• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بار ایسوسی ایشنز کے تعاون کے بغیر انصاف کی فراہمی ممکن نہیں،جسٹس قاسم

راولپنڈی(اپنے رپورٹر سے) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ محمد قاسم خان نے کہا ہے کہ بار ایسوسی ایشنز کے تعاون کے بغیر مقدمات کی جلد سماعت اور انصاف کی فوری فراہمی ممکن نہیں،میرے دور میں ہڑتال کے کلچر کو خداحافظ کہا گیا عدلیہ کی بہتری اور تیزی سے انصاف کی فراہمی کے لئے جو کچھ میں نے کیا سب کا تعاون شامل رہاکوئی ایسا کام جس سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو معذرت خواہ ہوں،ہائی کورٹ ججوں کی نمائندگی میں راولپنڈی ڈویژن کو نظر انداز کئے جانے کو اپنی کوتاہی قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اس کا اعتراف بھی کرتا ہوں اور اس پر شرمندہ بھی ہوں تاہم مجھے امید ہے کہ جو معااملات مجھ سے ادھورے رہ گئے ہیں نئے آنے والے چیف جسٹس انہیں مکمل کریں گے۔لاہور ہائی کورٹ کے نامزد چیف جسٹس محمد امیر بھٹی نے کہا کہ کورونا وائرس کے باوجود جوڈیشری نے کام کیا،عدالتی نظام کبھی شٹ ڈاون نہیں ہوا،لاہور ہائی کورٹ کے سینئر جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میں اس بار کا حصہ رہا ہوں۔بار نے ماں کی طرح پرورش کی۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے ہائیکورٹ بار راولپنڈی کی طرف سے دئیے گے عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا،جسٹس محمد امیر بھٹی نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ہونے والے پروپیگنڈے کا جواب وکلاء تنظیموں کو دینا چاہیے۔ججز بول نہیں سکتے۔ چیف جسٹس قاسم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نامزد چیف جسٹس قابل آدمی ہیں امید ہے میرے ادھورے چھوڑے گئے کام مکمل کریں گے،میں نے جو اقدامات بھی کئے ان کو تاریخ کے بے رحم جج کے حوالے کرتا ہوں تاریخ ثابت کرے گی کہ میرے اقدامات عدلیہ اور وکلا کی بہتری کے لئے تھے ۔وکلاءتعاون کریں تو مقدمات کے فیصلے بھی جلدی ہوتے ہیں،بار کے صدر سردار عبدالرازق خان نے کہا کہ چیف جسٹس لاھور ہائی کورٹ محمد قاسم خان کےاہم فیصلے اور اقدامات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔نامزد چیف جسٹس بھی شاندار خدمات انجام دینگےبار اور بینچ ایک دوسرے کے لیے لازم ملزوم ہیں ہم انہیں مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں ،امید کرتے ہیں کہ آئندہ راولپنڈی کو ججز کی نامزدگی کے معاملے پر کم ازکم پچاس فیصد نمائندگی راولپنڈی سے ہوگی۔
اسلام آباد سے مزید