آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل 14؍ربیع الاوّل 1441ھ 12؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
مختلف ملکی اور غیرملکی فورمز پر بھارتی سفارت کاروں اور اہل دانش سے سرسری ملاقاتوں اور سنجیدہ مباحث میں ایک حیران کن بات ہمیشہ سے سامنے آتی رہی ہے کہ سرحد پار باسیوں کی ایک بڑی تعداد کو یقین واثق ہے کہ جنوبی ایشیاء کے ان دونوں ہمسایوں کے درمیان اگر کسی معنی خیز سلجھاؤ کی صورت بنی تو وہ صرف اور صرف میاں محمد نوازشریف کے عہد میں ہوگی۔ ایک لابی کا تو خیال ہے کہ اگر میاں صاحب بطور وزیراعظم نومبر1990ء سے شروع ہونے والی پہلی ٹرم مکمل کر لیتے تو دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات مثبت سمت میں بہت آگے تک جا چکے ہوتے۔ مگر بدقسمتی سے نصف ٹرم ہی بمشکل پوری کر پائے تھے۔ فروری 1997ء سے شروع ہونے والی دوسری ٹرم تو خاص طور پر اہم تھی اس بار بھارت میں ان کے ہم منصب آئی کے گجرال تھے۔ گجرال صاحب جو جنم جنم کے پنجابی تھے، جہلم کے ایک سکھ جاٹ خاندان میں پیدا ہوئے، وہیں پلے بڑھے۔ لاہور کے DAV کالج، ہیلے کالج آف کامرس اور ایف سی کالج سے فارغ التحصیل ہوئے۔ پنجابی تہذیب و تمدن کا نمائندہ یہ سکھ نوجوان پانچ دریاؤں کی اس سرزمین سے ٹوٹ کر پیار کرتا تھا۔ آزادی ملی، پنجاب تقسیم ہوا۔ گجرال صاحب کو کنبے قبیلے کے ہمراہ واہگہ پار جانا پڑا۔ مگر ان کا کرب دیکھنے لائق تھا جو بالآخر ان کی پنجابی کویتا میں چھلک پڑا۔ پنجاب کا دو لخت ہو جانا اور پرکھوں

کی دھرتی چھوڑ کر سرحد کے اس پار چلے جانا ان کی زندگی کا وہ روگ تھا جو مرتے دم تک ان کے ساتھ رہا۔ نئے وطن نے انہیں بہت کچھ دیا حتیٰ کہ پردھان منتری کے سنگھاسن پر بھی بٹھا دیا مگر دریائے جہلم کی روانی اور طغیانی اور اس میں لگائی گئی ڈبکیاں وہ کبھی نہ بھول پائے اور اس کے اظہار میں کبھی کنجوسی سے کام نہ لیا۔ 1997ء میں میاں صاحب اور گجرال صاحب آگے پیچھے اقتدار میں آئے تھے۔ اول الذکر فروری کے مہینے میں اور موخرالذکر اپریل میں۔ گو محض سال بھر کا ساتھ رہا کیونکہ گجرال صاحب مارچ 1998ء میں منصب سے ہٹ گئے تھے مگر دونوں رہنماؤں کی کیمسٹری حیران کن حد تک ملتی تھی۔ دوستی کی حدوں کو چھوتا ہوا ایک طرح کا لگاؤ اور قرب، جس کی جڑیں ہم زبانی میں تھیں۔ پنجاب کے یہ دونوں سپوت جب بھی اور جہاں بھی ملے، مادری زبان کو ذریعہ اظہار بنایا۔
ان دنوں گجرال صاحب کے ”گجرال ڈاکٹرائن“ نے بہت شہرت پائی تھی جس کا لب لباب یہ تھا کہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کو بہتر بنایا جائے۔ گجرال ڈاکٹرائن میں کوئی ایسی بات ضرور تھی کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کے آثار پیدا ہونے لگے۔ اس دوران واجپائی جی بھارت کے وزیراعظم بنے تو میاں صاحب نے دورہ پاکستان کی دعوت دے ڈالی، بین المملکتی امور میں اس قسم کی دعوتیں معمول کی بات ہے مگر واجپائی جی تو گویا تیار بیٹھے تھے۔ دہلی لاہور بس سروس کا آغاز ہونا تھا۔ موصوف کی گرتی ہوئی صحت اور کہولت زدہ گھٹنے دس گھنٹے طویل بس سفر کے متحمل نہ تھے۔ چنانچہ 20فروری1999ء کی صبح جہاز سے امرتسر پہنچے اور وہاں سے 16رکنی وفد کے ہمراہ دوستی بس میں سوار ہو کر عازم واہگہ ہوئے۔ بارڈر پر پہنچے تو وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف بنفس نفیس استقبال کیلئے موجود تھے۔ البتہ ڈیفنس چیفس نے اپنی پرسٹیج کے منافی خیال کرتے ہوئے سرحد پر جانے سے معذرت کر لی تھی اور بھارتی وزیراعظم سے ان کی رسمی ملاقات لاہور فورٹ میں اسی شام ہونے والی خیرمقدمی تقریب میں ہوئی تھی۔ علامہ اقبال کے مزار پر حاضری دینے کے علاوہ موصوف مینار پاکستان بھی تشریف لے گئے تھے اور لاہور کے شہریوں کی طرف سے دیئے گئے استقبالئے میں شرکت بھی کی تھی۔ جماعت اسلامی سمیت بعض حلقوں کی جانب سے شور شرابہ بھی ہوا اور ”واجپائی واپس جاؤ“ کے نعرے بھی لگے مگر مجموعی طور پر یہ ایک کامیاب وزٹ تھا اور قرآئن بتاتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے مابین اس سے زیادہ قرب کے لمحات کبھی نہیں آئے۔ ہر موضوع پر کھل کر بات ہوئی۔ مہمان اور میزبان کی تقاریر دوستی اور مفاہمت کے جذبات سے لبریز تھیں۔ واجپائی جی کی کویتا ”اب جنگ نہیں ہونے دیں گے“۔ دو آتشہ کا کام دے رہی تھی۔ وزٹ کی اہم ترین دستاویز ”لاہور ڈیکلریشن“ میں وہ سب کچھ تھا جو معروضی حالات میں پاکستان اور بھارت جیسے ہمسایوں کے مابین طے پانے والی دستاویز میں ہو سکتا تھا مگر پھر یکایک کارگل ہوگیا اور یہ سب کچھ ریت کی دیوار کی طرح بیٹھ گیا اور حالات و واقعات کی ترتیب بالآخر 12/اکتوبر 1999ء کے سانحہ پر منتج ہوئی۔
پاکستان کے حالیہ انتخابات کے بعد باہمی تعلقات کے محاذ پر پھر سے ہلچل ہوئی ہے۔ روایتی تہنیتی پیغامات اور فون روابط کے جلو میں اہم پیشرفت یہ ہوئی کہ مئی کے آخری ہفتے بھارتی وزیراعظم کے خصوصی معاون ایس کے لامبا میاں صاحب کے لئے من موہن سنگھ کا خیرسگالی کا پیغام لے کر آئے تھے جس میں مذاکراتی عمل کے ذریعے دوستی، امن اور باہمی تعاون کے فروغ کا عندیہ دیا گیا تھا اور میاں صاحب کی اس خواہش کا بالخصوص خیرمقدم کیا گیا کہ بھارت کے ساتھ تعلقات کا سلسلہ وہیں سے جوڑیں گے جہاں 1999ء میں ٹوٹا تھا۔ کیا ایسا ممکن ہے؟ جبکہ پچھلے چودہ برسوں میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا۔ کیا معروضی حالات اس کی اجازت دیں گے؟ جبکہ بھارت کے انتخابات بھی محض چند مہینے دور ہیں۔ باایں ہمہ کیا دونوں جانب دوستی، امن اور باہمی تعاون کو بڑھاوا دینے اور حقیقی مسائل کو حل کرنے کا جذبہ موجود ہے؟ رائے منقسم ہے۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ یہ محض روٹین کی آمدورفت ہے توقعات کو بلاوجہ بڑھایا جا رہا ہے عشروں پرانے اور پیچیدہ مسائل آسانی سے حل نہیں ہو پاتے۔ جنوبی ایشیاء کی ان جوہری ریاستوں پر انٹرنیشنل کمیونٹی کی نظر بھی ہے اور دباؤ بھی، جو نہیں چاہتیں کہ خطے میں ناخوشگوار صورتحال پیدا ہو۔
یہ سب اپنی جگہ لیکن اگر الفاظ کچھ حیثیت رکھتے ہیں تو یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ واجپائی جی کے وزیر خارجہ جسونت سنگھ نے اپنے وزیراعظم کے لاہور وزٹ کو شملہ سمجھوتہ کے بعد ایک تاریخی واقعہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ سفر اس حقیقت کا مظہر ہے کہ دونوں طرف کے لوگ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر روشن مستقبل کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔
ایک سینئر پاکستانی سفارت کار کا خیال ہے کہ بھارت کے ساتھ دوستی، امن اور باہمی تعاون کا متمنی میاں صاحب سے بڑھ کر شاید ہی کوئی ہو۔ اس میں ان کے مزاج، افتاد طبع اور خاندانی پس منظر کا بہت دخل ہے۔ نرم گو، نرم خو، لطیف مزاج اور کسی حد تک جذباتی میاں صاحب تو بھارتی فنکاروں کے بھی شیدائی رہے ہیں۔ وہاں سے جو بھی آیا، موصوف نے اس کی پذیرائی کی۔ اولڈ راوین دیوآنند سے لے کر شتروگن سنہا تک۔ دلیپ کمار کے تو اتنے بڑے مداح کہ چند روز قبل ہی مہیش بھٹ کے ذریعے پاکستان آمد کی دعوت دی۔ جواب آیا کہ فی الحال بیمار ہوں، جونہی ذرا بہتر ہوا تو ضرور آؤں گا اور پھر میاں صاحب کے بزرگوں کا جاتی عمرہ بھی تو امرتسر کے نواح میں ہی ہے۔ لاہور سے بمشکل دو گھنٹے کی مسافت پر۔ گو میاں صاحبان پاکستان کا جم پل ہیں۔ ان کے والد مرحوم تو وہیں سے اٹھ کر آئے تھے اور جذباتی وابستگی کا یہ عالم کہ رائے ونڈ میں بستی بسائی تو اس کا نام بھی جاتی عمرہ رکھ دیا۔ امرتسر والے جاتی عمرہ سے براہ راست جڑی ایک ہستی یعنی ان کی والدہ محترمہ ابھی تک آبائی گاؤں کے ذکر پر جذباتی ہوجاتی ہیں۔ گو عمر رسیدہ ہیں اور صحت بھی اچھی نہیں مگر جاتی عمرہ کی گلیوں کے ایک پھیرے کی خواہش بے چین رکھتی ہے۔ شریف فیملی سے تعلق کی وجہ سے جاتی عمرہ کی تو اوقات ہی بدل گئی ہے جسے بھارتی پنجاب حکومت نے ماڈل ولیج کا درجہ دے دیا ہے۔ جہاں زندگی کی جملہ جدید سہولتیں میسر ہیں۔ جاتی عمرہ والے بھی میاں صاحبان سے عشق کرتے ہیں اور حالیہ انتخابات میں ان کی پارٹی کی جیت کی خوشی میں منوں مٹھائی تقسیم کی۔ اہل دیہہ نے میاں صاحبان کے آبائی گھر کی حفاظت کا مستقل اہتمام یوں کیا کہ اسے گوردوارہ میں تبدیل کر دیا ہے۔ کیا یہ سب کچھ کسی سمت کی نشاندہی کرتا ہے؟ اس کا جواب وقت ہی دے گا۔

ادارتی صفحہ سے مزید