| |
Home Page
منگل یکم ذیقعدہ 1438ھ 25 جولائی 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
کراچی پولیس: ریٹائرڈ فوجیوں کی بجائے نیا خون شامل کیا جائے

Todays Print

کراچی (تجزیہ :مظہر عباس) پولیس آرڈر 2002 کی بجائے صدی پرانے پولیس ایکٹ 1861کی موجودگی میں پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد ایک جدید اور پیشہ ورانہ قوت بنائے بغیر محض تازہ بھرتی کے ذریعے کیا اس میں بہتری ممکن ہے چاہے یہ بھرتیاں فوج کی نگرانی میں ہی کیوں نہ ہوں، یا 2000 سابق فوجیوں کی خدمات بھی حاصل کیوں نہ کرلی جائیں۔ کراچی کے بارے میں بنیادی ذہنیت تبدیل کیے بغیر پولیس میں اصلاحات یا اسے سیاست سے پاک نہیں کیا جاسکتا۔ کراچی 25 ملین آبادی والا ایک کثیر النسلی شہر ہے  جسے نیویارک یا لندن کی طرح کی ایک "میٹروپولیٹن حیثیت" کی ضرورت ہے۔ اس ہفتے ہونے والے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلے، جن میں سے ایک اجلاس کی صدارت آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کور ہیڈ کوارٹر میں کی اور پھر وزیرا اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والا اپیکس کمیٹی کا اجلاس تمام فیصلے امن و امان کو بہتر بنانے کے لئے اہم ہیں، لیکن پولیس میں بھرتی کی پالیسی کو حتمی شکل دینے سے پہلے، پرانے پولیس آرڈر کے مسئلے پر غور کرنا ضروری ہے کہ آخر کیوں حکومت سندھ نے 1861 کا پولیس ایکٹ نافذ کیا ہے اور پولیس آرڈر 2002 نافذ نہیں کیا جو نیشنل پبلک سیفٹی کمیشن کے ذریعے مسئلے کا حل فراہم کرتا ہے۔ خیبر پختون خوا کا ماڈل پولیس آرڈر 2002 سے قریب ہے اور پولیس کو غیر سیاسی اور پیشہ ورانہ فورس بنانے کے لئے حل فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ پولیس میں اب بھی اچھے افسر اور جوان موجود ہیں، لیکن سینکڑوں اہلکاروں کے خلاف مجرموں سے تعلق کی یا مجرمانہ ریکارڈ رکھنے پر تحقیقات کی جارہی ہے۔ کراچی کو ایک مکمل پیکیج، "کراچی ایکشن پلان" اور انتہائی مؤثر پولیس اصلاحات کی ضرورت ہے۔ یہ نہ تو کوئی طویل طریقہ کار ہے اور نہ ہی کوئی بہت بڑا کام اور مشکل ہے۔ بھرتی کے لئے پبلک سیفٹی کمیشن بنایا جاسکتا ہے اور فوج کی مدد سے دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائم کا مقابلہ کرنے کی تربیت لی جاسکتی ہے۔ سخت میرٹ پر نسلی بنیادوں سے بالا مقامی سطح پر بھرتی مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔ مقامی لوگ علاقوں سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں اور صورت حال کو ہینڈل کرنا جانتے ہیں۔ لیکن یقینی طور پر ایک مکمل نگرانی کی ضرورت ہے جس کے لئے "اپیکس کمیٹی" میں توسیع کی جا سکتی ہے جس میں میئر یا شہر کے ناظم کو شامل کیا جاسکتا ہے۔ سی پی ایل سی جیسے اداروں کو سیاسی مداخلت کی وجہ سے نقصان پہنچا، انہیں حال ہی میں سیاسی مداخلت سے پاک کیا گیا ہے، اور ان کی اصلاح کی جا سکتی ہے۔ ریٹائرڈ فوجیوں کی بھرتی کا تجربہ پہلے بھی کامیاب نہیں ہوا تھا اور ایک سابق آئی جی پی کے مطابق ریٹائرڈ لوگ چاہے فوج کے ہی کیوں نہ ہوں ان میں توانائی نہیں ہوتی کہ وہ کراچی جیسے شہر میں مجرموں اور دہشت گردوں سے لڑ سکیں۔ لہذا تازہ خون بھرتی کرنا بہتر ہوگا اور بعض سابق افسروں کو تربیت یا مشاورت کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ کراچی کے تین بڑے مسائل ہیں سیاسی، تمدنی اور انتظامی جس میں پولیس اور مقامی انتظامیہ بھی شامل ہے.ہرے سیاسی مسا ئل کی وجہ سے یہ اب ایک بڑے نسلی مسئلہ میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ دیگر دو کا بھی کوئی آسان حل نہیں ہے اور نتیجتاً  کراچی دنیا کی سب سے بڑی کچی آبادی میں تبدیل ہوگیا ہے جہاں بڑی شہری سہولیات کی کمی ہے۔ بدقسمتی سے کراچی کو میٹروپولیٹن کا درجہ دینے کے لئے کوئی سیاسی عزم موجود نہیں۔ ایسا شہر جس کی میٹروپولیٹن پولیس بھی ہو، نیویارک، لندن کی طرح یا اس کا ایک پولیس کمشنر بھی ہو جتنا طاقتور ممبئی کا پولیس کمشنر ہے۔ اس کی وجہ متعصب نقطہ نظر ہے کہ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں چاہے سویلین ہوں یا فوجی اس مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی اور اس کے نتیجے میں صورت حال مزید خراب ہوگئی۔ کراچی پر گزشتہ کئی کمیشنوں اور رپورٹوں میں مقامی پولیس کے نظام، طاقتور بلدیاتی حکومت اور ایک طاقتور میئر یا ناظم کراچی کا مطالبہ کیا جاچکا ہے۔ پولیس کو ایک طاقتور آئی جی پی کی ضرورت ہے، جس کے لیے وفاقی اور سندھ حکومت کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت ہے. لیکن جب آئی جی مقرر کیا جائے تو اسے ٹرانسفر اور پوسٹنگ کے لئے بااختیار بنایا جانا چاہئے اور پروموشن میں اس کی مضبوط رائے ہونی چاہئے کم از کم ڈی آئی جی یا ایڈیشنل آئی جی کی سطح پر تو سہی۔ پبلک سیفٹی کمیشن زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل ہونا لازمی ہے جن کا مفادات کا ٹکراؤ نہ ہو۔ بلاشبہ تین دہائیوں میں پولیس نہ صرف سیاست زدہ ہوگئی ریاست سے زیادہ حکومت کی وفادار ہوگئی۔ پی پی پی کی سندھ حکومت سے بہت امیدیں تھیں جب وہ 1988 کا الیکشن جیتی تھی اور پھر جب 1993 اور 2008 کا الیکشن جیتی تھی کہ وہ پولیس اصلاحات کرے گی اور اسے عوام دوست بنائے گی۔ سندھ پولیس اور ایجنسیوں کو پی  پی پی کے خلاف استعمال کیا گیا۔ پہلے ضیا حکومت نے اور پھر جام صادق نے۔ لیکن پھر پی پی پی  نے بھی پولیس کو اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیا اور اسے مزید سیاست زدہ کردیا۔ لہذا منظم انداز میں پوری پولیس فورس سیاست زدہ ہوگئی اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہوئی اور کرپٹ ادارہ بن گئی۔ پہلے جنرل ضیا نے پولیس کو پی پی پی کارکنوں کے خلاف استعمال کیا اور انہیں واضح ہدایات تھیں کہ انہیں الذولفقار کیس میں ملوث کردیں۔ پھر 1990 سے 92 تک وزیراعلیٰ جام صادق نے پولیس کو پی پی پی کارکنوں کے خلاف استعمال کیا۔ پھر 92 کے فوجی آپریشن میں پولیس اصلاحات کی کوئی کوشش نہیں ہوئی۔ بلکہ ایم کیو ایم کے عسکریت پسندوں کو گرفتار کرنے اور حریف دھڑوں میں شمولیت پر مجبور کرنے کا ہدف دیا گیا۔ بسا اوقات اس پالیسی کی وجہ سے آئی ایس آئی اور ایم آئی میں شدید اختلاف ہوگیا۔ 92 میں وزیراعظم نواز شریف نے جنرل (ر) شفیق الرحمن کو پولیس کے خلاف بھتہ خوری اور جنسی ہراساں کرنے کی شکایات کی تحقیقات کے لیے بھیجا جو تاجروں، خواتین اور دیگر نے دی تھیں۔ وزیر اعلیٰ جام، مشیر داخلہ سندھ عرفان اللہ مروت اور ڈی آئی جی سمیع اللہ مروت پر پی پی پی نے شہر میں خوف اور دہشت پھیلانے کا الزام لگایا۔ تحقیقات کے بعد شفیق رپورٹ میں زیادہ تر الزامات کی تصدیق کردی گئی اور پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کے اقدامات اور مجرموں کو سزا دینے کی سفارش کی گئی۔ بیشتر سفارشات بالائے طاق رکھ دی گئیں لیکن ڈی آئی جی مروت کی نوکری ختم ہوگئی اور قید کی سزا ہوئی۔ بے نظیر کی دوسری حکومت میں پولیس کو مجرم پکڑنے کا ٹاسک دیا گیا لیکن اس کی توجہ ایم کیو ایم کے عسکریت پسندوں پر رہی۔ بی بی نے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر اور پولیس چیف شعیب سڈل کو فری ہینڈ دے دیا لیکن ان کی توجہ ایم کیو ایم پر رہی جس کے زیادہ تر عسکریت پسند ماورائے عدالت مارے گئے۔ یہ آپر یشن اس وقت ختم ہوا جب مرتضی بھٹو کو پولیس مقابلے میں ہلاک کردیا گیا۔ بی بی سڈل اور اس کی ٹیم کی ساتھ پولیس میں اصلاح کرسکتی تھیں، لیکن آخر میں مرتضی بھٹو کے قتل کے مقدمے میں 16 پولیس افسر اور اہلکاروں کو طویل قید کی سزا ہوئی۔ پرویز مشرف کے ابتدائی سالوں میں پولیس کو سیاسی مخالفین کے خلاف خاص طور پر پنجاب میں استعمال کیا گیا لیکن پھر پولیس آرڈر 2002 متعارف کیا گیا جو بہترین آرڈر ہے۔ لیکن سیاسی اور غیر سیاسی حلقوں کے دباؤ کی وجہ سے اصل آرڈر سے بعض اہم شقیں منسوخ کردی گئیں۔ اگر ہم اقتصادی راہدا ر ی کی وجہ سے اسپیشل فورس بنا سکتے ہیں تو کراچی کو خصوصی درجہ دے کر میٹرو پولیٹن پولیس کیوں نہیں بناتے۔ اگر ہمارے دشمن بیرونی یا اندرونی راہداری کے خلاف سازش کرسکتے ہیں تو وہ ملک کے تجارتی مرکز کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پہلے کے برعکس موجودہ آپریشن سیاسی تعصب سے بالاتر ہے اور یہ پولیس میں تعداد میں اضافے کی بجائے اصلاحات کا صحیح وقت ہے۔ اگر ہم ارادہ کریں تو پولیس میں اصلاح ہوسکتی ہے اور سیاست سے پاک کیا جاسکتا ہے اگر ہم کرنا چاہیں۔