| |
Home Page
منگل 29 ذیقعدہ 1438ھ 22 اگست 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
سندھ میں شہری پراپرٹی کی قیمت میں 20 اور دیہی پراپرٹی کی قیمت میں 66فیصد اضافہ

Todays Print

کراچی (ٹی وی رپورٹ) ملک میں پراپرٹی کے کاروبار میں کالے دھن کے استعمال اور اربوں کی ٹیکس چوری روکنے کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس میں اہم ترمیم کردی پر ماہرین نے اظہار خیال کرتے ہوئے اسے سراہا ہے جبکہ حکومت سندھ نے صوبے میں جائیداد کی قدر میں اضافہ کردیا شہری پراپرٹی کی قیمت بیس فی صد اور دیہی پراپراٹی کی قیمت 66فیصد بڑھا دی گئی۔ زمین لیز کی فیس میں تین سو تک اضافہ کردیا گیا، اب فیس پراپرٹی قیمت کے ایک فیصد کے برابر کردی گئی۔رپورٹ کے مطابق سرکاری حکام کے مطابق صوبے میں شہری پراپرٹی کی قیمت میں بیس فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ دیہی پراپرٹی کی قیمت 66 فی صد بڑھائی گئی ہے اس سے قبل دیہی پراپرٹی کی ویلیو ایشن14سال قبل2002میں کی گئی تھی جبکہ شہری پراپرٹی کی سرکاری قیمت کا تعین6سال قبل 2010میں ہوا تھا۔اس سلسلے میں جاری ایک نوٹیفکیشن کے مطابق زمین لیز کی فیس میں300فیصد تک اضافہ کردیا گیا ہے اور اب لیز کی فیس پراپرٹی کی سرکاری قیمت کے ایک فیصد کے برابر ہوگی سندھ حکومت کی جانب سے صوبے میں میوٹیشن ،ڈیمارکریشن اور سند دیگر فیسیں بھی بڑھائی گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق نئی سرکاری قیمتیں اب بھی اصل قیمت سے بہت کم ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک کے تعاون سے مکان اور زمین کی اصل قیمت کے تعین کے لیے ویلیوایٹرز منتخب کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سرکاری خزانے کی آمدن بڑھے اور پراپرٹی مارکیٹ میں جاری سٹے بازی کا خاتمہ ہوسکے۔ ٹیکس ماہر شبر زیدی نے اس اقدام کو اچھا قرار دیا ہے ، کہتے ہیں سب کو پتا تھا جائیداد کی قیمت کم لگائی جاتی ہے ان کا کہنا ہے کہ اب اسٹیٹ بینک کی پینل آف ویلیوایشن کمیٹی ہی جائیداد کی قیمت کا تعین کرے گی۔ ان کاکہنا ہے کہ موجودہ طریقے کے تحت ایک کروڑ روپے کی جائیداد تیس لاکھ میں رجسٹرڈ ہوتی تھی جس سے محنت سے کمائی رقم پر ٹیکس ادا کرنے کے باوجودمقامی اور بیرو ن ملک پاکستانیوں کا پیسہ کالا دھن بن جاتا تھا۔ ٹیکس ماہر کا کہنا ہے کہ ملک میں تین سو سے چار سوارب ڈالر کا کالادھن پراپرٹی میں لگا ہوا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد ٹیکس وصولی میں آمدنی سے زیادہ کالے دھن کو پراپڑی میں لگنے سے روکنا ہے تاکہ جائیداد کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو روکا جاسکے۔