| |
Home Page
جمعہ یکم محرم الحرام 1439ھ 22 ستمبر 2017ء
ادارتی نوٹ
June 30, 2016 | 12:00 am
عدلیہ میں احتساب

Adliyaa Mein Ehtisaab

لاہور ہائیکورٹ کے نئے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے اپنے منصب کا حلف اٹھانے کے چند ہی گھنٹے بعد کرپشن اور دیگر الزامات پرپنجاب کے 30ججوں کو او ایس ڈی بنا کر ماتحت عدلیہ میں احتساب کی ایسی روشن مثال قائم کردی ہے جس کی ماضی میں شاید کوئی نظیر نہیں ملے گی۔ او ایس ڈی بنائے جانے والوں میں 3ڈسٹرکٹ اور 6ایڈشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججوں کے علاوہ 21سول جج بھی شامل ہیں۔ نیا منصب سنبھالنے کے بعد عدالت عالیہ کے سٹاف سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے متنبہ کیا کہ سب ٹھیک ہو جائیں ورنہ کان سے پکڑ کر باہر نکال دیا جائے گا۔ کوئی سفارش نہیں مانی جائے گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ پنجاب کا نظام انصاف باقی صوبوں سے بہتر ہو، اس حوالے سے انہوں نے ہائیکورٹ میں انٹرنل آڈٹ، تمام سسٹم کو کمپیوٹرائز کرنے اور ضلعی عدالتوں میں ٹی وی کیمرے لگانے سمیت بعض انتظامی اصلاحات کا بھی اعلان کیا۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ قابل رشک شہرت کے حامل جج ہیں۔ انہیں آئینی ، انتظامی، انسانی حقوق اور ماحولیاتی استحکام کے امور پر خصوصی دسترس حاصل ہے۔ چیف جسٹس کی ذمہ داری سنبھالتے ہی انہوں نے انصاف کی سربلندی کے لئے جو قدم اٹھایا ہے اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ انہیں ماتحت عدلیہ سے عوام کی شکایات کا مکمل ادراک ہے جہاں معمولی نوعیت کے مقدمات کے فیصلے بھی سالہا سال کی تاخیر سے ہوتے ہیں۔ اس دوران کرپٹ عدالتی اہلکار مرضی کے فیصلے دلوانے کا جھانسہ دے کر دعویداروں سے بھاری رقوم اینٹھتے ہیں اور اس عمل میں خود بعض منصف بھی شریک ہوتے ہیں۔ کرپشن اور سفارش کی شکایات عام ہیں اور انصاف کے لئے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے والے مدتوں کچہریوں میں خوار ہوتے رہتے ہیں۔توقع ہے کہ نئے چیف جسٹس کے اقدامات سے عدلیہ میں احتساب اور تطہیر کے نئے دور کا اغاز ہو گا۔