| |
Home Page
بدھ 02 ذیقعدہ 1438ھ 26 جولائی 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
یورو،پاؤنڈ کی قدر میں کمی ، ملکی مانیٹری پیرا میٹر پر منفی اثرات مرتب ہونگے

Todays Print

کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر شیخ خالد تواب نے برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی سے پاکستان کی معیشت پرپڑنے والے اثرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے برطانوی پاؤنڈاور یورو کی کرنسیوں کی قدر میں کمی واقع ہوگی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہمارے غیر ملکی ذخائر کا ایک بڑا حصہ یو رو کرنسی میں ہے۔ خالد تواب نے کہا ہے کہ یورو اور پاؤنڈ کرنسیوں کی قدر میں گراوٹ کے نتیجے میں پاکستان کے مانیٹری پیرامیٹر پر بھی منفی اثرات مرتب ہونگے۔سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ یورپین یونین بلاک پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، یورو کی قدر میں کمی سے پاکستان میں قوت صرف میں کمی اور شرح سود میں اضافہ ہوگا جس کے نتیجے میں پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت میں بھی اضافہ ہوگا۔انھوں نے مزید کہا کہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں یور و اور پاؤنڈ کی قدر میں کمی ہوگی جیسا کہ گزشتہ دو روز میں دیکھا گیا ہے ،روپے کی قدر بڑھنے سے پاکستان کی یورپ میں برآمدات میں کمی ہونے کا امکان ہے۔ اس وقت پاکستان سے یوپین یونین کو ٹیکسٹائل کی مصنوعات، اور تیار ملبوسات، اسٹیپل فائبر، چمڑے کی مصنوعات، کھیلوں کی ضروری اشیا اور بصری اشیا برآمد کی جارہی ہیں جن کی برآمدات میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔ اس کے برعکس یورو کی قدر میں کمی سے یورپ سے پاکستان میں درآمدات میں اضافہ ہوگا ۔خالد تواب نے نشاندہی کی کہ اس وقت یورپ سے پاکستان میں مشینریز، بوائلرز، الیکٹریکل ایند الیکٹرنک آئٹمز، فولاد اور اسٹیل، فارما سوٹیکل مصنوعات، منرلز، پلاسٹک کی مصنوعات اور کیمیکلز وغیرہ درآمد کی جارہی ہیں۔ خالد تواب نے ریفرنڈم میں برطانوی ووٹرز کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ یورپین یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں برطانیہ کے ان شہروں سے ووٹ ملے جو تجارتی شہر کہلاتے ہیں ۔