آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍شوال المکرم 1440ھ 27؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ایک ممتاز سابق بھارتی سیکریٹری خارجہ کے اپنے ملک کے جوہری طرز اور طریقہ کار کے دعوؤں کو کس تناظر میں دیکھنا چاہیے ؟ گزشتہ ماہ دہلی میں ایک تقریر میں شیام سرن نے بھارت کی جوہری پالیسی کے ارتقاء اور اسکی حالیہ صورتحال پر اظہار خیال کیا۔انہوں نے ان خیالات کا اظہاران کے مطابق اپنی ذاتی حیثیت میں کیا۔ لیکن سرن بھارت کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزری بورڈ کے موجودہ چےئرمین بھی ہیں لہٰذا بھارت کے اندر اور باہر بہت سے لوگوں نے ان کے بیانات کو انکار کے باوجود بھارت کی سرکاری پالیسی کے طور پر دیکھا۔ مثال کے طور پر” ٹائمز آف انڈیا“ کے مطابق سرن نے یہ تقریر دہلی کے اعلی سطح کے پالیسی سازوں کی مرضی کے مطابق کی اور اسلام آباد نے دہلی سے سرکاری وضاحت طلب کی۔سرن کے دعوے غور طلب ہیں۔ یہ حیران کن نہیں ہو گا کہ وہ اس بات سے خائف ہیں کہ مغربی ادب میں پاکستان کی اسٹریٹیجک پلانز ڈویژن کے اس کردارکو سراہا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی بھر پور حفاظت کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں یہ اصرار بھی غیر معیاری ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کا پورا اختیار فوج کے پاس ہے ۔ دراصل سرن یہ دیکھنے سے قاصر ہیں کہ ”نیشنل کمانڈ اتھارٹی“ جس کا سر براہ پاکستان کا وزیرِاعظم ہے، پاکستان کی اعلی ترین جوہری قیادت ہے۔ سرن اس حقیقت کو ماننے سے بھی

انکارکرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری پاکستان کے جوہری پروگرام کی سلامتی پر مبنی نوعیت کو تسلیم کرتی ہے۔
اس کے بر عکس وہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ ہندوستان کی جوہری صلاحیت سلامتی پر مبنی ہے نہ کہ وقار پر ، اگرچہ چار دہائیاں گزرنے کے بعدیہ وضاحت بہت دیر سے آئی ہے۔ان کی تقریر کا سب سے زیادہ نتیجہ خیز حصہ وہ ہے جہاں وہ ایک بڑے پیمانے پر جوابی جوہری کارروائی کا عندیہ دیتے ہیں،یعنی(Massive Retaliation) ۔ وہ ایک اسکلیٹری لیڈر پیش کر تے ہیں جو کہ بظاہر ایک سب کنونشنل واقعہ یا دہشت گردی کی کارروائی سے شروع ہوتا ہے۔ اس کے بعد پاکستان بھارت کو روایتی جوابی کارروائی سے روکنے کے لیے اپنے چھوٹے جوہری ہتھیار استعمال کر دیتا ہے۔ سرن خبردار کرتے ہیں کہ بھارت پر کیا جانے والا جوہری حملہ، خواہ وہ Tacticalہو یا اسٹریٹیجک ، اسکا جواب بڑے پیمانے پر جوابی جوہری کاروائی ہوگی۔ وہ پاکستان کو تجویز کرتے ہیں کہ پاکستان اسکو صرف ایک دھمکی نہ سمجھے، بھارت کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے یہی نتائج بر آمد ہونگے۔سرن کے کئی مفروضات قابل ِ سوال ہیں۔ اوّل یہ کہ کیاپاکستان کے میدانِ جنگ میں استعمال ہونے والے جوہری ہتھیار(TNWs)، جوہری جنگ کا باعث بنیں گے۔ سر کاری ترجمانوں نے بارہا وضاحت کی ہے کہ پاکستان اپنے تمام میدانِ جنگ میں قابلِ استعمال زمین سے زمین تک مارکرنے والے جوہری میزائلوں بشمول”نصر“ کواوّلاً ڈیٹرینس کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ان کا مقصد اس ڈیٹرینس کو بحال اور مضبوط کرنا ہے جو کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی روایتی طاقت، بھارت کی اشتعال انگیزکولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرین اور بھارت کے بیلسٹک میزائل ڈیفنس سسٹم کی وجہ سے خطرے میں ہے۔
جہاں تک سرن کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ پاکستان کی جوہری حکمت عملی نے خِطے کا جوہری توازن تبدیل کر دیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اسلام آباد سب سے نچلی سطح پر ”قابلِ اعتماد جوہری ڈیٹرینس“ حاصل کرنے کے لیے پُر عزم ہے۔ اسکی جوہری پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اسکی صلاحیت ہر قسم کی جارحیت اور جنگ کو روک سکے اور اس طرح امن کو برقرار رکھا جا سکے۔ پاکستان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ”قابلِ اعتماد ڈیٹرینس “ کے لیے مناسب روایتی اور جوہری صلاحیت کا تیار کرنا اور برقرار رکھنا ضروری ہے۔
سب سے اہم طور پر سرن کا اسکلیٹری منظر بھارت کی ایک بنیادی مایوسی کو عیاں کرتا ہے وہ یہ کہ پاکستان کے چھوٹے جوہری ہتھیاروں نے ہندوستان کی کولڈاسٹارٹ ڈاکٹرین (CSD)، جو کہ اب فعال آپریشنز کہلاتے ہیں، ان کو نہ صرف چیلنج کیا ہے بلکہ بہت حد تک بے اثر کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ان کے خیالات کا مرکز ہے ، اور وہ چھوٹے جوہری ہتھیاروں کو پاکستان کا جو ہری بلیک میل کہتے ہیں۔ اس طرز ِ عمل سے وہ ہندوستان کی ”محدود جنگ“ کی حکمت عملی کو محفوظ رکھنے اور کولڈ اسٹارٹ کو غیر موثر ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سرن کا یہ مشورہ انتہائی پریشان کن ہے کہ غیر ریاستی عناصر کی دہشتگردی کے نتیجے میں بھارت کو اپنے جوہری صلاحیت کے حامل ہمسائے پر جنگ مسلط کرنے پر غور کرنا چاہیے۔ روایتی جنگ کا مشورہ درکنار ، سرن یہ دھمکی بھی دیتے ہیں کہ اگر پاکستان چھوٹے جوہری ہتھیاروں سے جوابی کارروائی کرے گا تو دہلی بھرپور قوت سے اُس پر ایٹمی حملہ کرے گا۔ یہ ایک غیر دانشمندانہ اور غفلت سے بھرپور نظریہ ہے جس میں اُن کی اِن معاملات کی فہم و فراست کا فقدان عیاں ہے۔ بھرپور ایٹمی جارحیت کی دھمکی دیتے ہوئے سرن شتر مرغ کی طرح پاکستان کی مکمل ایٹمی قوت اور دوبارہ حملہ کرنے کی صلاحیت سے آنکھیں موند رہے۔ یہ بہت اچنبھے کی بات ہے کہ وہ اس مشترک یقینی تباہی کے خطرے سے اتنی غفلت کا اظہار کیسے کر سکتے ہیں۔
سرن کی چھوٹے جوہری ہتھیاروں پر خاص توجہ اور جواب میں بھارت کا بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کی ایک تشریح یہ ہے کہ وہ مغربی قوتوں کے اس خدشے کی ترجمانی کر رہے ہیں کہ چھوٹے جوہری ہتھیاروں سے خطے کے امن کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ یہ پاکستان کے اوپر چھوٹے جوہری ہتھیاروں کو ترک کرنے کے لیے عالمی دباؤ بڑھانے کا حصہ ہو سکتا ہے۔ ایسی غیر ممکنہ صورتحال میں کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرین پھر بحال ہو جائے گی۔
پاکستان کے چھوٹے جو ہری ہتھیاروں کے حاصل کرنے کی وجہ بہت واضح ہے۔ لیکن اسکو دہرانے کی ضرورت اس لیے ہے تاکہ بھارت کی اس پیش رفت کی وجہ سے بڑھتے ہوئے اضطراب کو سمجھا جا سکے۔ پاکستان نے گزشتہ دہائی میں خطے کے اسٹریٹیجک توازن کو خراب کرنے والے اہم عوامل کو پرکھااس میں بھارت اور امریکہ کا سول جوہری معاہدہ دوسرا انڈیا کونیوکلیئر سپلائرز گروپ کا استثنیٰ جس کے تحت بھارت کئی ممالک کے ساتھ جوہری ایندھن کی فراہمی کے معاہدے طے کر پایا ہے ، شامل ہیں۔ اس سے بھارت کی جوہری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اور پاکستان کی سلامتی کو مزید خطرات لا حق ہو گئے ہیں۔ پاکستان نے چھوٹے جوہری ہتھیار بھارت کے اشتعال پر بنانے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ بھارت چاہتا ہے کہ وہ ایک محدود روایتی جنگ لڑ سکے اور پاکستان کی جوہری حد ِ برداشت کو بھی عبور نہ کرے۔ نتیجتاً پاکستان نے جوہری استحکام کو بحال کرنے کے لیے ہندوستان کی اس کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرین کو موثر طور پر چھوٹے جوہری ہتھیاروں سے ناکام بنایا ہے۔
دریں اثناء بھارت کی نئی عسکری حکمت ِ عملی اور اُس کی بیلسٹک مزائل ڈیفنس بنانے کی گیم چینجرزثابت ہو رہے ہیں۔ ایٹمی حدود کو عبور کیے بغیر ایک محدود روایتی جنگ لڑنے کے بھارتی پلان نے پاکستان کو ٹیکٹیکل مرحلے پر بھرپور جواب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔اسلام آباد بھارتی جارحانہ کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرین اور ایٹمی دھوکہ دہی کے خلاف جوہری ہتھیار بنانے پر مجبوراً مائل ہوا ہے۔ پاکستانی میزائل حتف۔9 نے بھارت کے ناپاک عزائم کو مٹی میں ملا دیا ہے۔ ”نصر“ عملاً پاکستانی دفاعی صلاحیت میں ایک اور پرت کا اضافہ ہے۔اس پس منظر میں سرن اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر پاکستان چھوٹے جوہری ہتھیاروں سے محدود جنگ روک سکتا ہے تو بھارت بھی اس امر کا اختیار رکھتا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر اسٹریٹیجک ہتھیار استعمال کر کے جوابی کاروائی کرے۔
لیکن ایسی حکمت عملی زود اثر نہیں کیونکہ ان دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان غیر متوازن اسٹریٹیجک تعلقات ہیں۔ جوہری قوتیں اپنے تعلقات کی وضاحت گیڈر بھبکیوں کی بنیاد پر نہیں کر تیں۔ خطے کی (Nuclearization)سے پیدا ہونے والے مسائل کا واحد حل یہ ہے کہ دونوں ممالک سنجیدگی سے اور تعمیری طرز پر ایک دوسرے کی جوہری پالیسی ، طرز اور حکمت عملی سمجھنے کی کوشش کریں۔ جو ہری مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے اسٹریٹیجک اور روایتی فوجی حلقوں میں قابل بھروسہ اعتماد سازی کے اقدامات معنی خیز ثابت ہو سکتے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے ماہرین کی سطح پر ہونے والے مذاکرات اور سست روی بھی ان پاکستانی کاوشوں پر اثر انداز ہوتی ہے بھارتی حکام عام طور پر پاکستان کی طرف سے تجویز کردہ اسٹریٹیجک تحمل ریجیم سے انکاری رہے ہیں۔ روایتی فوجی توازن ، اسٹریٹیجک تحمل کے اقدامات اور تنازعات کا تصفیہ ، خطے میں استحکام حاصل کرنے کے تین اہم عناصر ہیں اس لیے دہلی کو اِن اسٹریٹیجک استحکام کی ان تجاویز کو بغور دیکھنا ہو گا۔ یہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد میں ہے کہ وہ اپنے جوہری تعلقات کو مستحکم کریں۔ ارتقاء کا راستہ یہ نہیں کہ منفی سوچ اپنائی جائے بلکہ یہ ضروری ہے کہ ان مسائل کا حل ڈھونڈا جائے جن کے باعث ان دونوں ممالک نے چھوٹے جوہری ہتھیاروں کا انتخاب کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں