آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 12؍شوال المکرم 1440ھ16؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جنرل ضیاء الحق کے زمانے کا ذکر ہے کہ اٹلی کے شہر روم میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کا ایک سیشن جنوبی ایشیاء میں فوڈ سیکورٹی سے متعلق تھا۔ پاکستان سمیت خطے کے سبھی ممالک کے نمائندے موجود تھے۔ اجلاس میں زرعی اجناس کے ضیاع پر ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ جنوبی ایشیاء میں اٹھارہ فیصد اجناس کیڑے مکوڑوں کی نذر ہوجاتی ہیں اور اگر ان کا معقول سدباب کردیا جائے تو یہ ممالک خود کفالت کی منزل کو ہی نہیں پالیں گے بلکہ فالتو پیداوار برآمد کرکے معقول زرمبادلہ بھی کما سکتے ہیں۔ رپورٹ پر عام بحث کا آغاز بھارتی وفد سے ہوا جس کا ہوم ورک دیدنی تھا۔ بتایا گیا کہ 18% ضیاع تو اناج گھر آنے کے بعد کا ہے۔ برداشت سے پہلے کیڑے، مکوڑوں اور پرندوں کے ہاتھوں کھڑی فصل کو ہونے والا نقصان اس کے علاوہ ہے۔ جس کا اندازہ انہوں نے 9% بتایا، گویا ذرا سی محنت سے 26% اناج ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔ ذخیرہ شدہ اناج پر حملہ آور کیڑوں کے حوالے سے سسری، ڈھورا، کھپرا، تیلا وغیرہ کا خصوصی ذکر کیا اور اس ضیاع سے بچنے کے لئے حکومت ہند کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات گنوائے۔ پاکستان کی باری آئی تو سربراہ سمیت وفد کے سبھی ارکان کی ہوائیاں اڑ رہی تھیں اور موضوع سے متعلق ان کی تیاری نہ ہونے کے برابر تھی، یوں

لگتا تھا کہ ان کے ان پٹ (input) کے بغیر ہی مائیک اگلے رکن ملک کے حوالے کردیا جائے گا مگر وفد میں شامل پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے ایک اہلکار نے کچھ لاج رکھ لی اور دو چار الٹے سیدھے جملے بول دیئے۔ وفد وطن لوٹا تو اس کی کارکردگی کی بھنک جنرل ضیاء الحق کو بھی پڑ گئی۔ ذرا کھنچائی ہوئی تو ڈی ایم جی سے تعلق رکھنے والے سربراہ نے لجاجت سے بتایا کہ وہ تو شہر کا جم پل ہے۔ دیہات اور وہاں کی سرگرمیوں کو اس نے محض پینٹگز کی حد تک دیکھ رکھا ہے۔ زرعی اجناس اور ان کے کیڑے مکوڑوں سے اس کا کیا تعلق؟ جواب میں جنرل موصوف نے وفد کے لاعلم ارکان کی ٹھیک ٹھاک فہمائش کے ساتھ ساتھ انہیں سسری، ڈھورے، کھپرے اور تیلے کے کرتوتوں اور اوصاف حمیدہ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”نالائقو! تمہیں اتنا بھی پتہ نہیں ہوتا تو دوروں پر کیوں نکل پڑتے ہو؟“ یہ قصہ تو ذرا پرانا تھا مگر آج بھی حالات وہی بلکہ اس سے بھی گئے گزرے ہیں۔ آج بھی چوکوروں میں گولے فٹ کئے جارہے ہیں۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ محض چند برس پہلے حکومت پاکستان میں کاٹن کمشنر کے عہدے پر ایک ایسا اہلکار متعین تھا جس نے زندگی میں کبھی کپاس کا پودا دیکھا ہی نہیں تھا۔
سرکاری اہلکاروں کی کارکردگی کے حوالے سے واویلا ہم بہت کرتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ سب ہمارا اپنا کیا دھرا ہی تو ہے۔ ہم جرنلسٹوں کے عشق میں بری طرح سے مبتلا ہیں اور سی ایس ایس کیڈر، بالخصوص ڈی ایم جی کو امرت دھارا خیال کرتے ہیں کہ وہ ہر مرض کی دوا ہیں یا شاید ان کے پاس جادو کی چھڑی ہے، جس سے وہ کچھ بھی کرسکتے ہیں، بارہ پروفیشنل گروپ میں بھرتی ہونے والے سی ایس ایس اہلکاروں کو اپنے اپنے شعبے میں جدید تربیت سے لیس کیا جاتا ہے مگر چند ہی برسوں میں یہ شعبہ جاتی تربیت مذاق بن کر رہ جاتی ہے۔ ٹیکس اور کسٹمز کا ماہر مذہبی امور کی وزارت میں بیٹھا نظر آئے گا، تو انفارمیشن والا صحت کا محکمہ سنبھال رہا ہوگا۔ ملٹری لینڈز میں جرنیل ہوگا، تو ایف بی آر کو ڈی ایم جی یا پرائیویٹ سیکٹر کا کوئی سفارشی افلاطون چلا رہا ہوگا۔ ریلوے کسی ایسے اجنبی کے سپرد ہوگی جو عملی طور پر سگنل ڈاؤن ہونے کے میکانزم کو بھی نہیں سمجھتا اور محکمہ کو زندگی کے 30/35 برس دینے والا ریلوے گروپ کا افسر اس کی ماتحتی میں جھک مار رہا ہوگا۔ یہ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا خالص تکنیکی اور پروفیشنل قسم کے محکمے متعلقہ ماہرین کے حوالے ہوتے ہیں، مگر ہمارے ہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ کیا اس ملک کے ملین بھر اساتذہ (بشمول ہزاروں پی ایچ ڈی) میں سے چار بھی اس اہل نہیں کہ انہیں تعلیم کا صوبائی سیکرٹری متعین کیا جاسکے؟ کیا لاکھوں ڈاکٹروں اور انجینئروں میں سے درجن بھر بھی ایسے نہیں جو اپنے اپنے شعبوں کے خالص پیشہ ورانہ مرکزی اور صوبائی محکمے سنبھال سکیں؟ ہزاروں زرعی پی ایچ ڈی ڈگری ہولڈرز میں سے کوئی بھی زراعت، آبپاشی اور خوراک سے متعلقہ محکموں میں اعلیٰ اور پالیسی ساز مناصب پر تقرر کا اہل نہیں؟ خزانہ کا محکمہ حکومتی سیٹ اپ میں قلب کا مقام رکھتا ہے، حکومتوں کی کارکردگی اس کی دھڑکن کے ساتھ بندھی ہوتی ہے اور ہم ہیں کہ فیڈریشن کی سطح پر بھی اس کی سربراہی کو مذاق بنائے رکھا۔ پانچ برسوں میں پانچ فنانس سیکرٹری صرف حکومت پاکستان ہی ایفورڈ کرسکتی ہے۔
کیس اسٹیڈی کے طور پر راقم نے حکومت کے ایک ادارے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو خاص طور پر کھنگالا جوکہ ملک بھر میں موٹر ویز اور بین الصوبائی شاہراہوں کی پلاننگ، کنسٹرکشن اور مینٹی ننس کا ذمہ دار ہے اور لوگ اس کی کارکردگی کے معترف بھی ہیں کیونکہ این ایچ اے اور کسی دوسرے محکمہ کی بنائی ہوئی سڑک کا فرق عام آدمی بھی محسوس کرلیتا ہے۔ اگلے روز این ایچ اے کے ایک ذمہ دار افسر سے بات ہورہی تھی اور یہ جان کر حیرت ہوئی کہ اس خالص انجینئرنگ محکمہ کی سربراہی کسی سینئر انجینئر کے بجائے جنرل کیڈر کے ایک سول سرونٹ کے سپرد ہے جبکہ محکمہ میں گریڈ21 اور20 کی انجینئرنگ کیڈر اسامیوں کی تعداد 47کے لگ بھگ ہے۔ ملک کی نامور انجینئرنگ یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل ہونے کے ساتھ ساتھ 25/30 برس کے پیشہ ورانہ تجربہ کے حامل یہ لوگ اپنے شعبہ میں اتھارٹی سمجھے جاتے ہیں، کیا ان میں سے ایک بھی اس اہل نہیں کہ اسے خالص انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کی سربراہی سونپی جاسکے؟ کیا واقعی جرنلسٹ بیورو کریٹ کے بغیر گزارا نہیں، جو بے چارہ انجینئرنگ کی باریکیوں اور شاہراہ سازی کی الف۔ب سے بھی نابلد ہے۔ موصوف کا کہنا تھا کہ یہ محض مفروضہ نہیں، تجربہ کی بات ہے کہ انجینئر سربراہوں کے زمانے میں محکمہ کی کارکردگی کہیں بہتر ہوا کرتی تھی۔ اس سلسلے میں موصوف نے ایک سویلین اور ایک جرنیل چیئرمین کا ذکر بالخصوص کیا کہ انجینئرنگ کیڈر سے تعلق کی وجہ سے وہ بال کی کھال اتارتے تھے اور کوئی ادھوری یا مشکوک فائل ان سے اپروو کروالینا ناممکنات میں شامل تھا جبکہ جرنلسٹ بیورو کریٹ اس صلاحیت سے عاری ہوتا ہے۔ وہ پیش کی جانے والی فائل کا تکنیکی تجزیہ تو دور کی بات تکنیکی کیوری بھی نہیں کرسکتا۔ چنانچہ وہ بڑی حد تک ممبر یا جنرل منیجر کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔ اس قسم کا ڈمی سربراہ کسی محکمہ کی تعمیر و ترقی میں کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟ اس پر دو آراء نہیں ہوسکتیں۔قانون فطرت ہے کہ بگاڑ جب اپنی انتہائی حدوں کو چھونے لگتا ہے تو قدرت کی طرف سے بہتری کے آثار پیدا ہوجاتے ہیں۔ حالیہ انتخابات کے بعد کے حالات و واقعات اس بات کی غماضی کرتے ہیں کہ شاید اللہ تعالیٰ کو ہماری بے بسی پر رحم آگیا ہے۔ بجلی سے لے کر امن عامہ کے سدھار تک تو راہ میں شاید کئی پل صراط ہوں مگر گورننس کا معاملہ تو سیدھا سا ہے۔ اللہ اور اللہ کے رسول کا بھی حکم ہے کہ امانتیں ان کے حوالے کیا کرو، جو ان کے اہل ہوں، عہدہ اور منصب بھی امانت ہے، اگر پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے انتخاب کے لئے سرچ کمیٹیاں تشکیل دی جاسکتی ہیں تاکہ بیسٹ آف دی بیسٹ سامنے آسکے تو یہی طریق کار سرکاری اداروں، کارپوریشنوں، خودمختار و نیم خودمختار محکموں کے سربراہوں کے چناؤ کے لئے اختیار کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ ہر ہر پوزیشن مشتہر ہو۔ ملک میں موجود اور باہر سے بھی اہل ترین لوگ کھلے مقابلہ میں حصہ لیں۔ یوں واقعی اہل لوگ سامنے آئیں گے تو عشروں پرانا جمود ٹوٹے گا۔ جس میں گھوم پھر کر نظر چند سو جرنلسٹس کے ایک مخصوص گروہ پر آکر ٹک جاتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں