آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
آپ کو آج کل تین چار اشتہارات ایسے نظر آ رہے ہوں گے کہ آپ سوچ میں پڑ جاتے ہوں گے۔ ایک اشتہار کہتا ہے ”امریکی اور پاکستانی عوام بجلی کی پیداوار بڑھانے میں مل کر کام کر رہے ہیں“۔ مجھے یہاں امریکہ اور پاکستان کی پالیسی ظاہر نہیں ہو رہی۔ ایک طرف امریکہ سے ڈرون حملوں کے توسط، دور دور رہنے کا بظاہر تعلقات میں استواری نہ ہونے کا شائبہ دکھایا جاتا ہے اور دوسری طرف ایسے اشتہار، کوئی پوچھے کہ اگر امریکیوں کو پاکستانیوں سے اتنی محبت ہے، اتنا ہی خیال ہے تو فوراً جو کمی خزانے میں تیل نہ ہونے اور پیسے نہ ہونے کے باعث ہے، ہم لوگ ساری ساری رات جاگ کر گزارتے ہیں۔ میرے آقا امریکہ بہادر، ان اشتہاروں پر پیسہ خرچ کرنے کے بجائے وہ پیسے سرکار کو دیدے کہ وہ بند پڑے تھرمل پاور پروجیکٹ چل سکیں۔ ہم لوگ آرام کی کم از کم رات کو تو نیند حاصل کر سکیں۔ ان اشتہاروں کو دیکھ کر ہمیں امریکہ سے محبت نہیں، چڑ ہو رہی ہے۔ اس طرح کے ڈھول پیٹنے سے کیا فائدہ۔
ایک اشتہار آ رہا ہے کہ پاکستان میں تعلیمی ادارے اور شرح بڑھانے کے لئے امریکی اور پاکستانی عوام مل کر کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کے ڈھائی کروڑ بچے، تعلیم سے محروم ہیں، ان بچوں کے لئے ایک طرف اسکول نہیں ہیں دوسری طرف سرمایہ نہیں ہے کہ اسکولوں کی عمارتیں فراہم کرنے کے علاوہ ان میں غسل خانے اور

فرنیچر فراہم کیا جائے۔ اساتذہ کا تقرر کیا جائے اور وہ جو لیپ ٹاپ یونہی فراہم کئے جا رہے ہیں جو بازار میں فروخت ہو رہے ہیں، ان کے لئے باقاعدہ لیب بنائی جائیں مگر بجلی ہوگی تو یہ لیب کام کریں گی۔ کمال یہ ہے کہ اشتہار میں تعمیری کام کی کوئی تفصیل نہیں ہے۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کن علاقوں کی جانب امریکی محبت جاری ہے۔ پرائمری اسکول، عالمی طرز پر، اگر ہمارے دیہاتوں میں قائم کئے جائیں تو ہر دیہات کی ہائی اسکول پاس لڑکی اور لڑکوں کو ملازمت مل سکتی ہے۔ اس طرح وہ معمہ جو کہ دوسرے دیہاتوں سے آنے والے اساتذہ کا ہے اور وہ نہیں اسکول پہنچتے، آدھی تنخواہ خود لیتے ہیں اور آدھی محکمہ تعلیم کے ملازمین میں تقسیم ہو جاتی ہے، یہ کہانی میں 1960ء سے سن رہی ہوں۔ اس کا کوئی نتیجہ برآمد ہونے کے بجائے جہالت کا تناسب بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ یونیسیف سے لے کر دیگر فنڈنگ ادارے اپنی طرف سے کام کررہے ہیں مگر نتیجہ صفر۔ اتنی دفعہ کہا گیا ہے کہ جن علاقوں میں فصلیں تجارتی سطح پر ہوں، جیسا کہ چاول، گنا، مچھلی، کاٹن، یہاں سب جگہ اضافی چھوٹے درجے کی تجارتی صنعتیں قائم کی جائیں۔ جہاں ٹریننگ کے لئے مالی معاونت، یہ فنڈنگ ایجنسیاں دیں اور پھر یہ تربیت یافتہ نوجوان لڑکے، لڑکیاں باقاعدہ ملازم رکھ لئے جائیں۔ اس طرح کام شروع ہوگا تو درمیانی عمر کے فارغ بیٹھے لوگ بھی ملازمت کے لئے آگے آئیں گے، عورتیں بھی آگے آئیں گی،سماجی تبدیلیاں آئیں گے۔ مقامی کونسلیں گلیاں اور نالیاں بنائیں گی۔ یوں دیہی منظر نامہ بدل جائے گا مگر اتنی بنیادی سوچ کے لئے سیاسی رہنماؤں کے پاس وقت کہاں ہے۔امریکیوں نے فیملی پلاننگ کے ادارے کو سبز ستارہ کے نام سے بہت فنڈز دیئے ہیں۔ اچھا کیا مگر ان فنڈز کا جب تک دیہی علاقوں میں عملی استعمال نہیں ہوگا، سب پبلسٹی بیکار ہے۔ یہ تو اب سب مانتے ہیں کہ خاندانی منصوبہ بندی کا احساس تو سب کو ہوگیا ہے مگر مناسب طریقے عام نوجوان خواتین و حضرات کو معلوم نہیں ہیں کہ کیسے اور کب استعمال کیا جائے۔
بہت سی بڑی فنڈنگ ایجنسیوں کے توسط سے بڑی این جی اوز کو امریکیوں نے GEP کے نام سے خواتین کی فنی امداد کے لئے بہت لمبے چوڑے فنڈز فراہم کئے ہیں۔ اول تو ان فنڈز کے لئے جو پرفارمے بنائے گئے ہیں، ان کی کوئی حد نہیں یعنی اتنے لمبے چوڑے ہیں کہ ہماری این جی اوز تو وہ بھر ہی نہیں سکتی ہیں۔ یہ کام ہمارے بہت سے کنسلٹنٹس کر رہے ہیں۔ بالکل اس طرح جیسے گلی میں آوازیں لگاتے پھرتے تھے ”قلعی کروا لو“۔ بس اس طرح ان کا کام چلتا ہے۔ اس سلسلے کو چلے ہوئے بھی تین برس ہوچکے ہیں۔ ”تیل نہ دیکھو، تیل کی دھار دیکھو“ والی بات ہے۔ موٹی موٹی تنخواہیں والے لوگ بیٹھے ہیں۔ ”سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا جب لادھ چلے گا بنجارہ“۔ ان لوگوں کے پاس جب پیسے خرچ ہونے سے بچ جاتے ہیں تو انگریزی میں اشتہار دیتے ہیں پھر ہماری غریب این جی اوز بے خبر رہتی ہیں۔ یہ سلسلہ ایوب خان کے زمانے سے نام بدل بدل کر چل رہا ہے۔ ہیں وہی ڈھاک کے تین پات۔
چند سال پہلے امریکیوں نے دیہی اسکولوں کی چار دیواری بنانے اور ایک غسل خانہ بنانے کیلئے پیسے دیئے تھے۔ اس سے غرض نہیں تھی کہ اسکول میں بچوں کو پینے کے لئے پانی بھی میسر تھا کہ نہیں۔ اس سے بھی غرض نہیں تھی کہ اسکول کے بچوں کو پڑھانے کے لئے استانیاں آتی بھی ہیں کہ نہیں۔ اس سے بھی غرض نہیں تھی کہ بچوں کے پاس اسکول کی کتابیں اور بستے ہیں کہ نہیں، اسکول یونیفارم ہے بھی کہ نہیں۔ کوئی اور نہیں تو امریکی ہی یہ ذمہ داری لیں کہ ڈھائی کروڑ ان پڑھ اور بے پناہ غریب بچے ہیں، ان کو بنیادی ضروریات فراہم کریں۔ ماؤں کو بتایا جائے کہ بچے بال اور منہ دھو کر اسکول آئیں۔ اب جبکہ ہم کشکول توڑ نہیں رہے ہیں تو پھر ظاہری ٹپ ٹاپ کے بجائے باقاعدہ اور بنیادی ضرورتوں کے لئے فنڈز لیں۔ بڑی بڑی تنخواہوں والوں سے نجات حاصل کریں مگر کون! ہمارے ملک میں مصر کی طرح لیڈر شپ ابھی تک اپنے پیروں پر کھڑی نہیں ہوئی اس لئے امریکیوں کو شہ ملی ہے کہ وہ اپنا ڈھول پیٹے جا رہے ہیں۔