• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ ہائی کورٹ نے زیادتی کے کیسز کا شفاف ٹرائل چلانے کے لیے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے پولیس اور ممبر انسپکشن ٹیم سے تفصیلات طلب کر لیں اور ایس او پیز بنانے کا حکم دے دیا۔

عدالتِ عالیہ نے پولیس اور ممبر انسپکشن ٹیم کو ایس او پیز کو حتمی شکل دے کر رپورٹ دینے کا حکم دے دیا۔

سندھ ہائی کورٹ نے فریقین سے 2 جون کو جواب طلب کرلیا۔

دورانِ سماعت عدالتِ عالیہ کے جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ممبر انسپکشن ٹیم کہاں ہیں؟

انسپکشن ٹیم کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ کے ممبر انسپکشن ٹیم کورونا وائرس کا شکار ہو گئے ہیں۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ چاہتے ہیں کہ سندھ ہائی کورٹ کی نگرانی میں ایس او پیز کو حتمی شکل دی جائے۔

انہوں نے درخواست گزار کےوکیل کی سفارشات کے مطابق ایس او پیز بنانے کی ہدایت کر دی۔

قومی خبریں سے مزید