آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہم نہیں سب کہتے ہیں کہ وزیراعظم کا دورہ چین بڑا کامیاب رہا اور امید یہی ہے کہ اس کے ایسے دور رس نتائج مرتب ہوں گے اس کے پاکستان ہی نہیں بقول وزیراعظم اس سے خطہ کے تین ارب عوام کو فائدہ ہو گا۔ کہاوت ہے کہ سفر میں برکت ہے اور مشہور شعر بھی ہے
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں
چین پاکستان کا ”ٹھوک بجا“ کر آزمایا ہوا وہ دوست ہے جس کی دوستی ہمالیہ سے بھی زیادہ بلند سمندروں سے گہری اور عوام کے دلوں میں اترتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ 1965ء کی جنگ میں بھارت کو الٹی میٹم دے کر چین نے بڑا حوصلہ دیا ایئر مارشل اصغر خاں دوستی کے اس یادگار سفر میں اس جہاز کو اڑا رہے تھے جس میں اس وقت کے صدر ایوب خان نے خفیہ طور پر چین کا دورہ کیا تھا۔ کہتے ہیں کہ امریکہ سمیت سارے دوست ممالک نے آنکھیں پھیر لی تھیں اور یہ پاکستان تھا جس نے امریکہ اور چین کے درمیان پہلا رابطہ قائم کروایا۔ اس وقت امریکہ کے سیکرٹری خارجہ ڈین رسک سے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کی استنبول میں ملاقات ہوئی اور چین کے تعلقات بہتر بنانے پر بات کی گئی۔ جب ایوب خان کو اس سے آگاہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا ”میری انگلیاں نہ جلوا دینا۔“ یحییٰ خان کے دور میں امریکی وزیر خارجہ ڈاکٹر ہنری کسنجر خفیہ طور پر مری سے بیجنگ پہنچے تاریخ میں عوامی

جمہوریہ چین کے وزیراعظم آنجہانی چو این لائی کا یہ جملہ محفوظ ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر ہنری کسنجر سے کہا تھا کہ اس دوست کو بھول نہ جانا، جس نے اس گریٹ سفر میں پل کا کام دیا ہے۔ جناب بھٹو چینی قائد ماؤزے تنگ اور چو این لائی سے بہت متاثر تھے اور اہم مواقع پر ”چینی ٹوپی“ پہنا کرتے تھے۔ صدر ضیاء الحق نے ایک بار بڑے فخر سے یہ اعتراف کیا تھا کہ ”مجھے جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے میں چینی قیادت سے مشاورت کرتا ہوں اور وہ رہنمائی کرتے ہیں اور یہ بھی حقیقت کہ پاکستان کے عوام کے دلوں میں چین کی بڑی قدر ہے۔ چو این لائی پہلے چینی وزیراعظم تھے جنہوں نے پچاس کی دہائی میں جب سید حسین شہید سہروردی وزیراعظم تھے پاکستان کا دورہ کیا۔ لاہور اور کراچی میں عوام سڑکوں پر ان کا استقبال کرنے امڈ آئے۔ چینی صدر لو یو شاؤ چی نے جب پاکستان کو میزبانی کا شرف بخشا تو چشم فلک گواہ ہے کہ پاکستان خصوصاً لاہور میں کسی غیر ملکی مہمان کا اتنا پُر جوش اور والہانہ استقبال نہیں ہوا۔ چین پاکستان کے دکھ سکھ کا ساتھی ہے۔ پاکستان اور چین کے اشتراک سے قابل ذکر منصوبے مکمل کئے گئے۔تھنڈر جہاز ہوں، چشمہ پاور پلانٹ اس کے تعاون و اشتراک سے مکمل ہوئے ہیں۔ میاں نواز شریف نے اپنے سابقہ دو دوار میں چین سے کئی معاہدے کئے لیکن تاریخ کا یہ جبر ہے کہ ان کے اقتدار کو آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی وگرنہ بجلی کی یہ بدترین لوڈ شیڈنگ نہ ہوتی۔ موٹر وے کے ساتھ چینی صنعتی زون قائم ہو چکے ہوتے۔ یہ ”حسن اتفاق“ ہے عام انتخابات کا کامیابی کے بعد چین کے وزیراعظم وہ پہلے غیر ملکی حکمران تھے جن سے میاں نواز شریف نے اسلام آباد میں باضابطہ مذاکرات کئے اور چین نے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور وزیراعظم بننے کے بعد ان کا پہلا غیر ملکی سرکاری دورہ بھی چین کا ہے۔ چینی سرمایہ داروں نے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے بعض منصوبوں پر بات ہوئی ۔ کوئلہ، ہوا اور سورج سے بجلی پیدا کی جائے گی۔ موٹر وے کاشغر سے گوادر تک سڑک اور دوسرے منصوبوں کی تفصیلات اخبار کو آ چکی ہیں جن کا خیر مقدم کیا گیا ہے جبکہ اندرونی طور پر ملک جن مصائب سے دوچار ہیں اگرچہ یہ درست ہے کہ یہ سب کچھ ورثہ میں ملا ہے لیکن اس کا سدباب تو موجودہ حکومت نے ہی کرنا ہے۔
میاں نواز شریف کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ اب ان پر قابو پانے کے لئے مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ حکومت کو بدترین لوڈ شیڈنگ، مہنگائی اور دہشت گردی کا سامنا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کا اس وقت تک احسن طریقے سے آغاز نہیں کیا جاسکتا جب تک امن و امان کی صورتحال کو بہتر نہیں بنایا جاتا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے یہ تجویز مثبت ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں اور فوجی قیادت کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے اور غالباً 12 جولائی کی اے پی سی اس جانب ایک مثبت پیش رفت ہے۔ خیال تو یہی ہے کہ ڈرون حملے روکنے اور دہشت گردوں کے سدباب کے لئے انتہائی خلوص نیت سے یہ کانفرنس طلب کی گئی ہے۔ خیبر پختوانخوا کے ایک رہنما آفتاب شیر پاؤ نے اس پر تنقید کی ہے۔ کیا بہتر ہوتا کہ کانفرنس کے بعد وہ اظہار خیال کرتے۔ سردار اختر مینگل کی شرکت بڑی خوش آئند ہے اور ان کی جانب سے ایک بہتر پیغام بھی ہے۔ اگرچہ انہیں بلوچستان میں انتخابات کے حوالے سے تحفظات ہیں۔ تمام تر اختلافات کے باوجود یہ بات پتھر پر لکیر ہے کہ قومی مسائل باہمی افہام و تفہیم اور قومی ہم آہنگی سے ہی حل کئے جا سکتے ہیں جب حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی تمام جماعتیں ایک مسئلے پر متفق ہو جائیں گی تو عوام کی حمایت کا دعویٰ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح کراچی، خیبر پختوانخوا اور بلوچستان کے سلگتے مسائل پر بھی مشاورت کی جائے تو سیاسی طور پر بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ پنجاب میں جہاں قدرے سکون تھا ہفتہ کو انارکلی فوڈ سٹریٹ میں دھماکے نے ”ہائی الرٹ“ کر دیا ہے اور ایجنسیوں کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی مقامات پر دہشت گردی کے منصوبے بنائے گئے ہیں۔ اس حوالے سے عوام کو موبلائز کرنا ہو گا تاکہ دہشت گردی کی سازشوں کو نہ صرف ناکام بلکہ بے نقاب بھی کیا جا سکے آخر میں مصر کا گورنر مقرر کرنے پر امیر المومنین مولا علی کرم اللہ وجہہ نے ان کے نام ایک خط لکھا تھا اس کا حوالہ یہ خط امور سلطنت کے حوالے سے ایک روشن مینار کی حیثیت رکھتا ہے جناب وزیراعظم خصوصاً خادم پنجاب سے میری اتنی سی استدعا ہے کہ اگر وقت ملے تو اس عظیم مراسلہ کا مطالعہ کریں ان کو بڑی روشنی اور رہنمائی حاصل ہو گی۔ جناب علی ابو تراب کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ ان لوگوں کو قریب رکھنا جو سچی بات تمہارے منہ پر کہنے سے گریز نہیں کرتے اور تمہیں صحیح مشورہ دیتے ہیں چاہے وہ کتنا ہی تلخ کیوں نہ ہو اور ایسے لوگوں کو قریب نہ آنے دینا جو خوشامد کرتے ہوں اور ہر جائز و ناجائز پر تمہاری حمایت کرتے ہوں اور تمہیں ایسے مشورے دیتے ہوں جس میں رعایا کی بھلائی نہیں ہو۔ ایک جگہ ارشاد ہے کہ اپنی رعایا پر ظلم نہ کرنا اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے دینا کیونکہ خدا مظلوم کا ساتھی بن جاتا ہے اور اس کی پکڑ سے کوئی محفوظ نہیں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں