آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 14؍ربیع الاوّل 1441ھ 12؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سربجیت سنگھ کا پروٹوکول معاملہ کچھ اور ہے!!

سربجیت سنگھ کو بھارتی حکومت نے قومی ہیرو کا مقام دیا ہے اور اس کی ارتھی اس شان کے ساتھ اٹھی کہ بڑے بڑے نیتا اور سیناپتی بھی رشک کررہے تھے۔ میت کے لئے پیش فلائیٹ گارڈ آف آنر، آخری رسومات کا سرکاری سطح پر اہتمام، اعلیٰ ترین حکومتی شخصیات کا پسماندگان کے ساتھ اظہار افسوس، راہول جی کا حد سے بڑھا ہوا سوگ سیاپا، پسماندگان کیلئے بھاری مالی اعانت اور سرکاری ملازمتوں کا اعلان، اس قدر غیر ضروری، مصنوعی اور غیرفطری تھاکہ بھارت کے سنجیدہ حلقوں کے کان کھڑے ہوگئے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ڈرامہ اصل میں چین کی جانب سے لداخ میں بڑھتے ہوئے سرحدی دباؤ سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے رچایا گیا ہے۔ 15/اپریل2013ء کو ایک چینی پلاٹون نے لداخ کی متنازع دیپ سنگ ویلی میں 19کلو میٹر اندر آ کر چوکی قائم کرلی تھی۔ بھارت نے سفارتی اور لوکل کمانڈر سطح پر معاملہ سلجھانے میں ناکامی کے بعد اسے دبانے کی جو بھونڈی کوشش کی، وہ سربجیت سنگھ کے واقعے کی صورت میں سامنے آئی۔ ان بھارتی حلقوں کا خیال ہے کہ جاسوسی اور دہشت گردی کے سزا یافتہ مجرم کو، جو پھانسی کے دن گن رہا تھا، پاکستان بھلا قتل کیوں کراتا؟
اسے یہ خواہ مخواہ کی بدنامی سمیٹنے کی کیا ضرورت تھی؟ فی الحقیقت یہ تماشا بھارتی حکومت نے اپنے کسی ایجنٹ کے ذریعے خود رچایا۔ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا،

جموں جیل میں بند ثناء اللہ نامی پاکستانی قیدی کو جواباً کم و بیش اسی انداز سے مروا دیا گیا اور تو اور 13-23/مئی کو اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی کے سالانہ عرس میں شرکت کیلئے تیار بیٹھے پاکستانی زائرین کو بھی عین آخری وقت یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ حکومت ہند ان کی سیکورٹی کی ذمہ داری نہیں لے سکتی۔ دراصل پاکستان مخالف سودا سرحد پار اس قدر مقبول ہے کہ بھارت سرکار جب چاہے بآسانی بیچ سکتی ہے، چنانچہ آندھی چین کی جانب سے اٹھے یا کسی اور طرف سے، مورد الزام پاکستان کو ہی ٹھہرایا جاتا ہے۔
بھارت چین سرحدی تنازع کی تاریخ کم و بیش سو برس پرانی ہے، تبت، چین اور برطانوی ہند کے نمائندوں کے مابین مذاکرات دو برس (1913-14) تک چلتے رہے تھے اور حکومت ہند کے سیکریٹری خارجہ ہنری میکموہن کی کوششوں سے بالآخر شملہ کنونشن پر منتج ہوئے تھے، جس کے تحت برٹش انڈیا اور تبت کے درمیان 890 کلو میٹر طویل بارڈر لائن کھینچ دی گئی۔ جسے تاریخ میں میکموہن لائر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ برطانوی ہند اور تبت کے نمائندوں نے شملہ کنونشن پر دستخط کردیئے جبکہ چینی نمائندے نے اپنے تحفظ کے تحت ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ میکموہن لائر کو غیر ضروری طور پر شمال کی جانب دھکیل دیا گیا ہے جبکہ قانونی طور پر آسام کے بارڈر تک کا علاقہ چین میں شامل ہونا چاہئے، وقتی طور پر بات آئی گئی ہوگی۔ میکموہن لائرکی اس بھولی بسری دستاویز کا چرچا اس وقت ہوا، جب حکومت برطانیہ نے میکموہن لائرٹریٹی کو ایچی سن کلیکشن آف ٹریٹیز کے1937ء کے ایڈیشن میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا جس پر چین کی طرف سے شدید احتجاج ہوا کہ ایک ادھوری دستاویز کو بلا وجہ اہمیت دی جا رہی ہے۔ گو 1947ء میں برطانوی ہند کو آزادی مل گئی۔ انگریز خطے سے نکل گیا مگر اس کے بوئے ہوئے علاقائی مناقشت کے بیج بتدریج بار آور ہوتے رہے۔ چین اور بھارت کے مابین سرحدی تنازعات کم ہونے کے بجائے بڑھتے چلے گئے۔ 1954ء میں بھارت نے متنازع علاقے میں نارتھ ایسٹ فرنٹیئر ایجنسی (نیفام تخلیق کی۔ جسے بعد میں ارونا چل پردیش کا نام دے کر صوبے کا درجہ دے دیا گیا۔ نیفا کے علاوہ مقبوضہ ریاست جموں اینڈ کشمیر کے ضلع لداخ کا بھی چین کے ساتھ تنازع چل رہا ہے۔ 7نومبر 1959ء کو وزیر اعظم چو این لائی نے میکموہن لائرکے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تجویز دی تھی کہ بھارت اور چین کی افواج اس لائن سے 20, 20 کلو میٹر پیچھے ہٹ جائیں۔ یوں 40 کلو میٹر کی نومین لینڈ پیدا ہونے سے فریقین کی مڈبھیڑ کے امکانات کم ہوجائیں گے۔ نئی دہلی میں اس تجویز پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی، نتیجتاً فریقین کے مابین1962ء کا معرکہ ہوا۔ جس میں چین نے نیفا کے تقریباً سارے علاقے پر قبضہ کرلیا تھا اور بعد میں رضا کارانہ طور پر مفتوحہ علاقے سے افواج واپس بلا لی تھی۔
اس وقت بھارت کا موقف یہ ہے کہ ریاست جموں اینڈ کشمیر کے ضلع لداخ کے38ہزار مربع کلو میٹر ایریا پر چین نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔ 1963ء میں پاکستان اور چین کے مابین طے پانے والے سرحدی معاہدے کے حوالے سے بھی نئی دہلی کے تحفظات ہیں۔ جس کے تحت پاکستان کی طرف سے5180 مربع کلو میٹر کا چین کو دیئے جانے والے علاقے پر بھی بھارت اپنا حق جتاتا ہے۔ بھارت کے حساب سے چین نے مجموعی طور پر اس کے43180 مربع کلو میٹر ایریا پر ناجائز قبضہ جما رکھا ہے۔ جس کے جواب میں چین 90 ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل پورے بھارتی صوبہ ارونا چل پردیش پر حق جتاتا ہے۔ 2ہزار مربع کلو میٹر متفرق علاقہ شامل کرکے چین 92 ہزار کلو میٹر بھارتی علاقہ کی ملکیت کا دعویدار ہے۔ چنانچہ ایک دوسرے کے علاقہ پر دعوے اور اس حوالہ سے تند و تیز بیانات اکثر و بیشتر چین اور بھارت ہر دو کی جانب سے جاری ہوتے رہے ہیں اور دونوں ہمسایوں کے دوطرفہ تعلقات میں مستقل تناؤ کا سبب ہیں۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ تاج برطانیہ سے آزادی کے بعد چین کے ساتھ زمینی اور سرحدی تنازعات پاکستان کو بھی ورثے میں ملے تھے جنہیں نہایت دانشمندی کے ساتھ نمٹا دیا گیا اور اس حوالے سے2مارچ 1963ء کو پاک چین سرحدی معاہدہ طے پایا تھا جس پر ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کی رو سے چین نے 1942ء مربع کلو میٹر کے لگ بھگ علاقہ پاکستان کے حوالے کیا اور پاکستان نے شمالی کشمیر اور لداخ کے 5180 مربع کلو میٹر ایریا پر چین کا عمل دخل تسلیم کرلیا۔ مذکورہ پاک چین معاہدہ پاکستان کیلئے دہری اہمیت کا حامل ہے جس کی رو سے اسلام آباد نے نہ صرف بیجنگ کے ساتھ سرحدی معاملات طے کرلئے بلکہ کشمیر کے حوالے سے سیاسی اور تزویری کامیابی بھی حاصل کی۔ پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ کرکے چین نے کشمیر کے حوالے سے دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضہ کو غیر قانونی سمجھتا ہے اور کشمیر کسی صورت بھی بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں۔

ادارتی صفحہ سے مزید