آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
طالبان کی جانب سے قطر میں دفتر کھولے جانے کے بعد افغانستان میں ایک جامع امن عمل شروع ہونے کی امیدیں پیدا ہوگئی ہیں۔اگرچہ گزشتہ ہفتے ہونے والے اس عمل میں ابتدا میں کچھ مشکلات کا سامنا رہا تاہم اس کے باوجود سفارتی سطح پر یہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد 12سال کی طویل جنگ کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ہے۔تاہم اگر اس امن عمل کے حوالے سے پیچیدگیوں کے بارے میں کوئی ثبوت درکار ہوں تو اس کا اندازہ طالبان کی جانب سے انتہائی محتاط انداز میں دفتر کے افتتاح سے چند ہی گھنٹوں بعد پیدا ہونے والے حالات سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل کہ امریکی صدر باراک اوبامہ جی ایٹ ممالک کی کانفرنس میں اس اقدام کو مفاہمت کی جانب پہلا اہم قدم قرار دیتے، افغان صدر حامد کرزئی نے قطر میں ہونے والے مذاکرات کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا اورانہوں نے 2014ء کے بعد امریکی فوج کی افغانستان میں موجودگی پر ہونے والے مذاکرات بھی معطل کردیئے۔ گزشتہ دو سالوں کے دوران جب سے قطر میں امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا ہے جو ابتدا میں امریکہ اور طالبان کے درمیان پس پردہ نمائندوں کے درمیان رابطوں کی صورت میں تھا، کرزئی کی جانب سے اسی طرح کا رویہ دیکھنے میں آیا، جب کہ موجودہ معاملے میں کرزئی نے طالبان کی جانب سے قطر میں اپنے دفتر میں اسلامک امارات کے نشان

اور جھنڈے کے استعمال پر برہمی کا اظہار کیا ۔ کابل کی جانب سے امریکہ اور قطر پر ان سمجھوتوں کی خلاف ورزی کاالزام بھی عائد کیا گیا کہ قطر کا دفتر صرف مذاکرات کا ایک مقام ہوگا نہ کہ افغان مخالف ایک سفارتخانہ ہوگا ۔ اس مسئلے کو خاموشی سے حل کرنے کے بجائے کرزئی انتظامیہ نے اسکا اظہار عوامی غم وغصہ کی صورت میں کیا جس کا انہیں اسی صورت میں جواب ملا۔کرزئی حکومت کیلئے طالبان کی جانب سے بینر کا استعما ل اصل مسئلہ نہیں بلکہ انہیں ڈر ہے کہ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوگئے تو نتیجتاً سیاسی طور پر ان کے اقتدار کا خاتمہ ہوجائے گا ۔ واشنگٹن نے فوری عمل کرتے ہوئے کابل کے غصے کو ٹھنڈا کرنے اورانہیں امن عمل سے قطع تعلق رہنے سے بچانے کیلئے قطری حکام کو استعمال کیا اور ایک ہی دن کے دوران طالبان کی جانب سے دفتر پر آویزاں تختی اور جھنڈے کو ہٹادیا گیا۔ اس کے باوجود سفارتی سطح پر کرزئی کو بری طرح نقصان پہنچا تاہم اگر امن عمل شرو ع ہوا تو اس کے ذریعے سے کرزئی کو سنگین نتائج کاسامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ دوسری جانب دفتر کے افتتاح کے بعد امریکہ کی جانب سے اس کے حق میں ایک بیان جار ی ہونا تھا جسے روک لیا گیا تاکہ کابل کی جانب سے جاری اعلامیے کے بعد اس کے غصے کے ٹھنڈے ہونے کا انتطار کیا جائے۔ مذاکرات کے اس متزلزل عمل کے باوجود دوحہ میں ہونے والی ایک نئی تعمیر کی اہمیت کو کم نہیں کیا جاسکا اور نہ ان سفارتی کاوشوں کی شدت کو کم کیا جاسکا جس میں پس پردہ پاکستان نے اہم کردار ادا کیا تھا۔طالبان کی جانب سے دوحہ میں دفتر کے کھولنے کے بعد یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغان تنازعے کے دونوں فریقین، طالبان اور امریکہ، مذاکرات کیلئے رضامند ہیں۔یہ ایک موثر اشارہ ہے کہ دونوں فریقین جنگ کے سیاسی اختتام کی جانب دیکھ رہے ہیں اور دونوں فریقین کے حق میں یہی بہتر ہوگا۔اس کے ذریعے سے عالمی سطح پر یہ بھی تسلیم کیا گیا کہ طالبان قانونی طور پر مذاکرات کا حصہ ہیں۔اس کے بدلے میں طالبان نمائندوں کی جانب سے دفتر کے افتتاح کے موقع پر دو بیانات سامنے آئے ۔ جس میں دو اہم پیغامات تھے جس کا امریکہ کافی عرصے سے مطالبہ کر رہا تھا اور دفتر کے کھولنے کے لئے بھی ایسی ہی شرائط رکھی گئی تھیں۔ پہلے بیان میں یہ ضمانت لی گئی کہ افغانستان کی زمین کو دیگر ممالک کو دھمکیوں اوران کیخلاف استعمال نہیں کیا جائے گا اور دوسرا یہ کہ طالبان کی دیگر افغانیوں سے ملنے کی شرط شامل تھی۔ دفتر کے معاملے پر دونوں فریقین اپنی گزشتہ شرائط سے دستبردار ہوتے ہوئے ایک معاہدے پر پہنچے۔اگر چہ طالبان کی جانب سے آنے والا بیان(جو کہ گزشتہ بیانات کی طرح ہی تھا) امریکی حکام کی خواہشات کے عین مطابق نہ تھا جس طرح وہ چاہتے تھے کہ طالبان عوامی سطح پر القاعدہ سے علیحدگی کا اعلان کریں تاہم واشنگٹن کیلئے یہ بیان بھی قابل قبول تھا جو طالبان کو عالمی سطح پر دہشتگردی سے علیحدہ کرنے کیلئے اسے پہلا قدم قرار دے رہے ہیں۔ماضی میں اس ضمن میں امریکہ نے اپنی پالیسی میں 2011ء میں اہم تبدیلی کی اورامریکہ نے طالبان کے ساتھ مذاکرات سے قبل اپنی سابقہ تین شرائط تبدیل کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ مذاکراتی عمل سے قبل طالبان کو القاعدہ سے علیحدہ ہونا پڑے گا، تشدد ترک کرنا ہوگا اور افغان آئین کا احترام کرنا ہوگا۔ جن کا اعلان فروری 2011ء میں امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے ایک تقریر کے دوران کیا گیا تھا جس سے پہلی مرتبہ واضح طور پر طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی توثیق کی گئی۔ اس کے بعد جون 2010ء میں صدر اوبامہ کی جانب سے کی گئی تقریر میں تسلیم کیا گیا کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں۔ اس ضمن میں طالبان کی جانب سے بھی سیاسی دفتر حاصل کرنے کیلئے لچک کا مظاہرہ کیا گیا۔ مارچ 2012ء میں طالبان نے امریکہ کے ساتھ جاری ابتدائی مذاکرات کو ترک کردیا اور یہ الزام عائد کیا کہ امریکہ گوانتاناموبے میں قید پانچ طالبان قیدیوں کی رہائی کے اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ رہا ہے، طالبان کے مطابق واشنگٹن نے یہ وعدہ کیا تھا۔ اس ضمن میں قیدیوں کا تبادلہ جس میں طالبان قیدیوں کے بدلے میں ان کی قید میں ایک امریکی قیدی کا تبادلہ اعتماد سازی کے اقدامات میں شامل تھا، معاہدے میں یہ بھی شامل تھا کہ طالبان ایک بیان جاری کریں جس میں وہ القاعدہ سے لاتعلقی کا اظہار کریں۔ اس حوالے سے معاہدے کے طریق کار پر عملدرآمد پر اختلاف پایا جاتا تھا، طالبان کا اصرار تھا کہ امریکہ پہلے قیدیوں کو رہا کرے۔ اس کے بعد 18ماہ تک امریکہ اور طالبان میں براہ راست رابطے منقطع رہے۔طالبان کی جانب سے قطر میں دفتر کے افتتاح کے موقع پر جاری ہونے والے بیان میں وہ شرائط بھی مان لی گئیں جن کے حوالے سے ماضی میں طالبان رہنماؤں کی جانب سے شکایت کی جاتی رہی۔ مذاکرات کے اس نئے دور کا آغاز پاکستان کی کوششوں سے ہوا ۔پاکستان کی جانب سے ان کوششوں میں مزید تیزی 24اپریل کو برسلز میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے درمیان ملاقات کے بعد دیکھنے میں آئی۔طالبان کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی کہ وہ پہلے بیان جاری کریں نہ کہ مذاکرات سے قبل قیدیوں کی رہائی کے مطالبے کا اصرار کریں۔ اس بیان کے بعد یہ بھی واضح ہوجائے گا طالبان افغان مذاکرات میں کابل کے اعلٰی امن کونسل کی شمولیت پر رضا مند ہیں۔ اس کے بعد مذاکرات کا ابتدائی مرحلہ شروع ہوگا جس میں امریکہ اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے سمیت مختلف اہم مسائل پر بات ہوگی۔اس نکتے پر معاملات طے پانے کیلئے 2سال کا وقت لگا اور اس دوران سفارتی کاوشوں کے باوجودکئی اہم مواقع ضائع کئے گئے۔ مثال کے طور پردسمبر 2011ء میں یہ معاہدہ طے پایا تھا کہ بون کانفرنس میں اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے طالبان کے دوحہ میں دفتر کھولنے کا اعلان کیا جائے گا۔ تاہم کرزئی کی طرف سے شدید مخالفت کے بعدایسا نہ ہو سکا اور ان کی جانب سے پیش کی گئی نا ممکن شرائط اس عمل کے شروع ہونے میں رکاوٹ بنیں۔ مثال کے طور پر کرزئی بضد تھے کہ دوحہ میں طالبان دفتر کھولے جانے پر قطر ان کی جانب سے طے کی گئی شرائط پر مبنی ایک یادداشت پر دستخط کرے۔تاہم نہ ہی اس شرط کو قطر نے تسلیم کیا اور نہ ہی امریکہ نے۔ رواں سال جنوری کے مہینے میں افغان صدر کرزئی کے دورئہ واشنگٹن کے موقع پر صدر اوبامہ نے کرزئی کو اپنے مطالبے سے دستبردار ہونے پر رضا مند کرلیا تھا تاہم بعد میں افغان صدر اپنے وعدے سے مکر گئے کرزئی کے اس اقدام پر وائٹ ہاوس کو شدید پریشانی ہوئی۔گزشتہ دو سال کے عرصے میں سفارتی مذاکرات میں تعطل کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ اوبامہ انتظامیہ قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر تذبذب کا شکار تھی اور اسے اس معاملے پر کانگریس کے سخت رد عمل کے آنے کا ڈر تھا۔اگر قیدیوں کے تبادلے کا معاملہ پہلے ہی طے کرلیا جاتا تو امن معاملہ میں ایک اچھی پیش رفت ہو سکتی تھی اور مذاکرات کاعمل مزید آگے بڑھ سکتا تھا۔ طالبان کی جانب سے ایک مرتبہ مذاکرات کا عمل معطل کئے جانے کے بعد امریکی رہنماؤں کواعلٰی افسران کی جانب سے دباؤ کا سامنا بھی رہا جن کا کہنا تھا کہ اس ضمن میں کوئی رعایت نہ برتی جائے۔
Once the Taliban suspended talks last year its leaders too came under pressure from the rank-and-file to 'wait it out' and not make concessions.
اوبامہ کے دوبارہ انتخاب کے بعد قطر امن مذاکرات کا دور اس وقت دوبارہ شروع ہوا جب انہوں نے اپنی قومی سکیورٹی ٹیم میں تبدیلی کی اور پاکستان کی جانب سے 2013ء کے ابتداء میں واشنگٹن کے ساتھ مضبوط مصالحت کے ہی دوحہ مذاکرات کا عمل ایک فیصلہ کن مرحلے کی طرف آگے بڑھاجس کے بعد ناٹو کی جانب سے افغانستان سے واپسی کیلئے مقرر کردہ 2014کی ڈیڈلائن کو پورا کرنے کے عمل میں مزید تیزی آئی جب زیادہ تر غیر ملکی فوجی افغانستان سے واپس چلے جائیں گے۔ دوحہ میں طالبان کا دفتر کھلنا بے شک ایک مشکل سفر کا آغاز ہے جو کہ مسائل سے بھر پور ہے اور جس میں کئی رکاوٹیں آسکتی ہیں۔فوری حل طلب مسئلہ اس معاہدے کی بحالی ہے جس پر تمام فریقین نے اتفاق کیا تھا کہ طالبان کو کن قواعد وضوابط پر دفتر کھولنے کی اجاز ت دی جائے اور باقاعدہ طور پر مرحلہ وار امن مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کرزئی کو اس عمل میں شامل کر کے یہ یقینی بنایا جائے کہ مذاکرات کا یہ عمل دوبارہ سے تعطل کا شکار نہ ہوجائے۔ دوسری جانب اس کیلئے طالبان کو افغان اعلٰی امن کونسل کے نمائندوں سے مذاکرات پر آمادہ کرنا اور طالبان کی کابل کے ساتھ بات چیت کرنے کی مخالفت کو دور کرنا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر طالبان امریکہ کی طے کردہ شرائط ماننے پر راضی نہ ہوئے تو کیا واشنگٹن کی جانب سے دوحہ دفتر کو بند کرنے کی دھمکی طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے کافی ہوگی؟۔قیدیوں کے تبادلے کا کیا ہوگا؟ کب اور کیسے یہ عمل شروع ہوگا ؟۔ ان تمام مسائل پر قابو پانا ہوگا جب کہ دوسری جانب افغانستان میں جنگ جاری ہے جس سے مذاکرا ت کے کسی بھی وقت ختم ہونے کا خدشہ باقی ہے ۔
ان تمام کے باوجود اب بھی ان سوالات کے جوابات ملنا باقی ہیں۔ایک ایسی صورتحا ل میں کہ جب فریقین کے درمیان ایک دوسرے پر یا تو بہت کم اعتبار ہے یا بالکل نہیں ہے ،ان کے درمیان کس قسم کی مصالحت کروائی جائے گی؟افغان آئین پر اختلافا ت کو کس طرح دو ر کیا جائے گا؟ یہاں جوابات سے زیادہ سوالات ہیں ، لیکن جعلی امن ہمیشہ ہی ایک مشکل ترین جنگ سے زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید