آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍شوال المکرم 1440ھ 27؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی بجٹ تقریر میں اعلان کیا تھا کہ حکومت کو تباہ شدہ معیشت ورثے میں ملی ہے، اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ملک میں ٹیکس کا نظام تباہ شدہ ہے۔ ملکی وسائل پیدا کرنے میں ناکامی ملکی معیشت کے جمود میں ہونے کا ایک اہم جزو ہے اور اسی لئے معیشت انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ہے۔
ٹیکس کی وصولی کی صورتحال ابتر ہے،یہ بحران بڑھ رہا ہے اور ایک دوسرے سے متعلق بحرانوں کو جلا بخشنے کا باعث بھی بن رہا ہے، جس سے سرکاری قرضوں میں بے قابو اضافے، افراطِ زر کی بلند شرح، سرکاری اداروں کی ابتر ہوتی کارکردگی، انفرااسٹرکچر کی تباہی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں ضرورت سے کم سرمایہ کاری اور توانائی اور ایسے وقت میں جب کہ توانائی کی کمی معاشی سرگرمیوں کو متاثر کررہی ہے، توانائی کے شعبے میں کم سرمایہ کاری جیسے بحرانوں نے جنم لیا۔2001ء میں ٹیکس نظام میں اصلاحات کرنے کیلئے ایک ٹاسک فورس قائم کی گئی تھی جس نے انتباہ کیا تھا کہ ’پاکستان کا مالی بحران سنگین ہے، قرضوں کی ادائیگی اور دفاع کیلئے ٹیکسز ناکافی ہیں۔ اگر ملک کی مجموعی پیداوار( جی ڈی پی) میں ٹیکس کے تناسب کو مناسب طور پر نہیں بڑھایا جاتا تو پاکستان کو موثر طور پر نہیں چلایا جاسکتا، عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم نہیں کی جاسکیں گی اور افراطِ زر کی بلند شرح

ناگزیر ہوجائے گی۔ ٹیکس انتظامیہ میں اصلاحات حکومت کا اہم ترین کام ہے۔
ان مشوروں کو طویل عرصے سے نظرانداز کیا جارہا ہے، ملک کی اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ٹیکس آمدنی میں اضافے میں ناکامی مالی بحران کی مرکزی وجہ ہے۔ ملک میں کوئی ٹیکس کلچر نہیں۔ اس کی کی غیر موجودگی کئی عوامل کی مرہون منت ہے، جن میں کمزور سیاسی چاہ، ٹیکس کی غیر مساوی اور پست بنیاد کا طریق کار جس کا ناجائز استعمال کیا جاتا ہے، معیشت کے بڑے حصے کا ٹیکس کے دائرے سے نکل جانا، کم دلی ٹیکس اصلاحات کی کاوشیں، عوام کو بنیادی سہولتوں کی ناقص فراہمی اور طاقتور سیاسی و معاشی لابیز جو ٹیکس وصولی کے جائزاقدامات کا بھی راستہ روکتی ہیں۔ متواتر حکومتوں کی جانب سے آمدنی میں اضافہ اس لئے نہیں ہوسکا کیونکہ اشرافیہ ٹیکسز کی مخالفت کرتی اور ان کی ادائیگی سے انکار کرتی ہے، وہ اپنی معاشی و سیاسی طاقت کو برقرار رکھنے کیلئے حیلے بہانے بناتی ہے۔
اس ناکامی نے پاکستان کو متواتر مالی بحرانوں کی صورتحال میں لاکھڑا کیا ہے، جنہیں زائد ملکی قرضوں سے عارضی طور پر حل کیا جاتا یا پھر بیرونی بیل آوٴٹ پیکجز کے تمام تباہ کن اثرات کے ساتھ اسے حل کیا جاتا تھا۔
بیرونی ممالک سے بیل آوٴٹ پیکجز لینے کی قیمت اکثر خارجہ پالیسی کے رویّے سے یا پھر اسلام آباد کے اصلاحات کے وعدے سے چکائی جاتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جیسے ہی قرض دینے والوں کی جانب سے رقوم ملنا شروع ہوتی ہیں، ایسے وعدے بآسانی بھلا دیئے جاتے ہیں۔ بیرونی امداد سے ہونے والی خاطر خواہ آمد زر کی دستیابی ٹیکس اصلاحات پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ اب چونکہ یہ اور دیگر آمد زر کے ذرائع ختم ہورہے ہیں اب مالی خلا پُر کرنے کیلئے یہ راستہ بھی باقی نہیں بچا۔ اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں سے لیا جانے والا قرضہ ٹیکس کے نعم البدل کے طور پر بھی استعمال کیا گیا جس سے معیشت کو سنگین نقصانات اٹھانا پڑے۔ جی ڈی پی کے 64فیصد کے زائد قرضوں نے ملک پر بوجھ ڈالا ہے، گزشتہ حکومت نے60 برس میں لئے جانے والے ملکی قرضوں سے دگنے قرضے لینے کی طرّہ امتیازی حاصل کی۔ ایک دہائی سے زائد عرصے میں قرضوں کی ادائیگی اور سبسڈیز کی مد کیلئے دی جانے والی رقم چاروں صوبوں اور وفاق کے ترقیاتی بجٹ سے تجاوز کرگئی ہے۔ سود کی ادائیگی دفاعی بجٹ سے بھی بڑھ گئی اور یہ بجٹ کا سب سے بڑا اخراجاتی آئٹم بن گیا ہے۔
ٹیکس آمدنی میں بحران ابتر اعدادوشمار سے عیاں ہے، گزشتہ دہائی میں جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح 9 فیصد تک کم ہوگئی جبکہ یہ شرح1990ء کی دہائی میں 11فیصد تھی اور یہ دنیا میں سب سے کم اور جمود کا شکار ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں ٹیکس دہندگان کی تعداد 1فیصد سے کم ہوکر 0.92 فیصد ہوگئی ہے۔2011ء میں31لاکھ لوگوں نے خود کو ٹیکس نظام میں رجسٹر کرایا اور ٹیکس نمبر (این ٹی این) حاصل کیا لیکن پھر بھی پانچ لاکھ سے پندرہ لاکھ لوگوں نے ہی گوشوارے جمع کرائے۔ یہ اس وقت مزید قابل ذکر بن جاتا ہے جب اس کا موازنہ2011ء کے گھریلو سروے سے کیا جائے جس میں ٹیکس ادا کرنے کے قابل افراد کی معلومات حاصل ہوئی تھیں۔ 45لاکھ ٹیکس ادائیگی کے قابل افراد میں سے صرف17فیصد یعنی6میں سے ایک فرد قابل تصدیق ٹیکس دہندہ ہے۔
ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ معیشت کا ایک بڑا حصّہ ٹیکس کے دائرے میں نہیں ہے۔ زراعت کا شعبہ جی ڈی پی کا 21فیصد ہے اور اس سے ملک کا 45فیصد مزدور طبقہ وابستہ ہے لیکن یہ1فیصد سے تھوڑی ہی زیادہ آمدنی فراہم کرتا ہے۔ خدمات کا شعبہ جی ڈی پی میں سب سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے جو کہ 50فیصد ہے اور آمدنی میں اس کا حصہ ہے۔ 10لاکھ قابل ٹیکس رٹیل آوٴٹ لیٹس میں سے صرف 1لاکھ 60ہزار رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے 28ہزار نے گزشتہ برس ٹیکس ادا کیا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ کم از کم 70 فیصد کی باضابطہ معیشت ٹیکس کے دائرے میں نہیں یا کم ٹیکس دیتی ہے اور یا بالکل نہیں دیتی۔ اگر غیرسرکاری اور غیر رجسٹرڈ سے حساب لگایا جائے تو ٹیکس کے دائرے سے باہر کی معیشت کی شرح مزید بڑھ جائے گی، نہ صرف ٹیکس کے موجودہ نظام کی بنیاد میں کمی ہے بلکہ یہ غیر مساوی بھی ہے اور یہ بلواسطہ ٹیکس کے ذریعے ان لوگوں پر بوجھ ڈالتا ہے جو اسے برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں جبکہ امیر اور طاقتور طبقے کو یہ اس سے فرار کے راستے پیش کرتا ہے۔ ایس آر او نظام اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ قانونی ریگولیٹری احکامات وہ انتظامی آلہ کار ہیں ۔
جس کے ذریعے عبوری استثنیٰ اور چھوٹ دی جاتی ہے۔ گزشتہ حکومتوں نے انہیں خصوصی مفادات، افراد اور شعبوں کو رعایتیں دینے کیلئے استعمال کیا۔ اس سے اربوں روپے کی ٹیکس آمدنی کا نقصان ہوتا ہے۔ گزشتہ برس قومی اسمبلی کی پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی کو بتایا گیا کہ صرف گزشتہ چار برسوں میں650/ارب روپے کی ٹیکس استثنیٰ اور چھوٹ دی گئی۔ اس نظام سے سب کیلئے یکساں مواقع فراہم کرنے کے تصور کی بھی حوصلہ شکنی ہوئی۔ ایک غیر منصفانہ نظامِ ٹیکس محصولات میں کمی اور ٹیکس نادہندگی کی ایک اہم وجہ ہے۔ کم آمدنی والے افراد اور کچھ شعبوں پر قدرے زیادہ ٹیکسز لگائے جاتے ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر مثال کے طور پر سب سے زیادہ (62فیصد) بلاواسطہ ٹیکس دیتا ہے لیکن کارپوریٹ سیکٹر میں ٹیکس نہ دینے والوں کی شرح بھی زیادہ ہے جو کہ 58فیصد ہے۔ ٹیکس کے نظام کی انتظام کاری کی خامیوں کی وجہ سے ہی ٹیکس کی خطیر رقم وصول نہیں ہو پاتی، 2001ء میں قائم کردہ ٹاسک فورس کے مطابق 50 فیصد واجب الادا ٹیکس قومی خزانے تک نہیں پہنچتے جو کہ قانون کو شکست دینے کی امیروں کی طاقت کی آئینہ دار ہے۔ دیگر تخمینوں کے مطابق تقریباً 3/ارب ڈالر کے مساوی رقم ٹیکس حکام اور طاقتور گروہوں کی ملی بھگت کی وجہ سے قومی خزانے میں نہیں آپاتی۔صوبائی سطح پر ٹیکس کی کاوشوں میں کمی نے آمدنی کے بحران کو جلا بخشی ہے۔ صوبے زراعت، خدمات اور جائیداد کے زمرے میں ٹیکس آمدنی کیلئے تھوڑی یا بالکل کوششیں نہیں کرتے جو کہ ان کے دائرہ اختیار میں ہیں۔ صوبوں کی جانب سے اکٹھے کئے جانے والی ٹیکس آمدنی کا شرح جی ڈی پی کی 0.5 فیصد ہے جو کہ ان کے اخراجات کے مقابلے میں کہیں کم ہے اور اس کے بجائے اس سے مالی لاپروائی کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ ساتویں نیشنل فنانس کمیشن(این ایف سی) ایوارڈ کے صوبوں کے انتقال کا خیر مقدم کیا گیا کیونکہ مالی منتقلی یہ مشق کافی عرصے سے درکار تھی لیکن اس کے مالی نتائج کو سمجھنے میں ناکامی ہوئی، صوبوں کو واضح قواعد بناکر آمدنی میں اضافے کے عہد کی وجہ سے اب ملک کو بجٹ خسارہ برداشت کرنا پڑرہا ہے کیونکہ صوبوں کی جانب سے مالی بدنظمی کا مظاہرہ کیا گیا۔کون ہے جو ملک کے مالی استحکام کو لاحق سنگین خطرات کو کم کرے گا؟ملکی معیشت کو مالی ابتری سے نکالنے کیلئے اور ملکی معیشت کی ترقی کیلئے وسائل پیدا کرنے کیلئے پاکستانی قائدین کو ٹیکس کی کڑوی گولی نگلنی پڑے گی۔ ٹیکس کا نظام وسیع و تبدیل کئے بغیر، استثنیٰ اور خامیوں کو ختم کئے بغیر، ٹیکس کے دائرے میں باہر کے لوگوں کو لائے بغیر، اور اس بات کو یقینی بنائے بغیر کہ صوبے اپنی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کریں، ملک کو بڑھتے ہوئے مالی بحران اور معاشی جمود سے نکلنے کا راستہ نہیں مل سکتا اور نہ ہی بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں ابتری کو یکسر تبدیل کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ یہ ٹیسٹ مسلم لیگ ن کی حکومت اور ان کے وزیر خزانہ کا منتظر ہے جنہوں یہ کہ کر توقعات بڑھائی تھیں کہ رعایتوں اور استثنیٰ کا کلچر ختم ہونا چاہئے، یقینا ان کا باقی رہنا معیشت کو دیوالیہ کردے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں