آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ 15؍ربیع الاوّل 1441ھ 13؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اراکین اسمبلی، صرف ہسپتال ہی کیوں تھانے کیوں نہیں

خبر آئی ہے کہ وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف نے اراکین قومی او ر صوبائی اسمبلی کو کہا ہے کہ وہ ہسپتالوں کے دورے کریں۔ وہاں پر ڈاکٹروں کی حاضری، ادویات کی دستیابی، صفائی اور مریضوں کے ساتھ عملے کے رویئے سمیت تمام امور کی نگرانی کریں ۔ اس سلسلے میں ایک مراسلہ جاری کردیا گیا ہے۔ یہ ممبران اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں واقع ہسپتالوں کی نگرانی کریں گے۔
حکومت کا یہ فیصلہ اور اعلان بہت اچھا ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ جس روز مراسلہ جاری ہوا اسی روز لاہور جنرل ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ایمرجنسی میں ایک باپ اور اس کے چھ سالہ بیٹے پر تشدد کر ڈالا۔ لگتا ہے کہ ہمارے نوجوان ڈاکٹرز اب مولاجٹ بننا چاہتے ہیں۔ ہر روز ہی ڈاکٹرز مارکٹائی کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ واقعات اب معمول بن چکے ہیں۔ تاحال تشددکرنے والے ڈاکٹروں کے خلاف خادم اعلیٰ نے کوئی کارروائی نہیں کی ورنہ وہ تو کھڑے کھڑے لوگوں کو معطل کرنے کے ماہر ہیں۔
ہمارے نزدیک اراکین اسمبلی کو سرکاری ہسپتالوں کا نگران مقرر کرنے سے مریضوں کے مسائل، ڈاکٹروں کے مسائل اور ہسپتالوں کے حالات ِ کار میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی الٹا معزز اراکین ہر وقت ایم ایس کو اور ٹیچنگ ہسپتالوں میں پرنسپل جو کہ چیف ایم ایس بھی ہوتاہے (سوائے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج اب یونیورسٹی کو چھوڑ کر) کو دباؤ میں رکھیں گے۔

جو مریض اراکین اسمبلی کی طرف سے آئیں گے ان کو تو فوراً ہر سہولت مل جائے گی اور بیچارے عام مریض پھر رُ ل جائیں گے۔ مراسلہ میں یہ بھی کہا گیا کہ اراکین اسمبلی ہر ماہ محکمہ صحت ، چیف سیکرٹری اورچیف منسٹر کواس بارے میں رپورٹ دیں گے کہ ان کے حلقے میں واقعے سرکاری ہسپتالوں کے حالات اور صورتحال کیاہے؟ آگے ہی سرکاری ہسپتالوں کے ایم ایس صاحبان ساراوقت سیکرٹریٹ والوں، اے جی آفس والوں کی خوشامد میں لگے رہتے ہیں۔ اب انہیں اراکین اسمبلی کو بھی خوش رکھنا پڑے گا۔ یقین کرلیں کہ کسی سرکاری ہسپتال کے حالات یہ اقدام کرنے سے بالکل نہیں بدلیں گے۔
اگلے روز لاہور کے ایک مشہور ایم این اے کے آفس میں بیٹھا تھا جو کہ ان کے حلقے میں آفس تھا لوگ دھڑا دھڑا آ رہے تھے۔ ایم این اے اپنے موبائل سے تو کبھی ان کاپی اے دوسرے فون سے ان کو نمبر ملا کر دے رہا تھا۔ کچھ لوگ ایم این اے سے ان کا کارڈ لے کر جارہے تھے۔ کسی کا کام ہو رہا تھا کسی کا نہیں ہو رہا تھا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو لوگ کسی ایم این اے، ایم پی اے یا وزیر کے جاننے والے نہیں، جن کے پاس ان ممبران اسمبلی کے دفتروں اورگھروں تک جانے کا کرایہ بھی نہیں وہ کدھر جائیں؟ ان کے جائز کام بھی کیسے ہوں؟سفارش اور رشوت کے ذریعے لوگوں کے کام ہوتے ہیں جو سو فیصد سسٹم کی ناکامی کا ثبوت ہیں۔ آپ کسی بھی محکمے میں چلے جائیں وہاں پر بیٹھے اعلیٰ افسران سارادن زمینوں کا کاروبار کرتے رہتے ہیں۔ اس ملک کی اورکیا بدقسمتی ہوگی کہ غریب دیہاتی جب مقابلے کا امتحان پاس کرلیتے ہیں تو اپنی غربت کو مٹانے کے لئے وہ کچھ کر جاتے ہیں جن پر ہزاروں ڈرامے اور کہانیاں لکھی جاسکتی ہیں۔
سرکاری ہسپتالوں پر تو اراکین اسمبلی کو نگران مقرر کر دیا تو پرائیویٹ ہسپتالوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اس شہر میں بعض پرائیویٹ ہسپتالوں نے جو لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے اس کو کیسے ختم کیا جائے گا؟ وہ اتھارٹی جو کئی برسوں سے پرائیویٹ ہسپتالوں کو چیک کرنے کے لئے بنائی جانا تھی وہ کہاں گئی؟ جس کی منظوری پچھلی ایک اسمبلی نے بھی دی تھی؟ دھڑا دھڑ پرائیویٹ ہسپتال بن رہے ہیں۔ ان ڈاکٹروں کی رنگ برنگ کی ڈگریاں تو چیک کریں۔ ان کے ہسپتالوں میں کس معیار کا اور کس نوعیت کا علاج ہو رہا ہے؟
ان دنوں لاہور، کراچی ، راولپنڈی ، اسلام آباد میں ایک اور دو نمبر کاکاروبار عروج پر ہے۔ جو لوگ دوسرے ممالک میں حصول ملازمت یا کسی اور سلسلے میں لمبے عرصے کے لئے جانا چاہتے ہیں انہیں سفارتخانے اپنے مقرر کردہ پرائیویٹ کلینکوں سے میڈیکل ٹیسٹ کے لئے بھیجتے ہیں۔ یہ میڈیکل سنٹر ز زیادہ تر خواتین اور غیرتعلیم یافتہ طبقے کی رپورٹوں میں کچھ ایسے رزلٹ دے دیتے ہیں جن سے ان کو ان ممالک کا ویزہ نہیں مل سکتا۔ جب یہ لوگ پریشانی کے عالم میں ان میڈیکل سنٹروں سے باہر آتے ہیں تو انہیں پراسرار لوگ مل جاتے ہیں جو انہیں رپورٹ درست کرانے کا لالچ دیتے ہیں اور یہ کام چھ سے دس ہزار (جہاں جس قدر قیمت لگے) کرا دیتے ہیں۔ لاہور کے ایک سنٹر میں رپورٹ کو درست کرانے کا کام ایک رکشہ والا کراتاہے۔ حکومت کے کسی ادارے نے آج تک ان سنٹروں کے بارے میں کوئی رپورٹ حاصل نہیں کی۔ یہ سنٹرز تندرست لوگوں کو بیمار بنا کر دو دو ہاتھ سے لوٹ رہے ہیں۔ خادم اعلیٰ اور وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنے حلقوں کے اراکین اسمبلی کوکہیں کہ ان کے حلقے میں جو ایسے میڈیکل سنٹرز ہیں ان پر بھی نظر رکھیں۔
معروف اینکرپرسن سہیل وڑائچ نے میرخلیل الرحمن میموریل سوسائٹی کے سیمینار میں درست کہا تھا کہ اب تو عوامی نمائندگان کو اپنی تقریریں تبدیل کردینی چاہئیں۔ روایتی باتیں اب چھوڑ دیں۔ عملاً بتائیں کہ کیا ہو رہاہے؟ اس وقت سرکاری ہسپتالوں میں ایم ایس، ٹیچنگ ہسپتالوں میں پرنسپل بلحاظ عہدہ چیف ایم ایس، ایم ایس، اے ایم ایس، ڈی ایم ایس اورپھر بورڈ آف مینجمنٹ بھی ہے۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود نظام اگر نہیں چل رہا تو کیا ایم پی اے اور ایم این اے صاحبان کے چیک کرنے سے یہ نظام بہتر ہوجائے گا؟ بالکل نہیں یہ سوچ اور خیال بالکل غلط ہے۔ نظام چلتا ہے ایماندار لوگوں سے، فنڈز اور سہولیات کی فراہمی سے۔ اگر ایم پی اے اور ایم این اے صاحبان ہی نے سرکاری ہسپتالوں کو چلانا ہے تو پھر بورڈ آف مینجمنٹ توڑ دیئے جائیں۔ پنجاب اور قومی اسمبلی کے ممبران کو ہی مستقل طور پر سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں بٹھایا جائے۔ پرائیویٹ ہسپتالوں کو بالکل نظرانداز نہ کریں۔
لو لیجئینئے آئی جی نے بیان دیا ہے کہ تھانہ کلچر تبدیل ہو جائے گا۔ اس سے قبل خادم اعلیٰ اپنے پچھلے دور میں اور اب بھی کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ تھانہ کلچر تبدیل ہو جائے گا۔ اس سے قبل پڑھا لکھا پنجاب فیم سابق وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے بھی اس کلچر تبدیل کرنے کے کئی دعوے کئے۔ اراکین اسمبلی کو اپنے اپنے علاقوں کے تھانوں میں بیٹھ کر عوام کی شکایات سننا چاہئیں۔ سب سے زیادہ شکایات تو اس وقت پولیس کے خلاف ہیں۔ تھانہ کلچر تب تک تبدیل نہیں ہوگا جب تک روایتی تھانیداروہاں پر موجود ہے۔ آئی جی نے کہا ہے کہ ایسا تھانہ کلچر متعارف کروائیں گے جس سے عوام میں اعتماد بحال ہوگا۔ کیاایسا تھانہ کلچر ہو جائے گا کہ سائل جب تھانے میں آئے تو تھانیدار صاحب اس کو دیکھ کر مسکرائیں گے، کرسی پیش کریں گے، جب وہ یہ کہے گا کہ اس کے گھر ڈاکہ پڑ گیا تو پورا تھانہ اس کی مالی مدد کرے گا؟ یہاں تو ایک ڈاکہ گھر میں پڑتا ہے دوسرا ڈاکہ پولیس والے تھانے میں اس کی جیب پر ڈال دیتے ہیں۔ کسی آئی جی، کسی وزیراعلیٰ کے پاس کوئی ایسی حکمت عملی نہیں جس سے تھانہ کلچر تبدیل ہو جائے۔ یہ دعویٰ غلط اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔
کتنی دلچسپ حقیقت اور دکھ کی بات ہے کہ ہمارے بعض جدید صوفیاء کرام اور جدید فقیروں کے حلقہ مریدین میں پولیس کے بڑے بڑے افسران کی ایک فوج ہے جو سارا وقت اپنے ان جدید صوفیوں کو اپنی ٹرانسفر، پوسٹنگ کے لئے سفارشیں اور دعائیں کراتے ہیں ۔ہم نے کئی بڑے بڑے پولیس والوں کوجس طرح ان جدید صوفیاء کے پاؤں پکڑتے دیکھا ہے اگر بیان کروں گا تو جدید صوفی ناراض اور ان کے مریدین بھی ناراض بقول ابن انشاء:
ہم بھی وہیں موجود تھے ہم سے بھی سب پوچھا کئے
ہم ہنس دیئے، ہم چپ رہے منظور تھا پردہ تیرا
خادم اعلیٰ اراکین اسمبلی کو کہیں کہ وہ تھانوں میں کھلی کچہریاں لگایا کریں لوگ آپ کو بہت دعائیں دیں گے۔ صرف تھانے کیا ہر وہ ڈیپارٹمنٹ جہاں پر عوام کو کسی نہ کسی کام سے جانا پڑتا ہے وہاں پر رشوت کا بازار گرم ہے۔ کسی سرکاری محکمے میں آج کسی کا کام بغیر رشوت اور سفارش کے نہیں ہو رہا۔
اس دل کے دریدہ دامن میں، دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے، اس جھولی کا پھیلانا کیا