| |
Home Page
منگل 29 ذیقعدہ 1438ھ 22 اگست 2017ء
June 30, 2016 | 12:00 am
پاناما لیکس تحقیقات :پی پی اور پی ٹی آئی کی حکمت عملی نے اپوزیشن کا اتحاد تباہ کرڈالا

Todays Print

اسلام آباد (طارق بٹ) حکومت اور حزب اختلاف کی چند جماعتوں کے مابین بظاہر اختلافات کی نہ پاٹی جاسکنے والی خلیج کے باعث پارلیمانی کمیٹی کی موت پر تعزیت ہوچکی، یہ وہ کمیٹی تھی تو آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کےلیے ٹی او آر تجویز کرنے کےلیے بنائی گئی تھی۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نےفریقین پر مشتمل 12رکنی کمیٹی سے نکلنے میں کچھ عجلت کرڈالی، بظاہر انہیں جلدی تھی کہ وہ ایسے عمل سے اپنی مرضی کے نتائج حاصل کر سکیںجس کا راستہ ہموار نہیں تھا کیونکہ اس میں بہت سے سیاسی مفادات پرزد آتی ہے۔یہ توقع کرنا تو بڑی ہی سادہ لوحی تھی کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں جو ہر حوالے سے مشکل اور پیچیدہ تھے ،کوئی ثمر آور نتیجہ حاصل کیاجاسکے۔اس کمیٹی کے مجموعی طور پر 8اجلاس ہوئے جن مین سے زیادہ تر ابتدائی نوعیت کے معاملات طے کیے گئے۔ دونوں فریقین اب بھی ٹی اوآر کے مسود ے پرٹھوس اور وضاحت کےساتھ گفتگو کےلیےتیار ہیں۔ بی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی کی جانب سے مذاکراتی عمل سے واک آئوٹ نے تاثر دیا ہے کہ جیسے انہیں اپنے منصوبے کے مطابق اس عمل سےنکلنے کی جلدی تھی ۔ خدالگتی بات ہے کہ وہ معنی خیز نتائج پر پہنچنے کےلیے کوشاں ہی نہیں تھے۔ انہوں نے کسی بھی لمحے حکومت کے ساتھ ٹی او آر پر کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی کوئی دیانتدارانہ کوشش نہیں کی، ہر مرتبہ جب وہ مذاکرات بحال کرنے کےلیے واپس آئے انہوں نے اپنے موقف پہلے سے زیادہ سخت کیاور اس طرح انہوں نے اپنے حریف فریق کےلیے اسے قابل قبول بنانے ناممکن بنا ڈالا لیکن کمیٹی سے باہر نکل کر وہ لوگوں ک غلط طور پر یہ یقین دلانے کی کوشش کرتے رہے کہ وہ تو بہت کچھ مان گئے تھے۔ وہ اس حد سے باہر نہ نکلے جو انہوں نے شروع سے اپنے اپر لاگو کی تھی اور یہ حد ان کے اس ہیجان پر مبنی ہے جو وہ آف شور کمپنیوں کی تحقیقات کے معاملے کو وزیر اعظم نوازشریف ت محدود رکھنے کے حوالے سے رکھتے ہیں باوجود اس کے کہ ان کا نام پاناما پیپرز یا کسی اور ذریعے سے منکشف ہونے والی فرموں کے حوالے سے سامے نہیں آیا۔ انہوں نے اپنے مطالبے کو وزیر اعظم تک محدود رکھا جو ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے اور جس کا حتمی مقصد پارلیمانی کمیٹی کے مذاکرات کو خراب کرنا تھا۔پاناما لیکس کے بعد نواز شریف کی حکومت اس وقت انتہائی دبائو میں آکر تنہاہوگئی جب وزیر اعظم کے بچوں کے نام آف شور کمپنیوں کے مالکان کی حیثیت سے سامنے آئے لیکن پھر یہ اس وقت اس کے دم میں کچھ دم آیا جب پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی نے اپنی حکمت عملی بنائی۔ وہ لمحہ جس لمحے ان آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا یہ وہ بہترین لمحہ تھا جسے اپوزیشن استعمال کر سکتی تھی کہ وہ حکومت پر دبائو ڈال کر ٹی او آر پر تیزی سے کوئی سمجھوتہ کر سکتی ۔وقت گزرتا گیا اور وزیر اعظم پر دبائو گھٹتا گیا۔اپوزیشن بالخصوص پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی نے اپنا دبائو تحلیل کرکے اپنے کیس کو نقصا ن پہنچایا، پارلیمانی فورم میں اپنے نکات پر زور دینے کے بجائے اور اس ادارے سے چپکے رہنے کے بجائے اپوزیشن یہ لڑائی الیکشن کمیشن آف پاکستان میں لے گئی۔درحقیقت نوازشریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف ریفرنس دائر کرکے اپوزیشن نے آف شور کمپنیوں پر اپنے مقدمے کو شدید نقصان پہنچایا کیونکہ اس کے چار ارکان کی ریٹائرمنٹ کے نتیجے میں یہ نامکمل ہے اور یوں اس میں اس معاملے پر سماعت جلد نہیں ہونے والی۔ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا آف شور کمپنوں کے حوالے سے مہم کا اثر طاقت اور توانائی کم ہوتی جائے گی اور یہ چیز اپوزیشن کے مقصد کےلےی اچھی نہیں ہاں حکومت کےلیے یہ فائدہ مند ہے۔یہ خیال کیا جارہا ہے کہ پیپلزپارٹی ار پی ٹی آئی نے اپنی مشاورت کے بعد الیکشن کمیشن میں علیحدہ علیحدہ ریفرنس دائر کیےجو کہ اپنی نوعیت اور مواد کے یکساں ہونے کی وجہ سے اکٹھے سنے جا ئیں گے۔ اپنی درخواستوں کو تقویت دینے کے لیے انہوں نے دیگر سات جماعتوں سے مشاورت نہیں کی جو کہ اپوزیشن کے ڈھیلے ڈھالے اتحاد کا حصہ تھیں۔ انہوں نے اپوزیشن کے نمائندوں میں اختلافات بوئے ۔اس طرح اپوز یشن کا اتحادتباہ ہوا جو کہ پہلے طاقتور اور ٹھوس تھا۔ پارلیمانی کمیٹی کے فریم ورک میں روہتے ہوئے مذ اکرا ت کو بحال کرنے کےلیے کسی جانب سے کوششیں ہوتی نظر نہیں آرہیں۔ حکومت الیکشن کمیشن میں اپنا مقدمہ لڑنے کی تیاری کر رہی ہے اور بعد ازاں وہ یہی مقدمہ سپریم کورٹ مٰن بھی لڑے گی ۔ وہ ایسے موڈ میں نظر نہیں آتی کہ وہ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی کو اپنا ذہن تبدیل کرنے پر آمادہ کرنے کی کوئی کوشش کر ے ۔ابتدائی طور پر پی ٹی آئی میں حسب روایت وزیر اعظم کے بچوں کی آف شور کمپنیاں سامنے آنے کے سوال پر حکومت کا تختہ الٹنے کےلیے بے مثل ہیجان تھا لیکن جونہی عمران خان سمیت اس کے اپنے بہت سے اہم رہنما ئو ں کے مشکوک اوورسیز کاروبار سامنے آئے تو اس کا یہ جذبہ ماند پڑتا گیا اور پی ٹی آئی نے اس معاملے پر نتیجہ خیز تحقیقات کے حوالے سے اپنی عدم دلچسپی کا اظہا رکرنا شروع کر دیا۔ یہ ٹھوس امر اپنی جگہ ہے کہ اگرچہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں لیکن وزیر اعظم نے فوراً اپوزیشن کے تین مطالبات یکے بعد دیگر ے قبول کر لیے۔