• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودی عرب سے ادھار تیل کی خریداری کے لیے مذاکرات جاری ہیں، وزیر خزانہ


وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے قرض پر تیل کی خریداری کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔

 جیونیوز کے پروگرام ’نیا پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے  شوکت ترین نے بتایا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو یہ رعایت دینے کی ہامی بھر لی ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ ابھی یہ نہیں بتایا جاسکتا کہ پاکستان کتنا تیل ادھار پر لینا چاہتا ہے۔

اس سے قبل قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی جانب سے کیے جانے والے شور شرابے اور احتجاج کے باوجود وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے 8 ہزار 487 ارب روپے کا مالی سال 22-2021ء کا وفاقی بجٹ پیش کیا۔

قومی اسمبلی میں وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے جیسے ہی بجٹ تقریر شروع کی تو اس دوران اپوزیشن نے احتجاج اور شور شرابا شروع کر دیا۔

وزیرِ خزانہ نے اپوزیشن کے شور سے بچنے کے لیے ہیڈ فون لگا لیے، اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود شوکت ترین نے بجٹ تقریر جاری رکھی۔

وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، عمران خان کی قیادت میں معیشت کو کئی طوفانوں سے نکال کر ساحل تک لائے، ہمیں قرضوں کی وجہ سے دیوالیہ پن کی صورتِ حال کا سامنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مشکلات تو درپیش ہیں مگر معیشت کو مستحکم بنیاد فراہم کر دی گئی ہے، اب معیشت ترقی اور خوش حالی کی سمت رواں دواں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وفاقی بجٹ میں اگلے مالی سال کیلئے معاشی ترقی کا ہدف 4 اعشاریہ 8 فیصد رکھا گیا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2018ء میں ایک بہت بڑا چیلنج تھا اس پر قابو پالیا گیا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ سرپلس ہو گیا ہے، 20 ارب کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو اپریل 2021ء میں سرپلس کیا گیا۔

قومی خبریں سے مزید