• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں مستقل قیام کے خواہشمند یورپی شہریوں کو ملک بدری کی دھمکیاں ملنے کا انکشاف

راچڈیل(ہارون مرزا)یورپی یونین کے ایسے شہری جنہیں نے برطانیہ میں آبادکاری کیلئے درخواستیں دے رکھی ہیں کو حراست میں لیے جانے اور ملک بدری کی دھمکیاں ملنے کا انکشاف ہوا ہے برطانوی وزراء کی یقین دہانیوں سے متصادم اقدامات پر یورپی یونین کے باشندوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ بریگزٹ انخلاء کے معاہدے کے تحت یورپی یونین کے شہریوں کو برطانیہ میں مستقبل آباد کاری کیلئے درخواست دینے کی اجازت حاصل ہے مگریہ بات سامنے آئی ہے کہ ہوم آفس نے یورپی یونین کے شہریوں کو ہٹانے کی ہدایات دی ہیں حالانکہ وہ ثابت کر سکتے ہیں کہ انہوں نے سیٹل سٹیٹس کے لیے درخواست دی تھی جس سے ان کے برطانیہ میں رہنے کے حقوق کا تحفظ ہونا چاہیے۔ وزراء نے بار باراعلان کیا ہے کہ جو بھی 30 جون کی آخری تاریخ تک درخواست دے چکا ہے اس کے موجودہ حقوق محفوظ رہیں گے جبکہ ان کا کیس سنا جائے گااس معاہدے کا احترام کرنے میں واضح ناکامی نے ہوم آفس کے عہدیداروں کی نتظامی نااہلی کے الزامات کو جنم دیا ہے۔ جان بوجھ کر زیادہ سے زیادہ یورپی یونین کے شہریوں کو اس مفروضے پر ملک بدر کرنے کی کوشش کا الزام بھی تقویت اختیار کر رہا ہے قانونی فلاحی ادارے بیل برائے امیگریشن قیدیوں (بولی) کی طرف سے امیگریشن انفورسمنٹ کے سربراہ کویورپی یونین کے شہریوں کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر 29 جولائی کا ایک خط ہوم آفس کی جانب سے موصول ہوا جس میں سٹیٹس کی درخواستوں کی وصولی کو تسلیم کرنے میں ناکامی پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ بولی کا کہنا ہے کہ جب تک ہوم آفس کی طرف سے اس ہفتے کے آخر تک کوئی معقول جواب موصول نہیں ہوتا وہ یورپی کمیشن کو باضابطہ شکایت کرے گی۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ بریگزٹ کے بعد یورپی یونین کے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے یہ ایک اہم جنگ ہے وہ خبردار کرتے ہیں کہ درخواستوں کو تسلیم کرنے میں ناکامی ممکنہ طور پر ہزاروں افراد کو متاثر کر سکتی ہے۔ جمعہ کے روز ایک یورپی یونین کا شہری جسے ہوم آفس ملک بدر کرنا چاہتا تھا جسے امیگریشن ہٹانے کے مرکز میں حراست میں لیا گیا تھا نے ایک جج کے قبول کرنے کے بعد ان کی ضمانت پر رہائی حاصل کی کیونکہ انہوں نے درخواست دی تھی اس کے باوجود ہوم آفس نے پھر بھی ان کی رہائی کا مقابلہ کیا اور کوئی معافی یا وضاحت پیش نہیں کی کیوں کہ اس نے پہلے دلیل دی تھی کہ گزشتہ سماعت میں درخواست کا کوئی ثبوت نہیں تھا اور اس وجہ سے وہ انہیں ملک بدر کر سکتا ہے رہائی کے فورا بعد بات کرتے ہوئے یورپی یونین کے شہری جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط عائد کی بتایا کہ میری اور میرے خاندان کی زندگیوں سے کھیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کسی صورت مناسب نہیں مجھے میرے حقوق ملنے چاہئیں ۔

یورپ سے سے مزید