• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کورن وال کے باشندوں کا جی7 سمٹ کے انعقاد پر غم و غصہ

لندن (پی اے) کورن وال میں رہنے والے افراد نے اپنے آبائی ٹائون میں جی7سمٹ کے انعقاد پر اپنے غم و غصے کا انکشاف کیا ہے۔ امریکہ، جرمنی، جاپان اور برطانیہ سمیت سات قوموں کے مندوبین کارن وال کے بیوٹی اسپاٹ کاربس بے میں سمٹ میں شرکت کررہے ہیں۔ وہ تین روز تک کورونا وائرس، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور سیاسی مسائل پر بات چیت کریں گے۔ بہرحال نزدیکی ٹائون سینیٹ لیوز کے رہنے والے افراد نے قوموں کے لیڈرز کی آمد پر ملے جلے احساسات کا اظہار کیا ہے۔ 78سالہ اینڈری ہوگسن نے کہا ہے کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ جی7سمٹ اس سال کورن وال میں منعقد کی جارہی ہے۔ اس نے پی اے نیوز ایجنسی کو بتایا کہ یہ انتہائی غیر مناسب ہے۔ یہ ماحول دوستی نہیں، یہ رقم کا ضیاع ہے، انہوں نے ہمارا ہاسپٹل بند کردیا، ہمارا پولیس اسٹیشن بند کردیا اور وہ انٹر نیشنل افراد کی پارٹی کے لیے لاکھوں پونڈ ضائع کررہے ہیں۔ یہ آن لائن پر بھی ہوسکتا تھا، اسے بے حد غصہ ہے کہ لاک ڈائون میں اتنی تعداد میں لوگ یہاں آرہے ہیں۔ ہم اپنے دروازے کے باہر بھی نہیں جاسکتے، لوگوں کو یہاں دیوار سے لگایا جارہا ہے اور جی7صورت حال کو مزید بدتر بنا رہی ہے۔ دوسرے لوگوں نے بھی سمٹ پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ ایک دکان سے ایک سائن لٹکا ہوا ہے جس پر لکھا ہے کہ جی7تم نے فخر کے احساس کے لیے کیا، کیا ہے۔ کچھ مقامی تاجروں نے ایونٹ کے لیے جان بوجھ کر اپنے کاروبار بند کر رکھے ہیں۔ برگر ٹیک اوے بار بلوس برگر ورکس نے اپنی کھڑکی پر سائن آویزاں کر رکھا ہے، جس پر لکھا ہے ک ہم پیر7تاریخ سے بدھ16تاریخ تک بند ہیں اور پیر کو کھلیں گے۔ 55سالہ اینڈی گرائمز نے پی اے کو بتایا کہ انہیں خیال نہیں کہ ایونٹ سے کمیونٹی کو کوئی فائدہ ہوگا۔ یہ مقامی افراد کے لیے تباہ کن ہے۔ ڈلیوری کرنے والے افراد کہیں بھی پارکنگ نہیں کرسکتے، سڑک بند ہے، ٹرین اسٹیشن بند ہے، ایک اور مقامی شخص سائمن نورس نے اپنے پڑوسی کے جذبات سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ کورن وال کے لیے بہت اچھا ہے۔ اس سے دنیا میں کورن وال کی ساکھ بڑھے گی۔
یورپ سے سے مزید