• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خیال تازہ … شہزادعلی
برطانیہ میں سمر ہالیڈیز میں جہاں مختلف جگہوں پر گھومنے پھرنے کچھ مدت کے لئے ہی سہی لائف انجوائے کرنے کے مواقع ملتے ہیں وہاں چاہے گھر میں ہوں، پارک میں، ٹرین سفر، یا کسی کیفے میں بیٹھے ہوئے ہیں کتب بینی روٹین بن چکی ہے کہ کتاب سے بہتر کوئی دوست، ساتھی غمگسار نہیں دکھائی دیتا ۔ شہرہ آفاق رائٹر ارنسٹ ہیمنگوے کے بقول "There is no friend as loyal as a book." امریکن ناول نگار اور کہانی کارجسے 1954 میں لٹریچر کے نوبل پرائز سے نوازا گیا۔بیسویں صدی کے امریکی اور برطانوی ادب کو ہیمنگوے کی تحریروں نے بہت متاثر کیا۔ یہ عظیم شخصیت کتاب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہتی ہے کہ "کتاب جیسا وفادار کوئی دوست نہیں ہے " ۔ اس اقتباس میں ارنسٹ ہیمنگوے جذباتی لگاؤ ​​سے بات کرتا ہے جو کسی شخص کی ایک کتاب کے ساتھ ہو سکتا ہے جس طرح سے ایک کتاب ہمیں محسوس کر سکتی ہے، جس طریقے سے وہ نئی دنیا اور دیکھنے کے طریقے کھول سکتی ہے۔ ایک کتاب دیگر اشیاء سے مختلف ہوتی ہے اور یہ بھی منحصر ہے کہ اسے کون پڑھ رہا ہے اور اسی وجہ سے شاید ہمارا کتابوں سے بے ساختہ لگاؤ ​​ہے۔ ہماری کتابیں ہمیشہ ہمارے لیے موجود ہیں وہ ہمارے انتہائی وفادار دوست ہیں۔ کسی نے واقعی کتنا سسچ لکھا ہے کہ مغربی دنیا میں، کتابیں ہمیں گھیرتی ہیں، ہمارے اردگرد موجود رہتی ہیں ٹیوب (ٹرین) پر ہمارے ٹیبلٹ سے لے کر لامحدود ادب تک جو ہمیں لندن کی لائبریریوں میں ملتی ہیں۔ ہمارے پاس افسانے، ناول ہیں اور جب بھی ہمارے پاس بیٹھنے اور پڑھنے کا وقت ہوتا ہے ایک نئی کہانی پڑھنے کو ملتی ہے _ تاہم ہمارا آج کا موضوع ہیمنگوے نہیں بلکہ 30 Second Philosophies - سیکنڈ فلاسفی ہے جو اس ہفتے راقم کے زیر مطالعہ ہے ۔کہنا یہ ہے کہ بعض اوقات وقت گزارنے کے لئے ہی سہی آپ نے کسی کتاب کے ورق گردانی شروع کی مگر ہوسکتا ہے کہ کسی کتاب کے چند اوراقِ آپ کو آپ کو منطق فلسفہ، حکمت، جیسے مشکل ترین موضوعات کو سہل بنا دیں جیسا کہ اس مختصر سی کتاب میں مگر 50 سے زیادہ سوچنے والے فلسفے، ہر ایک کی وضاحت نصف منٹ میں کی گئی ہے۔یہ کتاب صرف 2 صفحات اور فقط 3 سو الفاظ میں کسی بھی ایک فلاسفر کی پہچیدہ ترین فلاسفی کو آسان اور سادہ الفاظ میں سمجھا دے گی۔جدلیاتی مادیت، وجودیت، سقراط، افلاطون کے فلسفے کیا تھے اور اسی نوعیت کے فلسفیانہ فکر کے اہم نظریات کو ایک منفرد حجم میں سمو دیا گیا ہے۔ ام العلوم، فلسفہ، محبت، حکمت، علم و آگہی کا ہمہ گیر علم ہے، فلاسفی ان سوالات کے جوابات تلاش کرتی ہے جنہیں بعض اوقات ʼبڑے سوالات ʼ کہا جاتا ہے _ کسی بات کو اخلاقی طور پر درست یا غلط کیا بناتا ہے؟ ہم کائنات کے متعلق اب جو جان سکتے ہیں، کیا آپ کو یہ علم ہے کہ آپ کے ارد گرد کائنات کیا حقیقی ہے؟ کیا اسے کسی نے تخلیق کیا یاکہ کہیں یہ کمپیوٹر سے تو نہیں تخلیق کی گئی؟ یہ کائنات کیا ہے اس کی ماہیت کس نوعیت کی ہے۔ کائنات کے وجود کا کوئی مقصد بھی ہے؟ انسان کی موجودگی کی اس دنیا میں کیا حیثیت ہے؟ پھر یہ اشیاء آخر ہیں کیوں؟ فلسفی وجود کے اغراض اور مقاصد دریافت کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ مذہب بہت سے انہی سوالوں کے جواب فراہم کرتا ہے، مگر مذہبی اور فلاسفی اپروچ مختلف سوالات کے جوابات تلاش کرنے میں مختلف ہو سکتی ہے _ مذہب کی بنیاد ایمان پر ہے _ عقیدہ، اعتقاد الہام مذہب کا بنیادی ستون ہیں۔ انسانوں یا معاشروں کی ظاہری اور باطنی زندگیوں کی اصلاح مذہبی سوچ ہے جبکہ فلاسفی زیادہ زور دلیل پر دیتی ہے اور چیزوں کی حقیقت کو عقلی بنیادوں پر پرکھتی ہے یعنی ایک فلاسفر انسانی زندگیوں کو متاثر کرنے والے کسی نظام کو بھی عقل کی کسوٹی پر پرکھے اور جانچےگا۔ جبکہ مذہب (وجدان) اور عقل (فلسفہ) دونوں حقیقت کی تلاش میں مماثلت بھی رکھتے ہیں ۔ فلاسفرز تجربات کی بھٹی سے گزرنے کے بعد، گہری غور وفکر عالی مشاہدات، عقل، تدبر، شعور اور دانش سے ایسے نتائج اخذ کرتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ جن سے کسی مسئلے کی تہہ تک پہنچنے میں مدد ملے ۔ سوالات اور جوابات تجویز کرنےاور سوچ و فکر کی دعوت دینے سے گویا فلسفہ، منطق اور حکمت کا آغاز ہوا۔ایک شاخ منطق Logic ایک قدیم سائنسی علم ہے جس میں دُرست نتائج، استدلال اور دلائل کے اُصولوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے ۔ ماوراء الطبیعیات (Metaphysics) یہ عالم کے داخلی و غیر مادی امور سے بحث کرتی ہے۔ اخلاقیات Ethics فلسفہ کی ایک ایسی شاخ ہے جس میں اخلاقی قدروں، اچھائی یا برائی پر بات کی جاتی ہے _ قوموں کے عروج و زوال کا باعث بننے والے اسباب بھی فلسفی ہی اخذ کرتے ہیں جبکہ خیال رہے کہ مذکورہ کتاب کے مصنف بیری لوورنیو پروفیسر آف فلاسفی ہیں۔ کوانٹم تھیوری کی فلاسفی، میٹافزکس آف لاءز اینڈ چانس اور فلاسفی آف مائنڈ پر ان کا متعدد اکیڈمک لٹریچر شائع ہو چکا ہے ۔
یورپ سے سے مزید