• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چاند کا تنازع، سرکاری اور غیر سرکاری علماء آمنے سامنے

کراچی، لاہور، اسلام آباد(اسٹاف رپورٹر) ایجنسیاں) شوال کے چاند پر تنازع اور بحث کا سلسلہ تاحال نہ تھم سکا ، معاملے سرکاری اور غیر سرکاری علماء آمنے سامنے آگئے ہیں۔ 

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے کہا ہے کہ تمام مسلمان ایک روزہ قضا رکھیں ۔

مولانا راغب نعیمی کا بھی کہنا ہے عید کروانے کی ذمہ داری حکومت پرہوتی ہے لہٰذا شرعی طور پر جمعہ کو چھوڑ کر ایک روزے کی قضا کرلی جائے۔

چاند کے حوالے سے وائرل ویڈیو کا معاملہ، مولانا یاسین کی وضاحت سامنے آگئی،رویت ہلال کمیٹی کے رکن مولانا یاسین ظفر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے دوست کو صرف چاند کے اعلان میں تاخیر کی وجوہات بتائی تھیں۔

تفصیلات کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سابق چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن نے جمعرات کو نماز عید کے موقع پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہےکہ رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے پر میں پوری رات روتا رہا ہوں۔

مفتی منیب الرحمٰن نے رویت ہلال کمیٹی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت کو من پسند ، کٹھ پتلی رویت ہلال کمیٹی چاہیے تھی، رویت ہلال کمیٹی مسجد قاسم خان کے مفتی شہاب الدین کا انتظار کر رہی تھی جیسے ہی انہوں نے چاند دیکھے جانے کا اعلان کیا انہوں نے بھی کر دیا۔

مفتی منیب نے مزید کہا کہ ہماری میٹنگ میں کسی وزیر کی جرات نہیں تھی کہ وہ بیٹھے، میں وصیت کرتا ہوں کہ تمام مسلمان ایک روزہ قضا رکھیں، معتکف بھی روزے کی حالت میں ایک روز کا اعتکاف کریں۔ 

دوسری جانب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے رکن اور جامعہ نعیمیہ کے سربراہ مولانا راغب نعیمی نے کہا ہے کہ 1967میں جمعہ کو عید آنے پر رویت ہلال سے جمعرات کو عید کروائی گئی، اس وقت 5بڑے علما نے فیصلے سے انکار کیا تو انہیں دو ماہ مچھ جیل میں رکھا گیا،ان کا کہنا تھاکہ مفتی الیاس اور مفتی منیب سمیت دیگر علما کا ماننا ہے کہ عید کروانے کی ذمہ داری حکومت پرہوتی ہے لہذا شرعی طور پر جمعہ کو چھوڑ کر ایک روزے کی قضا کرلی جائے۔

جبکہ وزیر اعظم کے نمائندہ خصوصی برائے مذہبی ہم آہنگی و مشرق وسطی حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ یکم شوال کی شام کو دکھائی دینے والے چاند نے رویت ہلال کمیٹی کے فیصلے کی صداقت کی تائید کردی ہے۔ 

ایک پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے علمائے کرام اور مذہبی اسکالرز سے مشاورت کے بعد کہا کہ پاکستان علما کونسل (پی یو سی) نے اعلان کیا ہے کہ عید کا چاند نظر آنے کا فیصلہ غلط نہیں تھا اس لئے روزہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ رویت ہلال کمیٹی کی طرف سے چاند دیکھائی دینے کے اعلان میں تاخیر شرعی تقاضوں کے مطابق احتیاطی تصدیق اور شہادتوں کی صداقت کی جانچ پڑتال کے عمل کو پورا کرنے کی وجہ سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم حتی کہ ان لوگوں نے بھی ، جنہوں نے اس فیصلے کو غلط قرار دیا عید منائی۔ 

مخالفین نے شرعی تقاضوں کے مطابق فیصلے کو قبول کیا اوراپنے سیاسی مصلحت کی وجہ سے اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ علاوہ ازیں کزی رویت ہلال کمیٹی کے رکن مفتی یاسین ظفر کی ویڈیو نے معاملہ مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔

رویت ہلال کمیٹی کے رکن مولانا یاسین ظفر نے بھی ویڈیو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے دوست کو صرف چاند کے اعلان میں تاخیر کی وجوہات بتائی تھیں۔

خیال رہے کہ وزارت مذہبی امور کے سوشل میڈیا پیجز سے عید کے چاند کی تصاویر شیئر کراتے ہوئے لکھا کہ اسلام آباد، لاہور، پشاور سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں 2 شوال المکرم کا چاند کا مشاہدہ لاکھوں لوگوں نے کیا۔

اہم خبریں سے مزید