| |
Home Page
جمعہ یکم محرم الحرام 1439ھ 22 ستمبر 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
پی ٹی آئی نے نواز شریف کی بیماری پر سیاست نہیں کی،علی محمد خان

Todays Print

کراچی (ٹی وی رپورٹ)پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا ہے کہ نواز شریف کیخلاف ریفرنس دائر کرنے سے سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمیشن کا معاملہ ختم نہیں ہوا، الیکشن کمیشن احتساب کرنے کا ادارہ نہیں ہے، وزیراعظم سے بیماری کی وجہ سے استعفیٰ نہیں مانگا جاسکتا ہے، وزیراعظم لاہور آئیں یا کراچی ان کی مرضی ہے بس پاکستان آجائیں۔وہ جیوکے پروگرام ”کیپٹل ٹاک“ میں میزبان حامد میر سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چوہدری،پی ٹی آئی کے رہنما علی محمد خان اور سینئر تجزیہ کار مجیب الرحمٰن شامی بھی شریک تھے۔طلال چوہدری نے کہا کہ ریفرنس دائر ہونے کے بعد نواز شریف اور ان کی فیملی کے حوالے سے فوکس ٹی او آرز سے الیکشن کمیشن کی طرف چلا گیا ہے، نواز شریف عید سے پہلے وطن واپس آنا چاہتے ہیں ، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کے اغوا پوری عدلیہ کو پیغام ہے،اسلامی نظریاتی کونسل کا معاملہ اٹھارہویں ترمیم میں طے کیا جانا چاہئے تھا۔علی محمد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرنے سے ٹی او آرز کا معاملہ ختم نہیں ہوجاتا، پاناما لیکس پر تحقیقات اور سزا کا کام سپریم کورٹ کا تحقیقاتی کمیشن کرے گا،نواز شریف کوئی کارنامہ انجام دے کر نہیں آرہے کہ ریڈ کارپٹ استقبال کیا جائے، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کے بیٹے کا اغوا 1971ء کے سانحہ سے کم نہیں ہے۔ پی ٹی آئی نے نواز شریف کی بیماری پر کوئی سیاست نہیں کی۔مجیب الرحمٰن شامی نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف کی عید کے فوراً بعد پاکستان واپسی متوقع ہے، وزیراعظم کی نااہلی کیلئے ریفرنس دائر ہونے کے بعد ٹی او آرز کمیٹی کی اہمیت اور سپریم کورٹ کے کمیشن کی بات ختم ہوگئی ہے،اپوزیشن کے اقدام نے ٹی او آرز کے معاملہ کو حکومت کے پاس سے نکال کر الیکشن کمیشن اور دیگر اداروں کے سامنے لاکھڑا کیا ہے۔سعید غنی نے کہا کہ نواز شریف کیخلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرنے سے سپریم کورٹ کے تحقیقاتی کمیشن کا معاملہ ختم نہیں ہوا، الیکشن کمیشن احتسا ب کرنے کا ادارہ نہیں ہے، اگر سپریم کورٹ کا کمیشن پہلے بن جاتا اور نواز شریف اور ان کے خاندان کو قصوروار دیدیتا پھر بھی انہیں ڈس کوالیفائی الیکشن کمیشن نے ہی کرنا تھا، الیکشن کمیشن آرٹیکل 62/63کی روشنی میں صرف یہ طے کرے گا کہ جن کیخلاف ریفرنس دائر ہوا ہے وہ رکن پارلیمنٹ رہنے کے اہل ہیں یا نہیں ہیں، الیکشن کمیشن انہیں کوئی سزا نہیں سنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے بیماری کی وجہ سے استعفیٰ نہیں مانگا جاسکتا ہے، وزیراعظم لاہور آئیں یا کراچی ان کی مرضی ہے بس پاکستان آجائیں، اسلامی نظریاتی کونسل متعین عرصے کیلئے بنائی گئی تھی جس دوران انہیں اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں جمع کروانی تھی، اسلامی نظریاتی کونسل وہ رپورٹ 1997ء میں پیش کرچکی ہے، اٹھارہویں ترمیم میں پیپلز پارٹی نے بہت سے سمجھوتے کیے۔ علی محمد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی نے نواز شریف کی بیماری پر کوئی سیاست نہیں کی، الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرنے سے ٹی او آرز کا معاملہ ختم نہیں ہوجاتا، الیکشن کمیشن کے سامنے ریفرنس قانونی بنیادوں پر دائر کیا گیا ہے، ٹی او آرز بنانے کا مقصد پاناما لیکس کی معلومات کا فارنسک آڈٹ اور منی ٹریل کا تعین کرنا ہے، ٹی او آرز کمیٹی کسی نتیجے پر نہیں پہنچی تو اپوزیشن کے ساتھ مل کر آئندہ لائحہ عمل تیار کریں گے، کیپٹن صفدر نے اپنے گوشواروں میں مریم صفدرکی آف شور کمپنیوں کا ذکر نہیں کیا۔