• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال: میں نے تین کنال جگہ قبرستان کے لیے خریدی ہے ۔کسی نے مشورہ دیا ہے کہ ستون کھڑے کرکے چھت ڈال دی جائے اور قبرستان کے اوپر مدرسہ بنایا جائے، کیا شرعاً ایسا کرنا جائز ہے؟ وضاحت: زمین قبرستان کے لیے وقف کردی ہے اور وقف کرتے وقت صرف قبرستان ہی کی نیت تھی۔ (سید عمیر الحسن برنی ، کراچی )

جواب: وقف کے متعلق حکم یہ ہے کہ وقف مکمل ہونے کے بعد اُسے تبدیل کرنا یا ختم کرنا جائز نہیں ہے اور شرعاً وقف میں تبدیلی کرناجائز نہیں ہے،علامہ نظام الدین ؒلکھتے ہیں :ترجمہ:’’ وقف کی ہیئت کو بدلنا جائز نہیں ،(فتاویٰ عالمگیری ،جلد: 2،ص: 490 )‘‘۔ البتہ وقف کرنے والے کو شریعت نے یہ حق دیا ہے کہ وہ مصارفِ وقف کا تعیّن کرے اور اس سلسلے میں اسلامی فقہ کا مسلّمہ اصول ہے: شَرْطُ الْوَاقِفِ کنَصِّ الشَّارِعْ، ’’یعنی واقف کی مقررہ شرائط شارع کی نَصّ کی طرح شرعاً مؤثر ہوتی ہیں،( ردالمحتار علیٰ الدرالمختار، جلد6،ص: 508، بیروت)‘‘۔ آپ نے مذکورہ زمین کو قبرستان کے لیے وقف کردیا ،تو یہ ایک وقف مکمل ہوگیا ، اب اِس میں نہ دوسرا وقف شامل کیا جاسکتا ہے اور نہ اس وقف کو بدلا جاسکتا ہے۔