آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
نوازشریف کو اقتدار سنبھالتے ہی چیلنجوں کے سمندر کا سامنا ہے۔ انہیں ادراک ہے کہ ریاست کی کشتی کو تلاطم خیز موجوں سے نکالنا اور ڈوبتی معیشت کو محفوظ ساحلوں تک لانا کتنا مشکل اور اہم ہے۔ ان کے سامنے11مئی کی سزا کا سبق موجود ہے جو ووٹروں نے پیپلزپارٹی کو اس کی عدم کارکردگی کی بنا پر دی۔ ہوسکتا ہے کہ وہ چاہتے ہوں کہ ان کی پالیسی فوری طور پر کارگر ثابت ہو لیکن ان کے عوامی بیانات کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایسا کچھ نہیں اور یہ کہ پاکستان کے سنگین مسائل کو حل کرنے میں وقت لگے گا اور خاص طور پر توانائی کی بدترین کمی جسے انہوں نے درست طور پر اپنی سب سے اہم ترجیح بنالیا ہے تاہم آنے والے وزیراعظم کے قوم سے پہلے خطاب میں یہ توقع کی جائے گی کہ وہ واضح سمت اور روڈ میپ کاتعین کریں جہاں وہ ملک کو لے جانا چاہتے ہیں۔ اس اقدام سے یہ بھی پتہ چلے گا کہ آیا وہ اپنے اقتدار کی مدت کے آغاز میں ہی معیشت کی ابتر صورتحال کی بابت مشکل فیصلے کریں گے۔ آنے والا بجٹ اصلاحات کے زمرے میں ان کی یقین دہانیوں کا ابتدائی امتحان ہو گا۔ نوازشریف کو آغاز میں ہی ایسے کئی امتیازات حاصل ہوئے جو ان کے پیشروؤں کو حاصل نہیں تھے، سادہ اکثریت، قابل اعتمادی، عوام میں ساکھ اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا ان کے قابو میں ہونا لیکن 13 سال قبل وہ وزیراعظم

تھے، انہیں اس وقت سے قومی منظر میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کا بھی سامنا ہے۔ ماحول کچھ اس طرح سے تبدیل ہوا ہے کہ یہ نوازشریف کیلئے معاون یا مشکلات پیدا کرنے کا سبب بنے گا، ان تبدیلیوں میں:
(1 ایک آزاد عدلیہ جوکہ اپنی آزادی کو تحفظ دیتے ہوئے انتظامیہ کے من مانی پر مبنی اقدامات پر قابو رکھے ہوئے ہے تاہم اتنے مقبول مینڈیٹ کے ساتھ نوازشریف عدلیہ کے ساتھ اچھے تعلقات کی غیر متعین وقت تک توقع کرسکتے ہیں۔(2 ایک متحرک اور بیش فعال نشریاتی میڈیا جس نے گزشتہ برسوں میں مطلق العنان افراد کو پرزور طریقے سے جواب دہ بنایا اور ارباب اختیار کی لئے حزب اختلاف کے طور پر کردار ادا کیا۔(3 مملکت کے معاملات میں مداخلت نہ کرنے والے آرمی چیف کی قیادت میں ایک طاقتور ادارے نے اپنی ساکھ بڑھانے کیلئے خود کو سیاست سے دور رکھا جبکہ آرمی نے جمہوری عمل کی حمایت کرنے کا اعلانیہ بیان جاری کیا۔(4 انتخابات کے علاقائی نتائج نے 4میں سے 2 صوبوں کو اپوزیشن کے ہاتھ میں دے دیا لیکن نواز شریف کی خوش قسمتی ہے کہ ان دونوں صوبوں میں حکمران جماعتیں قومی طرز کی ہیں نہ کہ علاقائی نظریئے کا پرچار کرنے والی۔
یہ پیچیدہ صورتحال نوازشریف کو مسائل حل کے قابل بھی بناسکتی ہے اور اس میں رکاوٹ بھی ڈال سکتی ہے جس کا انحصار اس بات پر ہے کہ وہ عدلیہ اور فوج کے ساتھ تعلقات سمیت مرکزی صوبے کے محرکات کو کتنے بہترین انداز میں سنبھالتے ہیں، عدلیہ اور فوج کی قیادت چند ماہ میں تبدیل ہونے والی ہے۔ بلوچستان میں نئی حکومت کے قیام پر ان کا موقف ان کے ماضی میں کئے گئے اقدامات کے برعکس متاثر کن ہے لیکن ان کا کڑا امتحان معیشت کو مستحکم اور اسے بحال کرنا ہوگا۔ انہوں نے توانائی کے بحران کے حل کے لئے تذویز متعین کرنے میں پہلے ہی فوری توجہ کا اظہار کیا جو کہ آج ترقی اور سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ان چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے میاں صاحب کو فوری اور اہم دونوں محاذوں پر سرگرم ہونا پڑے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ فوری حل طلب مسائل کیلئے پالیسی وضع کرنے کے ساتھ ہی طویل مدتی پالیسی بنا ڈالی جائے تاکہ مسائل کا دیرپا حل بھی نکالا جاسکے۔ ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال دیرینہ مسائل کا شاخسانہ ہے، جب تک بنیادی ساختیاتی مسائل حل نہیں کئے جاتے اس وقت تک ملک کم شرح پیداوار، قلیل سرمایہ کاری، خسارے کی شرح میں اضافہ، زیادہ قرضہ لینا اور بڑھتی ہوئی افراط زر جیسے مسائل قابو نہیں کئے جاسکتے۔ اس کے لئے صرف مرہم پٹی جیسا طریقہ کافی نہیں ہے۔ ملک کو سب سے زیادہ خطرہ ادائیگیوں کے توازن کی غیر متعین صورتحال سے ہے، جس میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی غیر واضح ہے۔ جون کے آخر تک اسٹیٹ بینک ذخائر 5/ارب ڈالر کی سطح تک کم ہوجائیں گے، جس میں سے 40 فیصد فارورڈ بائینگ کے ذریعے نجی بینکوں سے لئے گئے قرض کے ہیں۔ اگر اسٹیٹ بینک نجی بینکوں سے کئے گئے معاہدوں میں توسیع نہ کرے تو زرمبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوجائیں گے۔ جس سے 2008ء کی طرح قرضوں کی ادائیگی کے بحران جیسی صورتحال پیدا ہوجائے گی۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے فوری اقدام درکار ہے۔ مسلم لیگ ن کے حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کب آئی ایم ایف سے ایمرجنسی قرضے کیلئے رجوع کیا جائے، ہوسکتا ہے کہ پاکستان آئندہ مہینوں میں اپنے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کرنے کے قابل نہ ہو، تو ترجیح یہ ہونی چاہئے کہ مالی بحران آنے سے قبل ہی آئی ایم ایف سے رجوع کیا جائے نہ کہ جب بحران کا آنا بالکل واضح ہوجائے۔ متبادل مالی مدد ڈھونڈنے کی کوششیں اگر کامیاب بھی ہو جائیں تو وہ محض وقت کا حصول ہوگا اور تاخیر کرنا کوئی تذویر نہیں ہے لیکن مستقبل میں آئی ایم ایف کا کوئی بھی پروگرام ملکی سطح پر مرتب کردہ تذویر کا حصہ ہونا چاہئے نہ کہ اس کا متبادل۔ استحکامی اقدامات معاشی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے ماحول سازی کیلئے ضروری ہیں لیکن زیادہ اہم شرح پیداوار بڑھانے، ساختیاتی مسائل حل کرنے کے اقدامات ہونے چاہئیں تاکہ زیادہ بجٹ خسارے اور دیرینہ مالی بحرانوں کے چنگل سے نکلا جا سکے جس کی وجہ سے آئی ایم ایف سے بار بار بیل آوٴٹ پیکیج حاصل کرنے کیلئے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ آئندہ حکومت کو ایسی تذویر وضع کرنی چاہئے جو کہ تمام مالی مسائل کی جڑ، یعنی مجموعی قومی پیداوار میں ٹیکس کی شرح بڑھاکر آمدنی میں اضافہ کرکے اس کا احاطہ کرے۔ نئی حکومت کے پاس فیصلہ کن اکثریت کی وساطت سے ساختیاتی اصلاحات کا آغاز کرکے پاکستان کی ترقی کی شرح کو اونچی خط مستدیر پر لانے کا غیرمعمولی موقع ہے۔ اسے ذاتی مفاد کیلئے کام کرنے والوں کے دباوٴ میں آکر روکنا نہیں چاہئے جو کہ نواز شریف کو اہم ٹیکس اصلاحات کے خلاف انتباہ کررہے ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان بزنس کونسل کی جانب سے گزشتہ ہفتے شائع ہونے والا اشتہار اس کی مایوس کن عکاسی ہے۔ ایسی اصلاحات جو رعایتوں اور مراعات کا خاتمہ کریں نواز شریف کیلئے عظیم تر عوامی حمایت اور وسائل میں اضافے کا موجب ہوں گی۔ اس میں مرکزی کردار ایس آر او خاتمے کا ہوگا جس کی وجہ سے معیشت کو اربوں کا نقصان اٹھانا پڑا اور کاروبار کیلئے مساوی مواقع کی راہ میں بھی یہ رکاوٹ بنا۔ اس سے ایک مضبوط پیغام جائے گا کہ نئی حکومت اشرافیہ کے مفادات کیلئے سرکاری وسائل استعمال نہیں کرے گی۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانا نوازشریف کی فوری ترجیح ہے لیکن اس کے لئے سخت فیصلے درکار ہیں جس میں نرخوں کی فہرست میں تبدیلی اور غیر ہدف شدہ سبسڈی کا خاتمہ شامل ہے تاکہ مخصوص وقت میں پوری وصولی کی جاسکے۔ بین الاقوامی ایجنسی قرضوں اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کرکے اس کی نجکاری اور تقیسم کار کمپنیوں کو سستے ایندھن پر منتقل کرنے اور قدرتی گیس کے شعبے میں اصلاحات کیلئے بھی ایک ہمہ گیر تذویر متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کو ترجیح کی ضرورت ہے کیونکہ اس کی فوری طور پر ضرورت ہے اور یہ اہم بھی ہے۔ انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری کے بغیر معاشی ترقی ناممکن ہے۔ پاکستان کے آبادیاتی ثمرات (کام کرنے کی عمر کے افراد کی آبادی آئندہ بیس برسوں میں دگنی ہو جائے گی) زحمت میں تبدیل ہوسکتے ہیں اگر نوجوانوں کو تعلیمی مواقع فراہم نہیں کئے جاتے جو کہ بڑی تعداد میں ملازمت کے لئے میدان میں وارد ہورہے ہیں۔ تعلیم کے معیار اور پیمانے میں اضافہ کیا جانا ہے، جس کے تحت پرائمری سطح پر مکمل انرولمنٹ اور سیکنڈری اور یونیورسٹی کی سطح پر انرولمنٹ کو بڑھانے کے حصول کا سنجیدہ ہدف مقرر کرنا ہے۔ تکنیکی تربیت اور اسکل ڈویلپمنٹ میں سرمایہ کاری بھی لازمی ہے۔ قومی سلامتی کی تذویر لازمی بنانی چاہئے تاکہ معاشی، ملک میں امن و امان، دفاع اور خارجہ کی علیحدہ پالیسیوں کو یکجا کرکے منظم کیا جائے جس میں قومی اہداف کا واضح طور پر بیان کیا جاسکے۔ پہلی مرتبہ ملک کو ایسی تذویر کے تحت چلایا جائے اور مناسب پالیسیوں کے امتزاج سے تذویری سمت سے دی جائے تاکہ محفوظ اور معاشی طور پر لچکدار پاکستان کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔ اس مربوط تذویر کیلئے قومی ترجیحات متعین کرنے اور ادارتی بندوبست کرنا درکار ہے۔ ملک کو اندرونی طور پر عسکریت پسندی کے خطرات سے محفوظ بنائے بغیر معاشی بحالی ممکن نہیں ہے۔ موجودہ طور پر مقبول طرز بیان ’لڑائی نہیں مذاکرات‘ سادہ ہے لیکن ان چار نکتوں کے مطابق ہونے چاہئے۔
(ا) آئین و قانون کے مطابق واضح طور پر متعین کردہ پیمانہ،( ب) ماضی کے امن معاہدوں کے تجربات اور ان کا مقدر، (ج) اس بات کا احتیاط کے ساتھ جائزہ لینا کہ آیا عسکریت پسندوں کے مطالبات جائز اور اس قابل ہیں کہ ان پر مذاکرات کئے جاسکیں، (د) مذاکرات شروع ہونے سے قبل عسکریت پسندوں کا پرتشدد کارروائیاں ترک کردینا۔ انتہاپسندوں کی پرتشدد کارروائیوں کا ردِعمل سیاسی اتفاق رائے اور عوامی حمایت کے بل پر ہونا چاہئے اور ماضی کی طرح محض واقعے کے بعد آگ بجھانے کے کردار کی طرح نہیں ہونا چاہئے۔ مجھے جگہ اجازت نہیں دے رہی کہ میں ایسی تذویر کی مکمل تشریح اور خاص طور پر ملک کودرپیش چیلنجوں اور خطرات کا جامع منظرنامہ پیش کرسکوں۔ نہ ہی اس قسم کی خارجہ پالیسی کا جائزہ یہاں لیا جاسکتا ہے جس کی معاشی استحکام اور اندرونی بیرونی امن و استحکام جیسے اس مرحلے پر ضرورت ہے۔ اسے آئندہ کالم میں بیان کیا جائے گا۔ اگر کوئی چند ایک ترجیحی اقدامات جن میں سے میاں صاحب کو پاکستان کے معاشی مسائل، توانائی اور سیکورٹی چیلنجوں کا انتخاب کرنا ہے، وہ درد سے پاک ہیں، لیکن انہیں یہ ضرور معلوم ہے کہ انکے پاس اصلاحات کے نفاذ اور گہرے راست اقدامات کرنے کا نادر موقع ہے جس سے ملک کو اس بحرانی صورتحال سے نکالا جاسکتا اور پاکستان کے پائیدار مستقبل میں حصہ ڈالا جاسکتا ہے۔