آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
نئی حکومت عزم اور تیز رفتاری سے ملک میں توانائی کی ایمرجنسی کو حل کرنے آگے بڑھی ہے، اسے اب پاکستان کا تعلیمی بحران حل کرنے کیلئے اسی قسم کی کاوشوں کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کے سواء کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو ملک کی تقدیر بدلنے کی سکت رکھتا ہو۔ شرح خواندگی بڑھانے اور انسانی سرمائے کے معیار میں بہتری لانے کے سوا کوئی اور مسئلہ سیاسی اور سماجی تناظر میں عظیم تر اتفاق رائے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ لیکن تاریخی طور پر پاکستان نے تعلیم کے شعبے میں ہمیشہ ضرورت سے کم پیسے خرچ کیے ہیں، مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 2فیصد، یہ شرح آج جنوبی ایشیا میں سب سے کم ہے۔ اقوام عالم میں پاکستان کا شمار تعلیم پر سب سے کم خرچ کرنے والی قوموں میں ہوتا ہے۔ ایسے ملکوں کی فہرست میں پاکستان دوسرے نمبر پر ہے جہاں بچے اسکول نہیں جاتے، 5 سے 16سال تک کی عمر کے ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں میں نہیں جاتے جس میں سے دوتہائی حصّہ لڑکیوں کا ہے۔ زیادہ تر سیاسی قائدین اتفاق کرینگے کے یہ ناقابل قبول ہے۔ ملک کی معاشی ترقی میں تعلیم کے محوری کردار کو تمام سیاسی جماعتیں تسلیم کرتیں ہیں۔ تمام نے اپنے انتخابی منشوروں میں تعلیم کے شعبے میں مختص رقم میں خاطر خواہ اضافے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ تعلیم کے شعبے میں قومی سطح پر ایمرجنسی

نافذ کرنے پر بھی اتفاق رکھتے ہیں۔ ماضی میں تعلیم کے شعبے میں اقتصادی وسائل مختص کرنے، بنیادی تعلیم میں سرمایہ کاری کرکے ہر بچے کی تعلیم کے حق تک رسائی کیلئے ہمہ گیر حکمت عملی وضع کرنے کی بابت کیے جانے والے وعدے پالیسی اقدامات کی صورت میں وفا نہ ہوسکے۔ حالانکہ پنجاب کے وزیر اعلٰی شہباز شریف نے اس حوالے سے اشارہ دیا ہے کہ وہ تعلیم کوزیادہ ترجیح دیں گے، اس مقصد کی جانب مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی وابستگی کا امتحان آنے والے مہینوں میں ہوگا۔ صوبائی بجٹ اس حوالے سے پہلا امتحان ہوں گے۔کیا 18ویں ترمیم کی وجہ سے تعلیمی ذمہ داریوں کے تعین میں ہونے والی تبدیلیوں نے تعلیمی چیلنج سے نبرد آزمائی کو پیچیدہ بنادیا ہے؟ ہاں یا نہیں۔ نہیں، کیونکہ 18ویں ترمیم (جس نے صوبوں تک مزید اختیارات منتقل کیے) کی منظوری سے قبل ہی اسکولوں اور کالجوں کو چلانے،انہیں سرمایہ دینے، ان میں اساتذہ کو بھرتی کرنے اور انکی تربیت کرنے کا اختیار پہلے ہی صوبائی حکومتوں کے پاس تھا۔
صوبوں کو تعلیم کیلئے اضافی رقم مختص کرنے سے کسی نے نہیں روکا اور اب انکی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ درحقیقت گزشتہ این ایف سی ایوارڈ کی مہربانی سے آج صوبائی حکومتیں کے پاس زیادہ وسائل ہیں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ 18ویں ترمیم کئی کلیدی سوالوں کے جوابات دینے سے قاصر رہی، اس ترمیم کے طفیل تعلیم کے شعبے میں مرکزی حکومت کے رہے سہے اختیارات مکمل طور پر صوبائی حکومتوں تک منتقل ہوئے ماسوائے اعلٰی تعلیم کے شعبے اور اس ضمن میں بین الاقوامی امداد کے سلسے میں باہمی ربط پیدا کرنے کیلئے، ان میں قومی سطح پر نصاب کی تیاری، قومی سطح پر تعلیمی معیار کے تعین کے حوالے سے شماریاتی رپورٹ تشکیل دینا شامل ہیں۔ تاہم تعلیمی نصاب کے ضمن میں صوبوں کو اختیارات کی مکمل طورپرمنتقلی سود مند ہے، تعلیمی معیار وضع کرنا اور اسے رپورٹ کرنا، پریشان کن سوالات کو جنم دیتا ہے کہ کس طرح مستقبل میں قومی سطح پر تعلیمی معیار کو معقول سطح پر لے جایا جاسکے گا۔ تعلیم کے شعبے میں کلیدی مظاہر رپورٹ کرنے کیلئے بنیادی ساخت کیا ہوگی؟ کس طرح مشترکہ نصاب ترتیب دیا جاسکتا ہے؟ کیا نصاب سازی میں وفاقی کردار کو بالائے طاق رکھ کر صوبائی سطح پر نصاب سازی کرنے سے قومی سطح پر تذبذب اور غیر مساوی معیار روا رکھنے سے خطرہ پیدا نہیں ہوگا؟ پاکستان کی ترقی میں معاونت کا اہم ہم سخن کون ہوگا؟
سب سے بڑھ کر تعلیم تک رسائی ہر بچے کا حق ہے، کون 18ویں ترمیم میں درج اس آئینی ذمہ داری سے عہدہ برا ہوگا؟ اس ترمیم کی وساطت سے آرٹیکل25A آئین میں شامل ہوا، جو کہتا ہے کہ،’ ریاست 5سے16سال تک کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کرے گی۔ اگر ہر روز اس آرٹیکل کی خلاف ورزی کی ڈھائی کروڑ نظیریں نظر سے گزرتی ہیں تو اسکے تدارک کیلئے کون آگے بڑھے گا؟ کیا وفاقی حکومت کو اس بنیادی ذمہ داری کو پورا کرنے میں صوبوں کی رہنمائی نہیں کرنی چاہئے ، یہاں تک کہ اس ضمن میں دونوں کو مشترکہ ضمانتی ہونا چاہئے۔ اسکے نتیجے میں اسکی تکمیل کا سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کس طرح صوبوں کے مابین کم از کم مشترکہ معیار پر اتفاق رائے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ شروعات میں وفاقی حکومت اپنے وسیع تر کردار سے دستبرار نہیں ہوسکتی یا نہ ہی 18ویں ترمیم کو بہانے کے طور پر استعمال کرسکتی ہے کہ اس کے تحت تو تعلیم کے شعبے میں اعلٰٰی تعلیم کے علاوہ اسکی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر نصاب سازی اور قومی معیار قائم کرنے کیلئے 18ویں ترمیم میں تبدیلیاں کرنا پڑیں تو کردی جائیں۔
پارلیمنٹ میں ایک معقول اکثریت کی حامل حکومت کو اس سے شرمانا نہیں چاہئے۔دنیا کا کوئی بھی وفاق ایسے اہم زمرے میں اپنا کردار ترک نہیں کرتا یا اس حوالے سے ناکامی پر خود کو بے گناہ قرار نہیں دیتا، نہ ہی متوازن تعلیمی ترقی کیلئے امور میں ربط پیدا کرنے، معیار کو برقرار رکھنے، واضح طور پر نگرانی اور مشترکہ تعلیمی معیار کے حصول کیلئے روگردانی نہیں کرتا۔ صوبائی سطح پر اس حوالے سے جہاں عدم مساوات ہے، مرکزی حکومت کو بھی انہیں ختم کرنے، تعلیم تک غیر مساوی رسائی اور صنفی عدم توازن کے خاتمے کیلئے سختی سے اقدامات کرنے ہونگے۔ یہ خاص طور پر اہم ہے کیونکہ تعلیمی سطح پر صوبوں کے مابین وسیع تر عدم مساوات موجود ہے۔ یہ نئی وفاقی حکومت پر منحصر ہے کہ وہ موجودہ اداروں جیسے مشترکہ مفادات کی کونسل(سی سی آئی) کے ذریعے یا ایک نیا معقول طریق کار وضع کرکے(سی سی آئی کے ذریعے کسی کمیشن یا کونسل بناکے) ہر بچے کو اسکول بھیجنے کی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔
مرکزی حکومت این ایف سی ایوارڈ میں تعلیم کے زمرے میں دستیاب وسائل میں سے اس شعبے میں زیادہ حصّہ مختص کرکے صوبوں کو راغب کرنے میں سبقت لے سکتی ہے۔ یہاں تک کے تعلیم کے شعبے میں زیادہ رقم مختص کرنے کے حوالے سے مالی منتقلی کی شرط میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ مرکز 18ویں ترمیم کی شقوں میں تبدیلی سمیت جو راستہ چنے، اسکے اقدامات میں یہ تسلیم کرنے کا مظہر ہونا چاہیئے کہ ہر ایک کیلئے تعلیم محض آرزو کردہ سماجی مقصد نہیں بلکہ اس حوالے سے تذویر لازمی جزو ہے۔ اسے مخصوص مدت میں پرائمری سطح پر مکمل انرولمنٹ، سیکنڈری اور یونیورسٹی سطح پر بڑی تعداد میں انرولمنٹ کے مقصد کو حاصل کرنے کیلئے واضح حکمت عملی وضع کرنی چاہئے۔ سب سے بڑھ کر حکومت کو چاہیے کہ وہ قلیل مدتی پالیسیوں کو مسترد کریے جو ماضی کی ہر حکومت کی حکمت عملی کا خاصہ رہی ہے اور جس کی تعلیم کے شعبے کو ایک بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ تعلیم ملک کو درپیش چیلنجوں میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ قریباً ہر مسئلے کے حل کی کنجی ہے،جس میں مثال کے طور پر معاشی ترقی، بین الاقوامی مسابقت، سماجی ترقی اور جدتیں، انتہاپسندی کا مقابلہ کرنا، برداشت کے حامل اور روشن خیال معاشرے کو پروان چڑھانا، اور عوام سے کیا عمرانی معاہدہ وفا کرنا وغیرہ شامل ہیں۔ انسانی سرمایہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے ایک مخصوص سرمایہ کاری ہے، ایک تغیراتی وسیلہ ہے جو کہ زندگیاں تبدیل کرسکتاہے اور ترقی یافتہ اور محفوظ پاکستان کی بنیاد ڈال سکتا ہے۔
تعلیمی نظام میں تبدیلی اور جوان لوگوں کو ہنر فراہم کرنے کی ایک مدلل وجہ بھی ہے، آج پاکستان آبادیاتی تبدیلی کے مرحلے سے گزررہا ہے، اس کے کام کرنے والے افراد کی آبادی اگلے بیس سالوں میں دگنی ہونے والی ہے۔ جوان افراد ملک کے لئے ایک حیاتی قوت اور موقع ہے۔ لیکن یہ افراد ملازمتوں کے اکھاڑے میں پریشان کن رفتار کے ساتھ داخل ہورہے ہیں۔ محض اگلے دس سالوں میں معیشت کو تین کروڑ ساٹھ لاکھ ملازمتیں پیدا کرنی ہوں گی۔آیا یہ آبادیاتی تبدیلی ملک کیلئے رحمت ثابت ہوگی یا زحمت، اس کا انحصار نوجوان افراد کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے اور انہیں ملازمتوں کے حصول کیلئے ہنر اور تربیت فراہم کرنے پر ہے۔ اگر تعلیمی معیار اور حجم میں خاطر خواہ اضافہ ہوجائے تو پاکستان کو آبادیاتی ثمرات حاصل ہونگے۔ لیکن اس کے برعکس اگر جوان افراد کو ملازمتیں نہ ملیں اور انہیں مستقبل تاریک نظر آرہا ہو تو یہ منفی تناظر سماجی عدم استحکام اور شورش کا موجب بن سکتا ہے۔ ناکام آبادیاتی تبدیلی کے ابتر نتائج مرتب ہوسکتے ہیں جو کہ قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرات بن سکتی ہے۔
نومبر1947ء میں آل پاکستان ایجوکیشن کانفرنس ہوئی، جس میں پاکستان کے ایک ریاست کے طور پر زندہ رہنے کے لئے تعلیم کو اہم ترین قرار دیا گیا۔ جس میں قائد اعظم کے ان لفظوں کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے، جنھوں نے کہا تھا کہ تعلیم ہمارے ملک کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ لمبے عرصے تک تعلیم سے روگردانی کی گئی جس نے ملک کو عظیم تر خطرات کے سامنے لاکھڑا کیا۔ ڈرامائی طور پر بہتری کے ساتھ مرتب کردہ تعلیمی نتائج گزارے اور ترقی کیلئے اور 21ویں صدی کے پیچیدہ اور چشم نمائی کرنے والے چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے لازمی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں