آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
26جون کو ایک موقر انگریزی روزنامہ میں کسی87 سالہ بزرگ کا خط چھپا تھا جس میں موصوف نے نہایت دل سوزی کے ساتھ لکھا تھا کہ ان کی اولاد امریکہ اور کینیڈا کی فضاؤں میں جا کر کھو چکی اور وہ پاکستان میں بالکل تنہا ہیں۔ کوئی انہیں کراچی کے کسی اولڈ پیپلز ہوم کا پتہ بتا دے جہاں وہ زندگی کے بقیہ دن بسر کر سکیں جس کا وہ مناسب معاوضہ دیں گے کیونکہ معقول پنشن پاتے ہیں۔ قارئین ان کا خط پڑھ کر تڑپ اٹھے تھے، نہ صرف انہیں مطلوبہ معلومات مہیا کیں بلکہ ان کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیا تھا۔ بعض تو اس قدر جذباتی تھے کہ موصوف کے لئے اپنے گھر کے دروازے کھولنے پر آمادہ تھے۔ سو ان کا دال دلیا تو انشاء اللہ ضرور ہو جائے گا کیونکہ اپنی دھرتی، اپنا دیس اور اپنے لوگ ہیں جو اس گئے گزرے دور میں بھی ایک دوسرے کی دست گیری کے لئے تیار رہتے ہیں۔ دنیا اور عاقبت تو امریکہ اور کینیڈا کو پیاری ہو جانے والی ان کی اولاد کی خراب ہو گی جنہیں یہ بھی احساس نہ رہا کہ انہیں ترقی کی راہوں پر ڈالنے کے لئے ان کے باپ نے کیا کچھ نہ کیا ہو گا۔
یہ قصّہ راقم کو 50/55 برس پیچھے لے گیا۔ پرائمری اسکول میں ہمارے ایک استاد ہوا کرتے تھے نام تو ان کا کچھ اور تھا لیکن منشی چونڈی کے نام سے مشہور تھے، وہ اس لئے کہ سزا کے طور پر بچّوں کو جان لیوا قسم کی چٹکی کاٹا کرتے تھے اور ہم

ان کی اس اذیت ناک سزا سے بچنے کے لئے سخت محنت سے سبق یاد کیا کرتے تھے۔ بعض اوقات ان کی چونڈی جسم پر زخم ڈال دیتی جس کا نشان مدتوں رہتا۔ لوگ مزاحاً کہا کرتے تھے کہ منشی جی پچھلے جنم میں شیرشاہ سوری کے ملازم تھے اور رسالہ کے گھوڑوں کو داغا کرتے تھے۔ منشی جی روایتی قسم کے دیہاتی استاد تھے۔ گاؤں کی مسجد بھی ان کے سپرد تھی جہاں کے وہ موٴذن بھی تھے اور امام بھی۔ دو کنال زمین میں ہل چلا کر اسکول آتے، تہبند، کُرتا اور پگڑی پہنتے تھے البتہ افسران کے دورے بھگتانے کے لئے اسکول کی الماری میں ایک عدد شلوار ٹانگ رکھی تھی جو سال، چھ مہینے میں ایک، آدھ بار ہی پہنی جاتی تھی۔ وہ کہتے ہیں نا کہ ”خانہٴ خالی را دیواں میں گیرند“ یعنی خالی مکانات پر جنّات قبضہ کر لیتے ہیں۔ ان کی شلوار بھی حشرات الارض کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ اس کا ثبوت ہمیں اس دن ملا جب افسر معائنہ اور ان کے اردلی کو دور سے سائیکلوں پر سوار آتے دیکھ کر منشی جی نے یکایک شلوار زیب تن کر لی تھی اور دوسرے ہی لمحے یوں لگا جیسے انہیں پھنیڑ سانپ نے ڈس لیا ہو۔ شلوار میں لگے چھتے کی بھڑوں کی کاٹ کسی اژدھے سے کم نہ تھی۔ پڑھائی کے معاملے میں موصوف جنونی تھے۔ خدا خدا کر کے چھٹی ہوتی مگر وہ چھٹی کے بعد بھی بٹھا لیتے۔ گرمیوں کی چھٹیاں بھی ہمارے نصیب میں نہیں ہوتی تھیں، صرف دس، پندرہ روز کا وقفہ اس وقت ہوتا جب وہ منجی کی لاب لگاتے یعنی چاولوں کی پنیری کو تپتے پانی سے لبالب کھیتوں میں منتقل کرتے۔ ان کی بس ایک ہی تڑپ ہوتی کہ پرائمری کی سطح پر تحصیل بھر کے چار وظائف میں سے ان کے شاگرد کم از کم پانچ تو لے لیں۔
منشی جی کی فیملی نہایت مختصر تھی۔ بیوی جنہیں ہم سب بے جی کہتے تھے اور ایک بیٹا جو لاہور کے کسی بڑے کالج میں پڑھتا تھا اور بے حد لائق تھا۔ پرائمری ہمارے والے اسکول سے ہی کی تھی۔ منشی جی بڑے فخر سے بتایا کرتے تھے کہ میں نے اردو کی آٹھ جماعتیں پاس کی ہوئی ہیں۔ سعدی کی گلستان، بوستان اور چوپڑ کی سڑکوں سمیت جو کچھ مجھے آتا تھا تیسری جماعت تک وہ سب میں نے صاحبزادے کو منتقل کر دیا۔ بنیاد مضبوط تھی سو عمارت بھی شاندار اٹھی۔ میاں صاحبزادے نے بی اے اعزاز کے ساتھ کیا اور ایم اے میں تو یونیورسٹی بھر میں اوّل آئے تھے۔ اس دن بے جی نے پورے گاؤں میں بتاشے بانٹے تھے جن کا ایک بڑا تھال منشی جی اسکول بھی لے کر آئے تھے۔ کالج، یونیورسٹی کے اخراجات موصوف کی آمدن سے کہیں زیادہ تھے لیکن انہوں نے اس کا احساس بیٹے کو نہیں ہونے دیا۔ چپکے سے آبائی زمین بیچ دی تھی۔ صاحبزادہ مقابلے کے امتحان میں بیٹھا، وہاں بھی نمایاں پوزیشن حاصل کی اور ایک کماؤ سروس گروپ میں انڈکٹ ہو گیا۔ سول سروس اکیڈمی میں تربیت شروع ہوئی تو منشی جی نے بھینس اور بے جی نے چاندی کے کنگن بھی بیچ دیئے تاکہ چھوٹے موٹے اخراجات چلتے رہیں اور صاحبزادے کو کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
مگر میاں صاحبزادے کو پریشانی تو پہلے ہی لاحق ہو چکی تھی۔ یونیورسٹی میں ہی تھے کہ ایک کلاس فیلو کے دام محبت میں ایسے گرفتار ہوئے کہ دنیا و جہاں کا ہوش نہ رہا۔ بی بی نام نہاد اعلیٰ سوسائٹی سے تھی، موصوف اکیڈمی گئے تو خدشہ ہوا کہ کہیں شکار ہاتھ سے نہ نکل جائے چنانچہ گھیرا تنگ ہونا شروع ہو گیا۔ جلد نکاح کا تقاضا ہونے لگا اور پھر ایک شام لاہور کی ایک جدید بستی کے کشادہ بنگلے میں تقریب ہوئی۔ لڑکی والوں کی پوری برادری تھی اور لڑکے کے ہمراہ اکیڈمی کے چند ساتھی اور بس، منشی جی اور بے جی سرے سے غائب اور مہمان دولہا کو تحسین آمیز نگاہوں سے دیکھ رہے تھے کہ بن ماں، باپ کا بچّہ کس قدر ہونہار ہے۔ خبر گاؤں پہنچی تو منشی جی اور بے جی کو کانوں پر یقین نہ آیا۔ ”کسی دشمن نے اڑائی ہے، شریکوں کی کارستانی ہے، ہمارے بیٹے کی افسری سے جل گئے ہیں“۔ بے جی سب سے یہی کہتیں۔ منشی جی البتہ پریشان تھے کیونکہ ان کی خبر پکّی تھی۔ کئی دن گھر سے نہیں نکلے، کسی سے نہیں ملے، اسکول جانا بھی چھوڑ دیا۔ زمین، جائیداد تو پہلے ہی بک چکی تھی، لے دے کر ایک مکان تھا، وہ بھی ہمسائے کے ہاتھوں بیچا اور دونوں میاں، بیوی بحری جہاز سے حج پر روانہ ہو گئے۔ حج کا موسم بیت گیا، حاجی لوگ گھروں کو لوٹ آئے مگر وہ گاؤں واپس نہیں آئے۔ کہاں رہ گئے، کہاں بس گئے؟ کسی کو کچھ علم نہیں اور آج اس بات کو نصف صدی سے اوپر بیت گئی۔گاؤں والوں کو میاں صاحبزادے کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا، البتہ ان کے ایک بیچ میٹ کی زبانی پتہ چلا کہ موصوف نے دوران ملازمت لمبا ہاتھ مارا، خوب دھن اکٹھا کیا۔ تربیتی کورس پر لندن جانا ہوا، بیگم اور تیرہ برس کی اکلوتی صاحبزادی ہمراہ تھی۔ انگلستان کی فضا کچھ ایسی راس آئی کہ وہیں کے ہو گئے۔ روپے، پیسے کی کمی نہ تھی۔ آکسفورڈ کے نواح میں کچھ پراپرٹی خرید لی۔ وقت رواں دواں رہا۔ زندگی بظاہر پُرسکون تھی۔ دھماکہ اس وقت ہوا جب بیٹی نے ایک غیرمسلم سیاہ فام کلاس فیلو سے شادی کا اعلان کیا جو موصوف پر بجلی بنکر گرا۔ روکنے کی مقدور بھر کوشش کی۔ جب کچھ بن نہ پڑا تو بیگم کی سپورٹ چاہی۔ ترت جواب ملا، اس میں حرج ہی کیا ہے؟ تمہاری سوچ تو ہمیشہ سے دقیانوسی رہی ہے، رہے نہ پینڈو کے پینڈو، جاہل ماں، باپ کی اولاد۔ دنیا کہیں سے کہیں پہنچ گئی ہے۔ تم اگر یہ سب برداشت نہیں کر سکتے تو پاکستان کی راہ لو، مگر اکیلے کیونکہ میں تو بے بی کو چھوڑ کر نہیں جا سکتی اور وہ واقعی پاکستان لوٹ آیا۔ اپنے آبائی گاؤں کے باہر مٹّی کی دو ڈھیریاں بنا کر بیٹھ گیا جنہیں وہ بے جی اور منشی جی کی قبریں بتاتا تھا مگر سب جانتے تھے کہ وہ فرضی ہیں اور اندر سے خالی اور موصوف ہر آنے، جانیوالے کو نستعلیق قسم کی انگریزی اور کبھی شستہ اردو میں ماں، باپ کی عظمت پر لیکچر دیتے نظر آتے تھے۔ بدنصیب کی یہ اذیت بھی ختم ہو چکی۔ دسمبر کی ایک یخ بستہ صبح باپ کی فرضی قبر سے لپٹا ہوا پایا گیا۔ لوگوں نے سیدھا کیا تو سردی سے اکڑا جسم بے جان ہو چکا تھا جسے اہل دیہہ نے اسی خالی اور خیالی قبر کے سپرد کر دیا اور ماں کی ڈھیری ایک دو برساتوں کے بعد برابر ہو گئی تھی۔

ادارتی صفحہ سے مزید