آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ شوال المکرم 1440ھ 19؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
نواز شریف کو تین عوامل منصب سے ہٹاسکتے ہیں: عوام، عدالت اور خاکی وردی پوش۔ تاہم مسائل کے ستائے ہوئے عام پاکستانیوں نے پاناما لیکس کے بعد حکومت کو ہٹانے کے لئے گلیوں میں احتجاجی مظاہرے نہیں کئے۔اس کےعلاوہ جسٹس چوہدری کے دور کی عدالتی فعالیت ،جو مشروب کی بوتلوں پربھی ایکشن میں آجاتی تھی، کا دور بھی اب گزرچکا۔ذراتصور کریں ، اگر آج افتخار محمدچوہدری منصب پرہوتے !تاہم موجودہ عدالت روایتی انداز میں کام کرتے ہوئے ہرروز بریکنگ نیوز کا حصہ بننے سے بجاطور پر گریز کررہی ہے ۔ یہ مختلف تنازعات میں فریق بننے کی بجائے فریقین کے درمیان منصف کا کردار ادا کررہی ہے ۔ ایسی محتاط سپریم کورٹ کے لئے پاناما لیکس کیس ایک سیاسی دلدل میں اترنے کے مترادف ہوگا۔
پاناما لیکس نے وزیرا عظم اوراُن کے اہل خانہ کے بارے میں کوئی نئے انکشافات نہیں کئے لیکن پرانے الزامات میں جان ڈال دی ہے ۔ تاہم قانون کے ان پر حرکت میں آنے کے لئے ضروری ہے کہ استغاثہ کے پاس ٹھوس شہادت ہو۔ شہادت تلاش کرنا عدالت کا کام نہیں۔ معمول کے قانونی نظام(adversarial systems ) میں، جیسا کہ ہمارے ہاں رائج ہے ، جج صاحبان پیش کی گئی گواہی اور فریقین کی جانب سے دئیے گئے دلائل کی بنیاد پر فیصلہ سناتے ہیں۔ ان کا کام پیش کئے گئے میٹریل پر توجہ دینا ہوتا ہے ، وہ کسی پارٹی کے

عقائداور بے بنیاد مفروضات کو درخور اعتنانہیں گردانتے ۔ جج اس اصول کو تسلیم کرتے ہیں کہ ہر شخص کو ’’جرم ثابت ہونے تک بے قصور‘‘ تسلیم کیا جائے ۔ مشکوک قسم کے کیسز میں عدالت سے توقع کی جاتی ہے کہ شک کا فائدہ ملزم کو دیا جائے ۔ تاہم سول لا ، جس کی بنیاد inquisitorial systems پر ہوتی ہے ، میں جج اور مجسٹریٹ خود بھی تحقیقات کے عمل میں شریک ہو سکتے ہیں۔ ایسے نظام میں عدالت واقعات کی کڑیاں ملاتے ہوئے حقائق تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے ، جیسا کہ مسٹر زرداری کے سوئس کیسز میں ایک مجسٹریٹ نے الزامات کی بنیاد پر مقدمہ قائم کرنے کی سفارش کی تھی۔
ہمارے نظام میں اگر کوئی جج کیس کی سماعت کے دوران کسی فریق کی طرف تھوڑا سابھی جھکائو ظاہر کرے تو اُسے اُس کیس میں فیصلہ سنانے کے لئے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ چونکہ ہمارے ہاں مجوزہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ ایسا آپشن سامنے لاتا ہے جو جج حضرات پر مشتمل کمیشن قائم کرنے کی سفارش کرتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے یہ سوچنا کہ کیا یہ حضرات پاناما لیکس جیسے پیچیدہ کیس میں سے کوئی شہادت تلاش کرلیں گے ؟اور فرض کرلیں اگر وہ کوئی شہادت تلاش کرنے میں کامیاب ہوبھی جاتے ہیں تو کیا کوئی ایسا مقدمہ ہوسکتا ہے جس میں خود سپریم کورٹ کے جج الزامات لگارہے ہوں؟ججوں پر مشتمل انکوائر ی کمیشن صرف اُس صورت میں مقصد پورا کرسکتاہے جب قانون کے مطابق غیر جانبدار رہتے ہوئے کوئی مشورہ دینا مقصود ہو۔ سلیم شہزاد کمیشن رپورٹ نے لکھا کہ اگرچہ انٹیلی جنس اداروں کو بری الذمہ قرار دینے کی کوئی معقول وجہ نہیں لیکن اُنہیں مورد ِا لزام ٹھہرانے کے لئے بھی ٹھوس وجہ موجود نہیں۔ الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے نتیجہ نکالاکہ انتخابی دھاندلی کا الزام لگانے والے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام ہوگئے ۔ کیا کوئی واقعی یہ توقع کررہاہے کہ پاناما لیکس کمیشن اس سے مختلف نتیجہ نکالے گا؟
سچی بات یہ ہے کہ پاناما لیکس اسکینڈل کی تحقیقات کرنابہت مشکل ہے۔ قوم پر مبنی ریاستی نظام میں ریاستیں عالمی قوانین نہیں بلکہ اپنے قوانین کے تحت فیصلے کرتی ہیں۔ ایک ریاست کے قوانین کے تحت دوسری ریاست میں رونما ہونے والے کسی معاملے کی تحقیقات کرنا کسی بلیک ہول میں کودنے کے مترادف ہوگا۔ اس کے علاوہ جس ریاست میں فنڈز رکھے گئے ہیں ،یا جائیداد خریدی گئی ہے ، وہاںسے کمیشن کو درکار معلومات کون فراہم کرے گا؟شریف فیملی کی خریدکردہ سمندر پار کمپنیوں کی مالیت کا تعین کرنے کے لئے کمیشن کیا ذرائع اختیار کرے گا؟یہ بھی حقیقت ہے کہ افراد کے لئے قانونی طریقہ استعمال کرتے ہوئے پاکستان سے باہر رقم لے جانا جرم نہیں۔ اگرشریف فیملی نے بنیادی اعدادوشمار اور دستاویزات میں کوئی ہاتھ نہیں دکھایا توپاناما لیکس سے کچھ بھی برآمد نہیںہوگا تاوقتیکہ کہ ٹرمز آف ریفرنس میں یہ طے کرلیا جائے کہ شریف فیملی کو قصوروارسمجھا جائے گااگروہ اپنی بے گناہی ثابت نہ کرسکے ۔ ایسالگتا ہے کہ اب اپوزیشن کوبھی اس بات کا احساس ہوچلا ہے ۔ اگرپاناما کمیشن کے لئے تحقیقات کرناناممکنات میں سے ہے ، تو دوسری طرف اس واقعہ کی ٹائمنگ بھی ان کا ساتھ نہیں دے رہی جو نواز شریف کو اسی سال منصب سے ہٹانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ پاناما لیکس بتدریج منظر ِعام پر آرہی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اس سال کچھ مزید انکشافات بھی سامنے آئیں۔ چنانچہ جج حضرات پر مشتمل کمیشن اُن افراد کو بھی نوٹس بھجوائے گا جن کے نام سامنے آئیں گے ۔ وہ دولت مند افراد بہترین وکیل کرلیں گے ۔ خاطر جمع رکھیں، آئی سی آئی جے کی رپورٹس پر مبنی میٹریل سے معجزانہ طور پر ایسی کوئی شہادت ابھر کرسامنے نہیں آئے گی اور نہ ہی کوئی یہ چیلنج قبول کرے گا، چنانچہ یہ بحران برس ہا برس تک چلتا رہے گا۔ جہاں تک حکومت کو ہٹانے والے تیسرے عامل (خاکی وردی پوش) کا تعلق ہے تو ہماری اسٹیبلشمنٹ پس ِ پردہ رہ کراپنا اثر دکھانا بہتر سمجھتی ہے۔
براہ ِراست مداخلت کا خطرہ بھی لاحق رہتا ہے، لیکن ایسے خطرے کے لئے کسی طالع آزما آرمی چیف ، جو فوج کے بطور ادارہ مفادات کو خطرے میں ڈال کر اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دے ، کی ضرورت ہے ، لیکن خدا کا شکر ہے ، آج کی فوجی قیادت ایسی نہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے فوج پس ِ پردہ رہ کر بہت زیادہ فعالیت دکھارہی ہے۔ چنانچہ وہ ایسی حکومت کو چلتا کرنے کا الزام اپنے دامن پر کیوںسجائے گی جو خود کہتی ہے کہ اس میں اس سے زیادہ دم خم نہیں ۔ اکثر اوقات توحکومت کے اپنے ایوانوں سے ’’شکریہ راحیل شریف‘‘ کی صداآتی سنائی دیتی ہے ۔ موجودہ آرمی چیف کو ایک طرح کا مسیحاسمجھا جارہا ہے ، چنانچہ وہ براہ ِراست مداخلت کرتے ہوئے اپنے تصور کو زک نہیں پہنچائیں گے ۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ پیش گوئیاں کی جاتی رہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ اگلے چند ماہ بعد منصب چھوڑ کر گھر چلے جائیںگے ۔ اگر نواز شریف 2016گزار جاتے ہیں تو وہ ہر طرح سے محفوظ ہوں گے ، کیونکہ اس سے پہلے کہ نیا آرمی اپنے قدم مضبوط کرے، اگلے عام انتخابات کا وقت قریب آچکا ہوگا۔ چنانچہ اس وقت اپوزیشن اورحکومت کہاں کھڑی ہیں؟سچی بات یہ ہے کہ بیانات وغیرہ اپنی جگہ پر لیکن آصف زرداری کی قیادت میں اپوزیشن کو بدعنوانی پر زیادہ تردّد نہیں ہے اور نہ ہی اُن کی آنکھوں میں خون اترا ہواہے ، لیکن وہ پاناما بحران پر دبائو بڑھا کر دوفائدے اٹھانا چاہیںگے۔ پہلا یہ کہ انہیں پنجاب میں پائوں رکھنے کا موقع مل جائے، اوراگر اس میں ناکام رہے تو نواز شریف سے جو کچھ بھی مل سکے غنیمت سمجھاجائے، جیسا کہ سندھ میںوفاقی ایجنسیوں کا ہاتھ روکنا۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کے عزائم مختلف ہیں۔ وہ اسی سال نوا زشریف کو منصب سے ہٹانے کا بہترین موقع دیکھ رہی ہے ۔ عمران خان اخلاقیات کا ترازو تھام کر وسط مدتی انتخابات کا نعرہ بلند کررہے ہیں۔ تاہم اُن کی یہ خواہش پوری نہیں ہوسکتی ، اوردل سے وہ یہ بات جانتے ہیں۔ چنانچہ احتجاجی سیاست کے ذریعے پی ٹی آئی بھی پنجاب میں اپنا ووٹ بنک بڑھانے کی کوشش کرے گی۔ پاناما لیکس پی ایم ایل (ن) کے بدعنوانی کو ناپسند کرنے والے حامیوں کے لئے یقینا پریشانی کا باعث ہیں،لیکن کیا وہ 2018 ء میں اس کا اظہار اپنے ووٹ سے کریں گے ؟ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف کو ایک بات کی سمجھ آگئی ہے کہ پاناما لیکس سے بچ نکلنے کیلئے اُنہیں پی پی پی یا پی ٹی آئی کو خوش کرنے کی ضرورت نہیں۔ اُنہیں دراصل اپنے حامیوں کو قائل کرنے کی ضرورت ہے کہ اُن کے ہاتھ صاف ہیں۔ بہرحال اگر اُن کے پاس چھپانے کو کچھ نہیں تو عوام کو کھل کربتادیں، اس طرح سازش کی تھیوریاں گھڑنے اور بے معانی کمیشن بنانے یا خودپارسائی کے دعوے اُنہیں زیب نہیں دیتے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں