| |
Home Page
منگل یکم ذیقعدہ 1438ھ 25 جولائی 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
قوانین میں ترمیم سے پراپرٹی کی خرید و فروخت میں ٹیکس چوری نہیں ہوگا

Todays Print

اسلام آباد (انصار عباسی) انکم ٹیکس قوانین میں تازہ ترین ترامیم سے نہ صرف اربوں روپے کی ٹیکس چوری روکنے میں مدد ملے گی بلکہ ہر سال کھربوں روپے کے کالے دھن کو سفید کرنے پر نظر رکھنے میں مدد ملے گی کیونکہ نظام میں خامیاں اس قدر زیادہ ہیں کہ ملک بھر میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں کم قیمت پر رہائشی اور تجارتی پراپرٹیز کی خرید و فروخت کی کھلی آزادی حاصل ہے۔ جائیداد کی خرید و فروخت اور منتقلی کیلئے مارکیٹ ریٹ کے جائزے کے اقدا م سے وفاقی اور صوبائی سرکاری حکام کی بدعنوانی کا سلسلہ بند ہوجائے گا کیونکہ یہ حکام فراخدلانہ انداز سے کمرشل اور رہائشی جائیدادوں کی انتہائی نرخوں پر خرید و فروخت کی اجازت دیتے ہیں جس سے ٹیکس چوروں کا فائدہ ہوتا ہے۔ دی نیوز نے حال ہی میں وفاقی اور صوبائی حکومت کے ملازمین کی مدد سے ہونے والی ٹیکس کی بھرپور چوری اور کالے دھن کو سفید کرنےکے بڑے اسکینڈل سے پردہ اٹھایا تھا۔ اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ یہ کام نہ صرف تمام صوبائی رجسٹریشن دفاتر میں معمول کے مطابق جاری ہے بلکہ سی ڈی اے، ڈی ایچ اے اور دیگر پرائیوٹ ہائوسنگ اسکیموں میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ ان میں سے اکثر خرید و فروخت سرکاری نرخوں پر ہوتی ہے جسے ڈی سی (ڈپٹی کمشنر) ریٹ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ریٹ ان جائیدادوں کے اصل مارکیٹ ریٹ سے انتہائی حد تک کم ہوتے ہیں۔ گزشتہ دو سال میں بجٹ کی تیاری  کے حوالے سے متعلقہ مشق کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ’’پری ایمپشن لاء‘‘ کے نفاذ کا مطالبہ کر رہا تھا تاکہ بڑے پیمانے پر ہونے والی اس ٹیکس چوری اور کالا دھن سفید کرنے کے عمل کی روک تھام میں مدد ملے۔ لیکن رواں سال فنانس ایکٹ مجریہ 2016ء کے ذریعے انکم ٹیکس آرڈیننس مجریہ 2001ء کے سیکشن 68؍ میں اہم ترمیم کی گئی ہے جس کا اطلاق یکم جولائی سے ہو جائے گا۔ اس ترمیم کے نتیجے میں صوبائی حکومتوں کا متعین کردہ پراپرٹی ایولیوشن ریٹ کار آمد نہ رہے گا اور نئے میکنزم کے تحت تمام سرمایہ کاروں کو اپنی جائیداد کی قیمتوں کا جائزہ (ایولیوشن) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جائزہ کاروں سے کرانا ہوگا۔ جائیداد کی کم ظاہر کی گئی قیمتوں (انڈر ویلیوڈ) پر خرید و فروخت کے نتیجے میں حکومت اپنی آمدنی کے اصل سی وی ٹی اور وتھ ہولڈنگ ٹیکس سے محروم ہوجاتی ہے اور اگر اصل قیمت پر اس ٹیکس کا تعین کیا جائے تو ہر سال یہ رقم اربوں روپے بنے گی۔ وفاقی اور صوبائی عہدیداروں کی آشیرباد سے چلنے والے اس کاروبار کی وجہ سے ٹیکس چوروں اور کالا دھن رکھنے والوں کو موقع مل جاتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرکے کالا دھن سفید کریں لیکن ریئل اسٹیٹ میں کم قیمت دکھائیں۔ متعلقہ حکام سے کی جانے والی تحقیقات سے دی نیوز کو معلوم ہوا ہے کہ اسلام آباد میں ایک معمولی گھر کی فروخت سے حکومت کو تقریباً دس لاکھ روپے ٹیکس کا نقصان ہوا۔ مثلاً، سی ڈی اے کے ایک ذریعے نے بتایا کہ عمومی طور پر اسلام آباد میں دس کروڑ روپے مالیت کے گھر کی قیمت 3 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ حکومت اس طرح کی لین دین پر دو فیصد سی وی ٹی اور دو فیصد وتھ ہولڈنگ ٹیکس (ٹیکس نہ دینے والوں پر) نافذ کرتی ہے، یا پھر ایک فیصد (ٹیکس دینے والوں پر) نافذ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ سی وی ٹی اور وتھ ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں چالیس لاکھ روپے ادا کرنے کی بجائے، دس لاکھ روپے سے تھوڑا زیادہ ٹیکس ادا کیا جاتا ہے اور اس کی وجہ پراپرٹی کی قیمت کم بتانا ہے۔ کمرشل پراپرٹی کے معاملے میں ٹیکس کی چوری اس سے بھی بہت زیادہ ہے۔ ایف بی آر کے ترجمان شاہد حسین اسد نے رابطہ کرنے پر تصدیق کی کہ اربوں روپے کا ٹیکس چوری کیا جاتا ہے، اور کھربوں روپے کا کالا دھن ہر سال سفید کیا جا رہا ہے کیونکہ پراپرٹی کی خرید و فروخت انتہائی کم قیمت ’’ڈی سی ریٹ‘‘ پر ہوتی ہے۔ ایف بی آر جانتا ہے کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس اور ایف سیون میں ایک کنال پلاٹ کا ریٹ ایک کروڑ روپے ہے، جبکہ مارکیٹ کے مطابق اس کی قیمت دس کروڑ روپے ہونا چاہئے۔ اس طرح کی خرید و فروخت میں تیس لاکھ روپے سے زیادہ کا ٹیکس چوری کیا جاتا ہے اور ایف بی آر کچھ نہیں کر پاتا۔ ایف بی آر نے ڈی سی ریٹ پر نظرثانی کیلئے صوبائی حکومتوں سے بھی رابطہ کیا تھا تاکہ ڈی سی ریٹس کو مارکیٹ کے نرخوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے اور بڑے پیمانے پر ٹیکس کی چوری کو روکا جا سکے۔ لیکن، افسوس کی بات ہے کہ صوبائی حکومتیں سنگین نوعیت کے اس اہم مسئلے میں تعاون کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ کراچی، لاہور، پشاور، اسلام آباد ہو یا ملک کا کوئی اور علاقہ، ڈی سی ریٹ کسی بھی پراپرٹی کی قیمت کا صرف 10 سے 20 فیصد حصہ بنتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کالا دھن رکھنے والوں کو اپنے لاکھوں کروڑوں روپے کا دھن سفید کرنے میں مدد ملتی ہے اور اس میں سرکاری افسران ان کی بھرپور مدد کرتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ عمومی طور پر خریدار، جو ٹیکس چوری کرنے اور کالا دھن سفید کرنے کیلئے اکثر ڈی سی ریٹ سے فائدہ اٹھاتے ہیں، فروخت کنندہ کے ساتھ دو طرح کے ایگر یمنٹ پر دستخط کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک ایگر یمنٹ پر اصل قیمت درج ہوتی ہے جبکہ دوسر ے ایگر یمنٹ پر کم قیمت (انڈر ویلیو ریٹ) درج ہوتی ہے۔ پہلا ایگر یمنٹ دونوں فریقوں کیلئے ہوتا ہے تاکہ وہ کسی بھی طرح کے فراڈ سے بچ سکیں جبکہ دوسرا ایگریمنٹ رجسٹریشن حکام کو دکھایا جاتا ہے تاکہ پراپرٹی انڈر ویلیو ریٹ پر ٹرانسفر کرائی جا سکے۔