آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍محرم الحرام 1441ھ 17؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
11مئی کے انتخاب میں عوامی فیصلے کو روایتی سیاست کی فتح کہا جا سکتا ہے کیونکہ اس میں ماضی سے ہٹ کر نہیں بلکہ اس کے قریب قریب ہی نتائج مرتب ہوئے، نئی سیاسی کرنوں کے مقابلے میں نشستوں کی بنیاد پر کئے جانے والے سیاسی اتحادوں کو کامیابی نصیب ہوئی۔ انتخابات میں ووٹروں کو تجربہ کار قیادت اور تبدیلی میں سے ایک کا چناوٴ تھا، جس میں سے انہوں نے تجربہ کار قیادت کی پلڑے میں اپنی حمایت کا وزن ڈالا اور دو مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کو کامیابی سے ہمکنار کرایا لیکن ووٹروں نے سیاسی منظر نامے کو ضرور تبدیل کیا جس میں پیپلزپارٹی کو وفاق سے نکال کر صوبے تک محدود کرنا اور اے این پی کا خیبرپختونخوا سے صفایا کیا۔ اس امر کی بدولت سیاسی افق پر عمران خان کی تحریک انصاف کیلئے راہ ہموار ہوئی اور ووٹنگ کی شرح کے اعتبار سے تحریک انصاف 46 سال پرانی جماعت پیپلزپارٹی کو شکست دے کر دوسرے نمبر پر رہی اور خیبرپختونخوا میں فتحیاب بن کر ابھری۔
پنجاب میں ووٹنگ کی شرح کے اعتبار سے تحریک انصاف دوسرے نمبر پر رہی لیکن یہ ووٹ نشستوں میں تبدیل نہ ہو سکے جس کی بڑی وجہ صوبے میں ن لیگ کی حمایت تھی جس نے انہیں یہاں بھاری اکثریت سے نوازا۔ تحریک انصاف نے تعلیم یافتہ متوسط طبقے، شہری علاقوں کے رہائشیوں اور خواتین کو ان کے ڈرائنگ روموں سے

نکال کر انتخابی عمل میں شامل ہونے کی جانب راغب کیا جو انتخابی عمل سے دور رہا کرتے تھے۔ اب ضروری ہے کہ نئی حکومت شہری حلقوں میں اس نئی سیاسی روش اور تبدیلی کی خواہش پر مبنی جذبے کو اپنی پالیسیوں میں جگہ دے۔ نواز شریف کی کامیابی مسلم لیگ کے ووٹ کو یکجا کر کے پنجاب میں دو تھائی اکثریت سے جیت کی مرہون منت رہی۔ نتیجتاً اس کی مخالف جماعت ق لیگ کا ووٹ صوبے میں 5 فیصد تک محدود ہو گیا۔ اب ن لیگ آزاد امیدواروں کی حمایت سے وفاق میں حکومت تشکیل دے سکتی ہے۔ نواز شریف کو عوام نے ملک کو لاتعداد مسائل سے نکال کر حکمرانی کرنے کا مینڈیٹ دیا تاکہ وہ سیکورٹی اور معاشی ابتری کے شکار ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا سکیں۔ لیکن محض پارلیمانی اکثریت مستحکم حکومت کا قیام عمل میں نہیں لاتی بلکہ قائدانہ صلاحیت، وژن، سیاسی تدبر نواز شریف کو ملک کے اندرونی بیرونی مسائل سے نبردآزما ہو کر مملکت خداداد کو آگے لے جانے کا راستہ فراہم کریں گے۔ پنجاب میں بھاری اکثریت جبکہ تینوں صوبوں میں کم نشستوں کے ملنے سے نواز شریف پر یہ آشکار ہو گیا ہے کہ انہیں وفاق کو مضبوط بنانے کیلئے لچک کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ چار میں سے دو صوبوں میں دوسری سیاسی جماعتیں حکومت تشکیل دیں گی جس سے ن لیگ پر مرکز کی پالیسیوں پر اتفاق رائے پیدا کرنے پر دباوٴ پڑنا چاہئے۔ جس سے ملک کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز کو حل کرنے کیلئے صوبائی حکومتوں اور سینیٹ کی معاونت درکار ہوگی، جس میں پیپلزپارٹی کی اکثریت ہے، یہ نئی حکومت کیلئے چوائس نہیں بلکہ سیاسی مجبوری ہوگی۔ نواز شریف نے شوکت خانم اسپتال کا دورہ کر کے اور پشاور میں تحریک انصاف کے حکومت بنانے کے حق کی حمایت کر کے مفاہمانہ اور خیرمقدمی آغاز کیا۔
11مئی پیپلزپارٹی کیلئے ووٹروں کاانتقام ثابت ہوا۔ ایک وقت کی بہت بڑی سیاسی قوت نے خود کو لڑکھڑاتا ہوا دیکھا کیونکہ انتخاب کنندگان نے اس کے رہنماوٴں کو تباہ کن اور اسکینڈلوں سے بھرپور دور کے باعث سزا دی۔ پارٹی کی قیادت سے محروم اور بغیر فہرست کے کی جانے والے مہم انتخابی شکست کی وجہ بنی۔ پیپلزپارٹی قومی اسمبلی کی وہ دوتہائی نشستیں ہار گئی جو اس نے 2008ء میں جیتی تھیں۔ پارٹی کا پنجاب سے صفایا ہو گیا اور وہ اپنے روایتی گڑھ جنوبی پنجاب سے محض دو نشستیں حاصل کر سکی۔ قومی سطح پر اور پنجاب میں اس نے تحریک انصاف سے بھی کم ووٹ حاصل کئے۔ پیپلزپارٹی کے رہنماوٴں کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی 1997ء کے بدترین انتخابی نتائج سے بھی نبردآزما ہو چکی ہے۔ یہاں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس وقت پارٹی کی قسمت چمکانے کیلئے بے نظیر بھٹو موجود تھیں۔ ایسی رہنما کے بغیر پیپلزپارٹی کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے حامیوں میں اپنے پہلے انتخابی امتحان کے حوالے سے بڑی توقعات پیدا کر دی تھیں، نتائج توقعات کے برعکس آئے لیکن پارٹی ایک قومی قوت کے طور پر ابھرکر سامنے آنے میں کامیاب ہوئی۔ اس نے پیپلزپارٹی سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے خیبرپختونخوا میں اکثریت حاصل کی جہاں وہ اپنی پہلی حکومت بنانے کیلئے پرتول رہی ہے۔ اس سے تحریک انصاف کی سیاسی بلوغت کا اظہار ہوتا ہے لیکن اسی موثر طریقے اور ذمہ داری سے عمران خان کو پارلیمینٹ میں حزب اختلاف کا کردار بھی ادا کرنا ہے جو کہ ان کی جماعت کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
انتخابات کے کئی اور بھی نتائج ہیں جن میں سب سے زیادہ تبصرے کی زد میں ووٹنگ کی شرح ہے جو الیکشن کمیشن کے مطابق تقریباً 60فیصد رہی، جو کہ گزشتہ انتخابات سے 16فیصد زیادہ ہے۔ ووٹوں کی شرح کی مذکورہ سطح1970ء کے سوا کبھی دیکھنے میں نہیں آئی، نہ ہی1990ء کی دہائی میں اور نہ ہی 2008ء کے انتخابات میں، جب ووٹنگ کی شرح 44 فیصد کی معقول حد تک تھی۔ گزشتہ ہفتے کے انتخابات میں پنجاب میں ووٹنگ کی شرح کیا 1970ء کے انتخابات کی 69 فیصد کی شرح سے تجاوز کر گئی تھی، اس کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔ ووٹنگ کی شرح میں اضافے کا فائدہ شہری علاقوں کی سیاسی جماعتوں کو ہوتا ہے اور اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔
مسلم لیگ ن کے امیدواروں کی جانب سے زیادہ نشستوں کا حاصل کرنا اس کی تصدیق کرتا ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف نے پنجاب میں پیپلزپارٹی کے مقابلے میں ووٹ بھی زیادہ حاصل کئے اور زیادہ نشستیں بھی اپنے نام کیں۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کا شہری علاقوں میں قدم نہ جمانا اور دیہی علاقوں سے جڑے رہنا اب اس کا انتخابی نقص بن چکا ہے، یہ نقص اسے مستقبل کی نہیں بلکہ ماضی کی جماعت ثابت کرتا ہے۔ انتخابات کا ایک اور کڑا پہلو سیاسی اثرورسوخ رکھنے والے خاندانوں کو بذریعہ بیلٹ بکس مسترد کیا جانا ہے، پنجاب میں ان خاندانواں میں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، کھر اور عابدہ حسین کے خاندان شامل ہیں۔ جس سے اس بات پر مہرتصدیق ثبت ہوتی ہے کہ مشہور اور جاگیردار خاندانوں کے نام اب انتخابی کامیابی کے ضامن نہیں رہے۔
2013ء کے انتخابات کو کئی بڑے سیاستدانوں کی ناکامی کے حوالے سے بھی یاد رکھا جائے گا، جہاں وہ بظاہر آسانی کے ساتھ جیت سکتے تھے۔ جن میں اسفند یار ولی، منظور وٹو، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ، حنیف عباسی، مخدوم شہاب الدین، امیر مقام اور غوث علی شاہ کے نام شامل ہیں۔ انتخابات کا سب سے زیادہ ذلت آمیز پہلو یہ کہ وہ تنازعات سے مبرا نہیں تھے۔ کئی جگہوں پر بے ضابطگیوں نے الیکشن کمیشن کی خراب انتظامیہ کی قلعی کھول دی، جس نے زیادہ وقت معیاری دیکھ بھال کے بجائے اپنی تعریف پر صرف کیا، جس کے باعث احتجاج کی راہ ہموار ہوئی۔ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک) (FAFEN کے مطابق کئی حلقوں میں ووٹنگ کی شرح 100فیصد سے تجاوز کر گئی۔ اب یہ الیکشن کمیشن پر لازمی ہے کہ وہ شواہد کی بنیاد پر درج کرائی گئی شکایتوں کا جواب بے ضابطیگوں کی تحقیقات کرا کر دے۔ ہو سکتا ہے کہ ایسی بے ضابطگیوں کی وجہ سے انتخابات کے مجموعی نتائج نظر انداز نہ ہوئے ہوں لیکن اگر ان شکایتوں کا فوری طور پر مداوا کیا جاتا ہے تو پھر انتخابات کی قانونی حیثیت میں اضافہ ہو گا۔ انتخابات کا سب سے نتیجہ خیز پہلو عوام کی جانب سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کو مسترد کیا جانا ہو سکتا ہے۔کروڑوں ووٹر دہشت گردوں کے حملوں کی دھمکیوں کو ایک طرف رکھ کر پولنگ اسٹیشن گئے اور انتخابات سے قبل پیدا کی گئی تشدد کی لہر کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کر کے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ ووٹروں کی جانب سے اہم پیغام یہ ہے تھا کہ منتخب نمائندوں کو ملک کو آگے لے کر جانے کی ضرورت ہے۔