آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار19؍ربیع الاوّل 1441ھ 17؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
24جون اِس اعتبار سے ایک تاریخی دن تھا کہ وزیر اعظم نے قومی اسمبلی کو اعتماد میں لیتے ہوئے جنرل مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا جس کا بیشتر پارلیمانی قائدین کی طرف سے خیر مقدم کیا گیا۔ اُن کی تقریر کا مرکزی خیال یہ تھا کہ عوام نے ہمیں بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ  مہنگائی اوردہشت گردی سے نجات دلانے  معیشت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے اور پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کے لیے ووٹ دیے ہیں اور ہم اپنی ساری توجہ توانائی کا بحران ختم کرنے پر مبذول رکھیں گے جس نے اٹھارہ کروڑ اہلِ وطن کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔
اُنہوں نے جچے تُلے الفاظ میں کہا کہ ہمارے لیے اِن مسائل پر قابو پانے کے پہلو بہ پہلو جنرل پرویز مشرف کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بھی قائم کرنا ضروری ہے  تاکہ آئین اور قانون کی عملداری پوری قوت سے قائم رہے اور آئندہ کسی طالع آزما کو آئین شکنی کا حوصلہ نہ ہو۔ اُنہوں نے یہ دوٹوک بیان دیا کہ 3نومبر 2007ء کی سہ پہر اُس وقت کے آرمی چیف کی حیثیت سے جنرل مشرف نے ایمرجنسی نافذ کی  آئین معطل کر ڈالا اور اعلیٰ عدلیہ کے فاضل جج صاحبان جنہوں نے دوسرے پی سی او پر حلف اُٹھانے سے انکار کیا تھا  اُنہیں برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ گھروں میں قید بھی کر دیا گیا۔ اِس غیر آئینی اقدام کو پارلیمنٹ نے جواز فراہم نہیں

کیا اور عدالت ِ عظمیٰ نے 31جولائی 2009ء کے فیصلے میں جنرل مشرف کو تنہا اِس جرم کا ذمے دار قرار دیا تھا  چنانچہ فوجی آمر کے خلاف مقدمہ دائر کرنا وفاقی حکومت کی آئینی ذمے داری ہے۔
وزیراعظم کے موقف میں کوئی جھول یا ابہام نہیں تھا اور اُنہوں نے ایک مشکل صورتِ حال میں بڑی دانائی اور سیاسی جرأت کا مظاہرہ کیا  مگر اندیشہ ہائے دور دراز کے مخبروں نے چند ہی گھنٹوں میں اَن گنت سوالات اور خدشات کا انبار لگا ڈالا۔ قائد حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ جن کی جماعت نے جمہوریت کے قاتل جنرل مشرف کو ملک سے باہر بڑی عزت و احترام سے بھیجا تھا اُنہوں نے ارشاد فرمایا کہ اُن تمام آمروں کا احتساب ہونا اور اُن کی تصویریں ریاستی اداروں سے ہٹا دینی چاہئیں جنہوں نے مختلف وقتوں میں منتخب حکومتوں کا تختہ اُلٹا اور فوجی حکومتیں قائم کی تھیں۔ اُن کی گفتگو کا غالباً مقصد احتساب کے عمل کو لامتناہی وسعت اور طوالت کی نذر کر دینا ہے۔ اُن کے جواب میں جناب اعجاز الحق نے اِس سویلین آمر کا ذکر چھیڑ دیا جس نے انتخابات میں دھاندلی کی تھی  اپنے سیاسی حریفوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھانے کے لیے دلائی کیمپ اور پولیس اسٹیٹ قائم کر رکھی تھی اور آزادیٴ صحافت کا گلا گھونٹ دیا تھا۔جناب شیخ رشید احمد نے مخلصانہ مشورہ دیا کہ حکومت بغاوت کا مقدمہ چلانے کی دلدل میں پھنسنے کے بجائے اِن مسائل کا حل تلاش کرنے پر بھرپور توجہ دے جن کے باعث عوام امن اور سکون کو ترس گئے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر جناب مخدوم شاہ محمود قریشی نے وزیر اعظم کے فیصلے کا بہت خوش دلی سے خیرمقدم کیا اور اپنے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ جماعت اسلامی بھی اِس تاریخی فیصلے میں حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی تھی۔
قومی اسمبلی میں جو ایک وسیع تر اتفاقِ رائے کی فضا پیدا ہوئی  ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے چشمِ زدن میں ایک دوسرا ہی رنگ جما ڈالا۔ بعض اینکر پرسن یہ کہہ کر ڈراتے رہے کہ قومی اسمبلی کے ارکان کو فوج کی طرف سے مارشل لا کے نفاذ کے ایس ایم ایس وصول ہو رہے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر دو تین روز سے جو مباحث سننے میں آ رہی ہیں  اُن میں سیدھی اور اصولی بات کی عجیب و غریب توجیہات کی جا رہی ہیں اور بعض سیاسی لیڈر اور ریٹائرڈ جرنیل پنڈورا بکس کھل جانے کا خطرہ ظاہر کر رہے ہیں۔مسئلے کو مزید اُلجھانے کی خاطر یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بغاوت کا مقدمہ 12/اکتوبر 1999ء کے اصل جرم پر قائم کیا جانا چاہیے اور وہ تمام جرنیل  جج صاحبان اور پارلیمنٹ کے ارکان شامل ِ تفتیش کیے جائیں جنہوں نے فوجی انقلاب کو سندِ جواز عطا کی اور غیر آئینی احکام پر عمل درآمد کیا۔ اِس امر کی طرف بار بار اشارے کیے جا رہے ہیں کہ جنرل مشرف پر بغاوت کا مقدمہ چلانے سے سول اور فوجی اداروں میں تصادم کی کیفیت پیدا ہو جائے گی اور حکومت ابتدائی دنوں ہی میں عضو معطل بن کے رہ جائے گی۔
حکومت کے خیال میں یہ وقت آمر پر مقدمہ چلانے کے لیے بہت سازگار ہے۔ ایک تو اِس کا مینڈیٹ ابھی انتہائی مستحکم اور تازہ ہے  دوسرا یہ کہ اِس وقت جنرل کیانی فوج کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں جو عوامی حمایت اور جمہوری اقدار پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور وہ جنرل مشرف کے خلاف بغاوت کے مقدمے کو اپنی منظم فورس پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔ تیسرا یہ کہ اعلیٰ عدالتیں بھی آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں بے حد سرگرم رہی ہیں اور فوجی بغاوت کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کر دینے کے لیے نہایت پُرعزم ہیں  لہٰذا وہ اِس امر کا پورا پورا خیال رکھیں گی کہ فیئر ٹرائل کے ذریعے فوجی آمر کو عبرت کا نشان بنا دیا جائے ۔ بلاشبہ ہم اپنے ملک میں اِس نوعیت کا پہلا تجربہ کرنے چلے ہیں جسے ایک سے زیادہ آزمائشوں کا سامنا ہو سکتا ہے  لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ جناب وزیر اعظم نے ذاتی انا سے بلند ہو کر جو ایک بہت بڑا فیصلہ کیا ہے  وہ اگر احتیاط  عملی فراست اور قومی اتفاقِ رائے سے اُسے عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں  تو تاریخ اُنہیں ہمیشہ ایک بلند ہمت اور بلند نگاہ حکمران کے طور پر یاد رکھے گی۔
مجھے جناب عمران خاں کا یہ فیصلہ بھی بہت اچھا اور بڑا انقلابی لگا جس میں اُنہوں نے خیبر پختونخواہ کے وزیر اعلیٰ کو سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔ اُن کے اِس دلیرانہ اقدام کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے۔ وفاقی حکومت اور دوسرے صوبوں میں بھی یہ احساس تقویت پکڑتا جائے گا کہ جب ہمارا قومی خزانہ خالی ہے  تو ہمارے حکمرانوں کو اپنے مخصوص جیٹ طیاروں میں سفر کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے جن پر بے پناہ اخراجات اُٹھتے ہیں۔ مجھے وزیر اعظم کے اِس فیصلے کی بھنک پڑنے سے بھی بڑا حوصلہ ملا کہ وہ اسلام آباد سے لاہور آنے کے لیے خاص طیارے کے بجائے ٹرین میں سفر کریں گے۔ میرے لیے اور پوری قوم کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کا یہ فیصلہ ایک بہت بڑی خوشخبری سے کم نہیں کہ وہ اپنے صوبے میں قیامِ امن کے لیے ناراض بلوچ بھائیوں سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے والے ہیں اور اُن کے حقوق و مفادات کے لیے سیاسی جدوجہد کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ امن کا راستہ اگرچہ خطرات سے پُر ہے  مگر ہمیں اُمید ہے کہ وہ مرکزی حکومت اور عسکری قیادت کے تعاون سے بتدریج بلوچستان کو لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں کے عذاب سے باہر لے آئیں گے۔
اتنے بڑے فیصلوں کے ”جلو“ میں جناب نجم سیٹھی پر کرکٹ بورڈ کے قائم مقام چیئرمین کی ذمے داریاں لاد دینا مجھے انتہائی چھوٹا اور ناقابلِ فہم اقدام دکھائی دیا جسے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ اِس فیصلے کے پس منظر میں عجیب داستانیں سر اُٹھا رہی ہیں اور مجھے اپنے عزیز دوست پر بڑی حیرت ہے کہ اُنہوں نے اپنے لیے اِس قدر ادنیٰ مقام کیوں پسند کیا جو اُن کی تجزیہ و تحقیق سے آراستہ شخصیت سے کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔ سوچتا ہوں اب اُن سے کس زبان میں بات کروں اور نکتہ چینوں کو کیا جواب دوں۔ نئی حکومتوں کے ابتدائی دنوں میں بڑے فیصلے بھی ہو رہے ہیں اور انتہائی کم تر بھی۔ ایک معیار بہر حال قائم رکھنا اور افواہوں اور سرگوشیوں کی یلغار سے محفوظ رہنا ہو گا۔