آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ شوال المکرم 1440ھ 19؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جاننا چاہتے ہیں کہ کیوں حکمرانی ماضی کے مقابلے میں مشکل رہی ہے؟ کیوں حکومتیں اور کمپنیاں بروقت اور موثر فیصلے لینے سے قاصر ہیں؟ کیوں حکومتی اور عالمی مسائل زیادہ پیچیدہ بن گئے ہیں لیکن ان کے حل کی بابت ذرائع میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ وینزویلا میں پیدا ہونے والے موائسز نائم کی نئی کتاب اس کا مدلل جواب جو کہ ’فارن پالیسی‘ میگزین کے سابق ایڈیٹر بھی رہے ہیں۔ مصنف نے قارئین کو ان کے طاقت کے تصور کا جائزہ لینے کیلئے چیلنج کیا ہے اور اس تصور کو انسانی زندگی میں جاری بڑے پیمانے پر ہونے والی تبدیلیوں کی روشنی میں تبدیل کیا۔ ان کی بنیادی رائے یہ ہے کہ طاقت کانہ صرف تبادلہ ہو رہا ہے اور یہ بکھر رہی ہے بلکہ یہ عارضی شکل اختیار کررہی ہے اور اسے استعمال کرنا مشکل اور کمزور ہورہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ جو اقتدار میں ہیں اس کے استعمال کے حوالے مقید ہیں۔ یہ مبالغہ آرائی معلوم ہوتی ہے لیکن کسی ایسے شخص سے پوچھئے جو کوئی ملک یا کمپنی چلاتا ہو، وہ اس سے ممکنہ طور پر اتفاق کرے گا اور وہ کام کرنے میں مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے نظر آئیں گے جن کی بظاہر بہتر منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ نائم نے دنیا کے ان کئی رہنماوٴں کا ذکر کیا ہے جنہوں نے اس پیغام کی توثیق کی،’طاقتور شخصیات اپنی طاقت کے بڑے پیمانے پر محدود ہونے کے تجربے سے گزر

رہی ہیں۔ اس کی کتاب، اقتدار کے موضوع پر کی جانے والی بحث میں ایک اہم اضافہ ہے جس نے لمبے عرصے تک دانشوروں اور فلسفیوں کو محو رکھا اور اب اسکالرز کی بھاری اکثریت اس کام میں ملوث ہے۔ اس معروضی بحث میں سب سے زیادہ اثر انگیز شخصیات میں سے ایک جوزف نائی بھی ہیں جن کی معنی خیز کتاب نے 1990ء میں نرم طاقت (سافٹ پاور) کا تصور متعارف کرایا تھا، اس تصور کے مطابق کسی بھی ملک کے نظریات اور اس کی ثقافت اتنی ہی اہم ہوتے ہیں جتنا سخت طاقت(ہارڈ پاور) جیسے کہ فوج یا معاشی وسائل۔ یہ تصور نہ صرف بین الاقوامی سیاست میں داخل ہوا بلکہ ریاستی معاملات اور سفارت کاری میں بھی اسے بروئے کار لایا گیا۔
نائم محض طاقت کی فطرت میں تبدیلی کی گفت و شنید کا حصہ نہیں بنتا بلکہ وہ یہ دلیل پیش کرکے اس تصور کی تشکیل نو کرتا ہے کہ آیا سافٹ پاور، ہارڈ پاور کی نامکمل طور پر جگہ لے رہی ہے۔ یہ اس فہم کو مبہم بناتا ہے کہ طاقت بذات خود کیسے کمزور ہورہی ہے یا ہاتھ سے پھسلتی ہے، جسے حاصل کرنا آسان لیکن برقرار رکھنا اور استعمال کرنا مشکل ہوتا ہے۔ مصنف ایک اور نقطہ نظر کو چیلنج کرتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ طاقت افراد سے ذہن میں منتقل ہورہی ہے، جس کا سفر شمال سے جنوب، مغرب سے مشرق، قدیم اجتماعی شخصیات سے پھرتیلے آغاز تک، آمریتوں سے شہری علاقوں کی عوام اور جہاں تک برقی پیغامات کی ترسیل کاری رواں ہے لیکن ان کا موقف ہے کہ یہ موجودہ حقیقت کو بیان کرنے کیلئے نامناسب ہے۔ طاقت مزید بنیادی تغیر سے گزر رہی ہے، اس کے زیادہ حریف، چیلنجرز اور بڑی رکاوٹیں ہیں۔ نائم اٹھان والی سوچ پر بھی سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا کونسا ملک ، کمپنی ، سیاسی یا بزنس لیڈر کا عروج یا زوال ہوگا۔ وہ اسے کھیلوں کی لیگ کا لبھاتا ہوا اسکور ٹیبل گردانتے اور مسترد کرتے ہیں۔ اگر ہم درجہ بندی میں ہی محو رہیں گے تو ہم معروضی زندگی کی بنیادی حقیقت کو فراموش کر بیٹھیں گے جس کے مطابق طاقت خود، ایسے وقت میں جب کہ تبدیلی کی قوتیں ٹکڑوں کی بے مثال اشکال ترتیب دے رہیں ہیں، تنزلی کا شکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طاقت قسم قسم کے متعدد چھوٹے کھلاڑیوں میں پھیلی ہوئی ہے، جن میں اکثر کا پس منظر غیر متوقع ہے۔ اس کتاب کے بنیادی نکتے کا محور یہ ہے کہ ایک دفعہ اگر بڑے کھلاڑیوں کو نئے آنے والوں سے خطرے کا سامنا ہو تو سیاست، تجارت، عالمی سطح پر اور جنگ و امن کے زمرے میں مزید کئی کھلاڑی معرض وجود میں آئیں گے۔ ان چھوٹی طاقتوں کا اسٹیبلشمنٹ مخالف زور دار دھکا آمرانہ حکمرانوں کو اقتدار بدر کرنے اجارہ داریوں کا خاتمہ کرنے اور بے مثال موقعوں کے دریچے کھولنے کا ذمہ دار ہے لیکن یہ انتشار اور معذوری کو بھی جنم دیتا ہے۔ یہ کتاب بیان کئے گئے رجحان کے منفی اور مثبت دونوں پہلووٴں کو اجاگر کرتی ہے۔ طاقت کیوں بہہ گئی ہے؟ مصنف کے طاقت کی تنزلی کے موقف کے پیچھے کیا ہے؟ گزشتہ تین دہائیوں میں طاقت کی راہ میں حائل رکاوٹیں بہت تیزی سے ریزہ ریزہ ہوگئی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے وقت میں طاقت کو سب سے بڑا خطرہ پیش منظر میں لاتعداد تبدیلیوں سے ہے جس میں آبادیات، بہتر تعلیمی معیار، صحت اور معیار زندگی، ہجرت کے رجحانات، خاندان اور رویّے شامل ہیں جو کہ ہماری امنگوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ نائم ان وسیع تغیرات کی قوتوں کو تین اقسام میں منقسم کرتا ہے، زائد انقلاب جو کہ طاقت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو غرق کر رہا ہے، نقل پذیر انقلاب جوکہ طاقت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو چکما دے رہا ہے، سوچ کا انقلاب ان رکاوٹوں کو تہہ و بالا کررہا ہے۔
مصنف کے مطابق ان میں سے ہر انقلاب روایتی اقتدار کے رجحان کو ایک مخصوص خطرے سے دوچار کرتا ہے۔ اس کا دراصل کیا مطلب ہے؟ پہلا، اشیاء کے بہتات کے زمانے میں ہمارے پاس سب کچھ زائد ہے، زیادہ وسائل کو یکجا رکھنا مزید مشکل ہے۔ دوسرا یہ کہ لوگو ں میں اب اس قدر حرکت پذیری پیدا ہوگئی ہے کہ انہیں قابو میں رکھنا مشکل ہے۔ بڑھتی ہوئی حرکت پذیری طاقت کے گرد ان رکاوٹوں کو توڑ رہی ہے جو اسے خطرات سے بچاتی تھی اور تیسرے کے مطابق انقلاب کے حوالے سے عوام کی جانب سے لگائی جانے والی وہ توقعات ہیں، عوام کیا چاہتے ہیں اور کس رفتار سے حکومت ان کی توقعات پوری کرسکتی ہے۔ یہ سب بڑے کھلاڑیوں سے زیادہ حریفوں تک پھیلی ہوئی طاقت کی دوبارہ تقسیم کی جانب لے جارہا ہے اس کے نتیجے میں طاقت کے حصول اور اس کے استعمال میں نئی حدود نافذ ہورہی ہیں۔ یہ واضح طور پر ماضی میں طاقت کے مراکز کو بیان کرتا ہے جو کہ اب نہیں پائے جاتے۔ اس کے برخلاف کھلاڑیوں کے ایک بادل نے طاقت کے مرکز کی جگہ لے لی ہے، ان میں ہر ایک کے پاس نتائج مرتب کرنے کی کچھ طاقت ہے لیکن کسی کے پاس بھی اتنی طاقت نہیں کہ تنِ تنہا نتائج مرتب کرسکے۔
انہوں نے قومی سیاست، عالمی سیاست، تجارت اور دوسرے شعبوں پر اس مفروضے کا اطلاق کیا ہے۔ کتاب کا سب سے اہم باب پینٹاگون ورسز پائریٹس ہے۔ اس باب میں انہوں نے اس چیز کو جانچہ ہے کہ بڑھتے ہوئے چھوٹے عسکری گروہوں کی وجہ سے کس طرح ریاست کو جابرانہ طاقت سے ہاتھ دھونا پڑیں ہیں، جو خود سے کہیں زیادہ بڑی دفاعی اسٹیبلشمنٹ کو نقصان پہنچاکر اپنے مقاصد کو حاصل کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ گروہ نہ جیت سکیں لیکن ایک عدم مساوی عسکری تنازع میں یہ گروہ تکنیکی طور پر اعلیٰ حریف کی فتحیاب ہونے سے روک سکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ روایتی افواج جو نہ صرف نئے دشمنوں کا بلکہ جنگ و جدل میں تغیر کا بھی سامنا ہوتا ہے جو کہ مصنف کے نشاندہی کردہ تین انقلابوں کے منفی پہلو کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان نے عالمگیریت کی پیدا کردہ تاریک قوتوں کو ایک مرتبہ غیر مہذب سوسائٹی یعنی ’ان سول سوسائٹی‘ گردانا تھا۔
عالمی سطح پر بھی طاقت کا حصول اور اس کا استعمال بھی مکمل تبدیلی سے گزرا ہے، این بریم کی کتاب’ ایوری نیشن فار اٹسیلف‘ میں ایک ایسی دنیا کی جھلک نظر آتی ہے جس میں کوئی بھی ملک عظیم طاقت کا حامل نہیں ہے، نائم پوچھتے ہیں کیا سبھی ان چارج ہیں۔ وہ جواب دیتے ہیں کہ کسی بھی نظریئے کو طاقت کے زوال پر استثنیٰ حاصل نہیں، چاہے کتنے ہی عسکری اور معاشی اثاثے موجود ہوں، وہ اعلیٰ فہم کے ساتھ تحریر فرماتے ہیں کہ چھوٹی ریاستوں کی بڑی ریاستوں کو پیچھے دھکیلنے کی استعداد ایک عمومی تبدیلی کا حصہ ہے، جس نے بین الاقوامی معاملات میں کئی کرداروں کو قوت بخشی ہے۔ اسی لئے چھوٹی ریاستوں کو بڑی ریاستوں کی جانب سے دی جانے والی امداد اب ان پر اثرورسوخ پیدا کرنے کا سبب بھی نہیں بنتی ہے۔ نائم کے اس عمدہ اور مختلف شعبوں کے تجزیئے کے مطابق طاقتور ماضی کے مقابلے میں آج زیادہ دباوٴ میں ہیں، طاقت پر ان کی گرفت غیر محفوظ ہورہی ہے اور ان کے عہد سمٹ رہے ہیں، اسے وہ خیر مقدمی خبر قرار دیتے ہیں کیونکہ سیاسی طاقت آج کم مرتکز ہوئی ہے اور کاروبار میں اس کی اجارہ داری میں کمی واقع ہوئی ہے اور جس سے یہ عوام کو مزید چوائسز فراہم کرتا ہے لیکن اس کا ایک منفی پہلو بھی ہے، اس ضمن میں سیاسی معذوری بھی ایک قسم کا نقصانِ جدی ہے۔ تو احتساب کی زیادتی بھی قومی مربوطی کا موجب بنتی ہے۔ یہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک دونوں میں انتہا پسند سیاست کی بھی ذمہ دار ہے۔ دلیل کے طور پر طاقت کے انتشار کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر باہمی عمل کو مشکل بنارہی ہے۔ وہ یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اسی بابت انسانیت کو اپنی فرمانروائی کیلئے لازمی نئے طریق کی تلاش کرنا ہوگی۔ جو افراد21ویں صدی میں طاقت کی پیچیدگیوں اور طرز حکمرانی میں دلچسپی رکھتے ہیں ان کے مطالعے کیلئے یہ کتاب آسان ہے اور انہیں یہ لازمی دیکھنی چاہئے۔ اس کتاب کے مطالعے سے کئی افراد کو پاکستان کی بازگشت سنائی دیتی ہے جہاں ایک نئی حکومت ایک فیصلہ کن پارلیمانی اکثریت کے باوجود کثیر الاقسام مسائل کو حل کرنے اور طاقت کو بروئے کار لانے میں مشکلات کا شکار ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں