آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دنیا کے ہرنظام ،ہرفرد ،ہر ادارے اور حتیٰ کہ ہر دوا کے بھی کچھ فوائد کے ساتھ کچھ نہ کچھ سائیڈ افیکٹس بھی ہوتے ہیں اگر سائیڈ افیکٹس زیادہ ہوجائیں تو دوا فائدے کی بجائے موت کی حد تک نقصان بھی دیتی ہے جس طرح چند روز میں ایسی ادویات استعمال کرنے والے تین پاکستانی باڈی بلڈرز جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اسی طرح سیاسی نظام حتیٰ کہ جمہوریت کے بھی کچھ نقصانات یا سائیڈ افیکٹس ہوتے ہیں اور سائیڈ افیکٹس غالب آجائیں توفرد یا نظام کی طرح اس کو بھی موت کی دہلیز پر لے جاتے ہیں۔ سیاسی نظام کی معراج جمہوریت کو مانا جاتاہے جیسا کہ معروف مصنف جارج برناڈ شا کہتے ہیں۔
” جمہوریت وہ آلہ ہے جو یقینی بناتاہے کہ ہم پر ویسے ہی حکومت کی جائے جس کے ہم حقدار ہیں“۔ اسی طرح سر ونسٹن چرچل نے کا کہناہے۔”کوئی اندازہ نہیں لگا سکتاکہ جمہوریت ہی پرفیکٹ اور آل وائز نظام ہے لیکن دنیا میں ”جمہوریت“ حکومت کرنے کا ایک بہتر نمونہ ہے جو مختلف وقتوں میں حکومتوں کےلئے اپنایاگیاہے“۔
قارئین! اپنے اردگرد غور کریں تو آپ کو سیاستدانوں اور جمہوری حکومت پر ہر روز کسی نہ کسی الزام پر مبنی ایک نئے ایشو کا شور سنائی دے گا،حالت یہ ہےکہ ہرکوئی اپنی اپنی بات کہہ رہاہے ۔ہرطرف سے چیخ وپکار اور کانوں کو سن کردینے والی آوازسنائی دیتی ہے۔طرح طرح کی

بڑی بڑی باتیں ہورہی ہیں۔دوسرے کی بات کو غلط اوراپنی بات کو درست قراردیاجا رہاہے،دور حاضر کا معجزہ ہے کہ کسی کی سخنوری پر کوئی قدغن بھی نہیں ۔ یہ جمہوری سفر کے ثمرات ہیں کہ آج ’’مقدس گائے‘‘ کے احتساب کی بھی بات ہورہی ہے۔ اس سب کو جمہوریت کا حسن قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ کہ عوام یعنی جمہورکی بات کوئی نہیں کررہا جواس نظام کے ابتداءسے آخر تک اور بنیاد سے مقصد تک کے حقیقی کردار ہیں۔اس حقیقت سے نظر چرانا مشکل ہے کہ جمہوریت میں ووٹوں سے چنے بظاہر چند افراد حکمران ہوتے ہیں لیکن حکمرانی عوام کی ہوتی ہےلیکن اپنے دیس کا کیس ذرا نرالاہے۔۔!
جب بھی کسی ملک میں جمہوری نظام رائج ہونے لگتاہے تو وہاں برباد اداروں اور نقاہت و لاچاری کے شکار نظام اور بداعتمادی کے شکار عوام کو ہر روز ایک نئی امید نظر آرہی ہوتی ہے لیکن ساتھ ہی ذہن ان دیکھے خدشات کا شکار بھی رہتا ہے کہ کہیں طاقت غلط یا چند ہاتھوں میں نہ چلی جائے ۔انتخابی عمل دھاندلی کی نذرنہ ہوجائے،ووٹ خرید نہ لئے جائیں ،اپوزیشن حکومتی کارکردگی کی آڑ میں ذاتی مخاصمت یا ذاتی ایجنڈے کی تکمیل کےلئے عوام کو گمراہ اور طلسماتی نعرے دے کر سیاسی فرقہ واریت کی طرز پر ورغلا نہ لے۔یہی نہیں تیسرے درجے کے ملکوں کی سیاست میں اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی سیاسی دشمن نہ ہوتو زبردستی دشمن بنا لیا جاتا ہے، خود کچھ اچھا نہ کرپا رہے ہوں توبہترکارکردگی دکھانے والوں پر سیاسی خودکش حملہ کردیاجاتاہے۔
قارئین! پاکستان کی ناتواں جمہوریت پر نظرڈالیں تومندرجہ بالا صورتحال روز روشن کی طرح عیاں ہے،پاکستان میں جمہوریت کی بقاکا نعرہ لگاتے ہوئے ہم اکثریہ بھی کہہ جاتے ہیں کہ کرپشن، بدعنوانی، اقرباپروری، استحصال اور بنیادی حقوق کی عدم فراہمی دراصل نظام کی کمزوری ہے مگر نظام کو ٹھیک کرنے کی بات کوئی نہیں کرتا۔ سوال یہ ہے کہ یہ بات کون کرے گا؟ جب اس سوال کا جواب نہیں ملتا توبدقسمت ووٹرز کے دل و دماغ میں اپنی منتخب حکومت اور پھر جمہوریت پر بھی بداعتمادی کے سائے آسیب کی طرح منڈلانے لگتے ہیں۔ وہ مثبت سے زیادہ منفی اثرات کو محسوس کرتے ہیں۔ان کی نظر میں دو پہلوان اکھاڑے میں ہیں اپنا تمغہ جیتنے کےلئے ایک دوسرے کو چت کرنے کی زور آزمائی کررہے ہیں اور عوام گویا خاموش تماشائی ہیں۔ جیسے کوئی سرکس کا شو چل رہاہے اور سب اپنا اپنا کرتب دکھا رہے ہیں۔ دہشت گردی، انتہاپسندی، بیروزگاری، لوڈشیڈنگ، کرپشن اور دیگران گنت مسائل جوں کے توں ہیں۔
جدید تکنیکی دور کے امورپر لکھنے والے معروف امریکی لکھاری ’’ الون ٹافلر‘‘ کہتے ہیں۔’’جس ملک میں فی کس آمدن چار ہزار ڈالر نہ ہو، وہاں جمہوریت کےلئے یہ امر شدید ترین خطرہ ہوتا ہے‘‘۔ توکیا ہماری فی کس آمدنی چار ہزارڈالر ہے؟ کہتے ہیں بھوکے پیٹ جمہوریت توبہت دور کی بات لوگوں کو خدا بھی بھول جاتاہےتوکیا ایسا نہیں ہورہا یہاں؟ جمہوریت میں شخصیات نہیں ادارے ناگزیر ہوتے ہیں، اس کی واضح مثال ڈکٹیٹرمشرف کی ’’کنٹرولڈ اور فاشسٹ‘‘ ڈیموکریسی تھی ،جس میں اس نے مرضی کے (انجینئرڈ)انتخابات کرائے،تین وزراء اعظم بھی آزمائے ، لیکن ووٹ دینے والے عوام کوکیاملا؟ ہرطرف دہشت گردی،ذاتی،سیاسی ،مذہبی اورصوبائی منافرت اور معاشی وسیاسی بدحالی۔خود طاقتور ڈکٹیٹر کااپنے اقتدار کو دوام بخشنے کاخواب، اپنی ہی بنائی ہوئی سیاسی جماعت کی ذلت آمیز اوربدترین شکست کی صورت میں چکنا چور ہوا۔یہ تھا عوام کا جواب اور عملی طاقت کا مظاہر موجودہ حالات کے ایک منظر نامے کو دیکھیں توجنرل راحیل شریف نے اپنے ادارے میں نیچے سے اوپر تک غیرپیشہ وارانہ عناصر جن میں جرنیل بھی شامل ہیں ،کے کڑے احتساب کا عمل شروع کیا تو ہرطرف جے جے کار اور واہ واہ ہورہی ہے۔عوام بھی خوب سراہ رہے ہیں ، لیکن اس امرپر غور کم ہی لوگوں نے کیا ہوگا کہ راحیل شریف یہ کیوں کررہے ہیں؟کتنا حیران کن ہے کہ ایسا وقت جب فوجی وردی پہن کر آزادانہ باہر نہیں نکل سکتے تھے،فوجی گاڑیوں کی نمبر پلیٹس ہٹاکر اوران کے سبز رنگ تبدیل کردیئے گئے تھے۔ ایک جنرل ڈکٹیٹر سے کمانڈ کی چھڑی لے کر دہشت گردوں کےخلاف آپریشن سے کتراتاہے لیکن اسکے بعد ترقی پاکر ادارے کاچیف بننے والا نہ صرف ضرب عضب کے لئے میدان میں اتر پڑتاہے بلکہ مختصر وقت میں ملک دشمنوں کو عبرتناک انجام سے دو چار کردیتاہے،اور اس جری بہادر کےقومی مفاد میں اٹھائے گئے اقدامات کے باعث روز بروز نہیں ہرلمحہ عوام میں پذیرائی کا گراف پاکستان کی سیاسی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکاہے۔ اس کی حقیقی وجہ صرف جنرل راحیل کا پیشہ ور فوجی ہونا اور ان کی (انسٹیٹیوشنل اپروچ)ادارہ جاتی سوچ و بے خوف عمل درآمد ہے۔اب آئیں جمہوریت کے دعوے داروں اور رکھوالوں کی طرف تو سب پر پاناما لیکس کے انکشافات سوار ہیں۔ہرکوئی بھانت بھانت کی بولیوں، دعوؤں اور مطالبوں میں مصروف ہے۔کسی ایک رہ نمانے بھی ہمت نہیں کی کہ پارلیمنٹ جیسے مقدس ادارے میں اس معاملے پر ادارہ جاتی سوچ نہیں تو اپنے ذاتی عمل سے اس کی کوئی ایک جھلک ہی دکھادے۔بڑے بڑے رہنما محض خبروں کی زینت بننے کی غرض سے مسلسل الزامات کی بوچھاڑکرنے میںریکارڈ بنارہے ہیں۔پارلیمنٹ کے منتخب وزیراعظم پاناما لیکس کے دعوئوں کو جھٹلانے کی خاطرتین مرتبہ ریاستی نشریاتی ادارے سے خطاب کرکے پہلے ریٹائرڈجج اور اب اپوزیشن کے مطالبے پر چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنانے کا اعلان کرچکے ہیں۔کاش یہی اعلان وہ سیاسی ہاہا کار مچنے سے پہلے کردیتےتو اتنی خفت نہ اٹھانا پڑتی لیکن بقول منیر نیازی ، اکثردیر کردیتاہوں،۔ اب ایک نیا پنڈوار باکس کھل چکاہے،کچھ اس کے ضابطہ کار پر اعتراض کررہے ہیں توبعض ماننے کو ہی تیار نہیں۔معاملہ صاف ظاہر ہے اور وہ ہے عوام کے پیسے پر ہاتھ صاف کرنے کا،شور مچانے والوں اور شور سن کر ری ایکٹ کرنے والوں کو سب پتہ ہے کہ انہوں نے ماضی اور حال میں منتخب ہوکر قوم اور قومی خزانے کے ساتھ کیاکیااوراب کیا کررہے ہیں۔عوام حیران وپریشان اور ششدر ہیں کہ کیوں کوئی آدھا اور ادھورا سچ بولنے کو بھی تیار نہیں؟ اب قوم جمہوریت کے سائیڈ افیکٹس کا شکار نظر آرہی ہے اور اس مرتبہ کسی اور سے نہیں، جمہوریت کو جمہوریت سے ہی خطرہ محسوس ہورہا ہے؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں