانہ عمرانی معاہدے میں بندھ جانا ہے ۔ جس کو عرف عام میں دستور یا آئین کہا جاتا ہے جس کی افادیت سے کوئی صائب الرائے شخص انکار نہیں کر سکتا۔ ممکن ہے کہ اس کی تعبیر پر اختلاف ہو جائے مگر اس کی فعال موجودگی پر اختلاف تو سرے سے ممکن ہی نہیں۔ جب معاشرے کے طاقتور طبقات میں اختلاف موجود ہوتا ہے اور اختلاف آئینی دائرے کو پامال کرتے ہوئے آگے نکل جاتا ہے، اختلافات کی نوعیت شدید ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں ریاست کے لیے سماجی ترقی کی اس رفتار کو حاصل کرنا ممکن نہیں رہتا کہ جتنی صلاحیت اس ریاست میں موجود ہوتی ہے ۔ اس وقت وطن عزیز کو بھی اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ماضی کے تلخ حالات و واقعات کا ذکر کرنا درحقیقت زخم کو کھجانے کے مترادف ہوگا ۔لہٰذا اس سے صرف نظر کرتے ہوئے اس کا تجزیہ کرتے ہیں کہ وطن عزیز میں سماجی ترقی کی شرح کو بڑھانے اور برقرار رکھنے کے لئے کیا طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہئے ؟ اس حوالے سے سب سے متوازن اور قابلِ عمل حل 2010 میں نوازشریف نے تجویز کیا تھا ۔ مشرف کی آمریت اختتام کو پہنچ چکی تھی اور اس کے برے اثرات معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بنے ہوئے تھے اور آج بھی بنے ہوئے ہیں ۔ حالات کا باریک بینی سے تجزیہ کرنے والے اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اگر معاشرے کی یہی کیفیت برقرار رہی تو وطن عزیز پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے ۔ نواز شریف سیاست کے سرد و گرم سے اچھی طرح آشنا ہو چکے تھے اور اس کے معاشرے پر اثرات ان کے سامنے تھے ۔ اسی تجربے کی بنیاد پر انہوں نے میثاق پاکستان کے عنوان سے قومی دھارے میں موجود تمام فریقین کو ایک 25 سالہ معاہدہ کرنے کی تجویز پیش کی تھی کہ چاہے اختلافات جتنے مرضی ہو جائیں مگر اس معاہدے سے ،جو تمام کی باہمی گفتگو سے رو بہ عمل میں آنا تھا، کوئی رو گردانی نہ کرے اور نہ ہی کرسکے۔ نہایت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اس وقت کی دیگر سیاسی جماعتیں اس کی افادیت کو سمجھ نہ سکیں اور اس قومی تاریخ کی اہم ترین پیشکش کو جو ملک کا مقبول ترین شخص کر رہا تھا اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ اگر اس وقت ایسا معاہدہ وجود پا جاتا تو آج ہمیں ایک مستقل راستہ اختیار کیے ہوئے کم و بیش 9، 10 برس تو بیت چکے ہی ہوتے۔ یعنی سفر کا ایک بڑا حصہ طے کیا جا چکا ہوتا مگر چلو وقت تو گزر گیا اور گزرا وقت کون واپس لا سکتا ہے مگر اس 25 سالہ معاہدے کی تجویز کی افادیت آج بھی اسی طرح موجود ہے جیسے آج سے دس برس قبل تھی بلکہ اب تو اس کی ضرورت اس وقت سے بھی زیادہ بڑھ چکی ہے ۔ اگر ہم اس وقت پیش کی گئی اس تجویز کے نکات پر ایک نظر ڈالیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے لمحہ موجود کی ہی بات ہو رہی ہے ۔ مسلم لیگ نون کے قائد نے اس وقت اس معاہدے کے ذیل میں جن نکات پر مکالمے اور معاہدے کی دعوت دی تھی ان میں احترام آئین ، معاشی اصلاحات ، کشمیر ، خارجہ پالیسی ، آزاد عدلیہ ،انسانی حقوق اور معاشرے سے جڑے ہوئے تمام معاملات پر باہمی مکالمے اور اس پر قومی حکمت عملی پر اتفاق شامل ہیں ۔ آئین کا احترام تو مسائل کے حل کی چابی ہے اور دیگر تمام نکات اسی کے ذیل میں حل کئے جا سکتے ہیں ۔ ریاستوں میں سیاسی درجہ حرارت بڑھتا گھٹتا رہتا ہے۔ وطن عزیز بھی اس وقت اسی صورت حال سے دوچار ہے۔ اگر کوشش کی جائے تو بامعنی مکالمے کا نہ صرف آغاز کیا جا سکتا ہے بلکہ مکالمے کو نتیجہ خیز بھی بنایا جا سکتا ہے اس امر میں کیا کلام ہو سکتا ہے کہ اس وقت نواز شریف سے زیادہ تجربہ کار سیاستدان موجود نہیں ہے جو کسی بھی بند گلی سے قوم کو نکالنے کا راستہ سب سے بہتر دکھا سکتا ہے ۔یہ بات بھی واضح ہے کہ اس کو توڑنے کی غرض سے مریم نواز کو اس کی کمزوری سمجھا گیا مگر یہ حقیقت آپ سب کے سامنے ہے کہ مریم نواز اس کی طاقت کی علامت بن چکی ہے۔ اگر حالات بدستور غیر یقینی رہے تو پھر وطن عزیز کے حالات کیا ہونگے ؟ اس کا ہلکا سا عکس اس بات میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میں نے گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا کہ جیسے 2019 میں امریکہ نے پاکستان کو مذہبی آزادیوں کے حوالے سے بلیک لسٹ کیا تھا اسی طرح کا امکان موجود ہے اور بدقسمتی سے ایسا ہی ہو گیا کیونکہ دنیا اس کا انتظار نہیں کرتی کہ آپ اپنا گھر کب ٹھیک کریں گے وہ تو اپنا فیصلہ سنا دیتی ہے۔

تازہ ترین