| |
Home Page
جمعرات 24 ذیقعدہ 1438ھ 17 اگست 2017ء
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی
June 30, 2016 | 12:00 am
خدارا ! تباہ کن غلطیاں نہ دہرائیں

Khudara Tabha Kun Ghaltiyaan Na Duhrayien

یہ بات حیرانگی سے پڑھی جائے گی کہ عام سوچ کے برعکس گذشتہ 60برسوں میں معیشت کی شرح نمو کے لحاظ سے بدترین سال یہ رہے۔
1۔1959-60ایوب کی حکومت شرح نمو0.9فیصد۔2۔1970-71حییٰ کی حکومت۔شرح نمو1.2فیصد۔3۔ 1996-97اس مالی سال میں 3حکومتیں برسراقتدار رہیں۔ چنانچہ ذمہ داری کا تعین نہیں ہوسکتا۔ شرح نمو1.7فیصد۔4۔ 2000-01پرویز مشرف کی حکومت شرح نمو2.0فیصد۔5۔ 2008-09این آراو سے مستفید ہوکر اقتدار میں آنے والی پیپلزپارٹی کی زرداری۔ گیلانی حکومت شرح نمو0.4فیصد
پرویز مشرف کی حکومت نے معیشت کی کارکردگی کے لحاظ سے اپنے دور کو سنہری زمانہ قرار دیاتھا لیکن ہم اسے ترقی معکوس اور دھوکہ قرار دیتے رہے تھے ۔ اس دور کے چند حقائق یہ ہیں
1۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق 2002سے2007کی مدت میں پاکستانی برآمدات میں7.8ارب ڈالر کا اضافہ دکھلایا گیاتھا لیکن اس میں5.5ارب ڈالر کی برآمدات جعلی تھیں یعنی برآمدات میں اضافہ صرف2.3ارب ڈالر تھا جبکہ اسی مدت میں برآمد کنندگان کو465ارب روپے کی مراعات دی گئی تھیں۔2۔ فوجی حکومت کے برسراقتدار آنے سے پہلے بینک اپنے کروڑوں کھاتے داروں کو تقریباً7فی صد سالانہ منافع دے رہے تھے لیکن2004میں بینکوں نے اوسطاً ایک فیصد سالانہ سے بھی کم شرح سے ان کھاتیداروں کو منافع دیا3۔نج کاری کے نام پر اربوں ڈالر کے قومی اثاثے اونے پونے خصوصاً غیر ملکیوں کے ہاتھ فروخت کئے گئے جس کے تباہ کن اثرات آج بھی نظر آرہے ہیں۔
4۔ معیشت کو کمزور اور لیپا پوتی کی بنیاد پر استوار کیاگیا چنانچہ معیشت کی شرح نمو جو2007میں5فیصد تھی دوبرس بعد 2009میں صرف 0.4فیصد رہ گئی۔ بدقسمتی سے اسی طرح کی ’’ غلطیاں‘‘ آج بھی کی جاری ہیں۔
پیپلز پارٹی کادور معیشت کی کارکردگی کے لحاظ تباہ کن ہی رہا ۔28ستمبر2008کو فرینڈزآف پاکستان کا جو اعلامیہ جاری ہواتھا اسے آصف زرداری نے رحمت قرار دیاتھا ۔ ہم نے ان ہی کالموں میں اسے ’’ جال‘‘ قرار دیتے ہوئے کہاتھا کہ اس اعلامیہ پر عمل درآمد اور اس سودے کے تحت آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوگا اور امریکی افواج کو پاکستان کی سرحدوں کے اندر گھس کر کارروائیاں کرنے کا بہانہ مل جائے گا اور پاکستان کو اور زیادہ کارروائیاں خود اپنے ہی ملک میں کرنا ہونگی ( جنگ30ستمبر2008) ایبٹ آباد آپریشن سے ایک برس قبل ہم نے ان ہی کالموں میں ایک مرتبہ پھر تنبیہ کی تھی کہ امریکی افواج پاکستان کی سرزمین میں داخل ہوسکتی ہیں(جنگ11مئی 2010) اس کے ایک برس بعد امریکی میرین نے پاکستان میں گھس کر بلاروک ٹوک اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا اور اطمینان سے واپس چلے گئے ۔ بدقسمتی سے ہمارے دوسرے خدشات بھی صحیح ثابت ہوئے۔ سوات اوروزیرستان میں فوجی آپریشن اسی اعلامیہ کا تسلسل ہیں۔
موجودہ حکومت کشکول توڑنے کا نعرہ لگاکر اقتدار میں آئی تھی لیکن اس نے پرانے قرضے کیاادائیگی کے نام پر آئی ایم ایف سے نیا قرضہ حاصل کیا حالانکہ مسلم لیگ(ن) کے 2013کے انتخابی منشور میں معیشت کی بحالی کے لئے جو نسخہ تجویز کیاگیاتھا اس میں آئی ایم ایف سے قرضہ لیناشامل ہی نہیں تھا۔ ہم نے بحرحال تنبیہ کی تھی کہ اگر آئی ایم ایف کے پرانے قرضے کی ادائیگی کے لئے امریکی ایجنڈے کے تحت نیا قرضہ لیا گیا تویہ 26ستمبر2008کے سودے اور سازش کے اگلے مرحلے کے مقاصد کے حصول میں معاونت کے مترادف ہوگا۔ (جنگ 6جون2013) مسلم لیگ(ن) کی حکومت معیشت کے شعبے میں کامیابیوں کے دعوے تواتر سے کررہی ہے حالانکہ تین برسوں میں حکومت کے خود اپنے مقررکردہ بیشتر اہم معاشی اہداف حاصل نہیںہوسکے۔1990کی دہائی معیشت کی کارکردگی کے لحاظ سے ناکام دہائی قرار دی گئی تھی مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ ان تین برسوں میں معیشت کی شرح نمو اور جی ڈی پی کے تناسب سے مجموعی سرمایہ کاری، ٹیکسوں کی وصولی، داخلی بچتیں، برآمدات اور تجارتی خسارے کی اوسط سالانہ شرحیں1990کی دہائی کی اوسط سالانہ شرحوں سے کمتر رہیں۔ موجودہ حکومت کے اعداد وشمار میں اکاوئنٹنگ جادوگری اور لیپا پوتی بھی شامل ہے۔ 1998-99میں وزیر خزانہ کی حیثیت سے اسحق ڈار صاحب نے آئی ایم ایف کو غلط اعدادوشمار دیئے تھے چنانچہ اگلی حکومت کو آئی ایم ایف کو جرمانہ ادا کرنا پڑا تھا ۔
دہشت گردی کی جنگ سے پاکستان کی معیشت کودس ہزار ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ تقریباً70ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں مگر آج بھی پاکستان پر الزام تراشیاں کی جارہی ہیں۔ استعماری طاقتوں کی باتیں توچھوڑئیے لیکن ہمیں یہ ضرور سوچنا ہوگا کہ آخر اسامہ بن لادن اور ملاعمر لمبے عرصے سے پاکستان میں کیوں مقیم تھے ۔ موجودہ پالیسیوں کے تناظرمیں خدشہ ہے کہ وطن عزیز میں دہشت گردی کی وارداتیں اگلی دہائی میں بھی ہوتے رہنے سے پاکستان غیر مستحکم رہے گا۔ ہماری حکمت عملی کا محور آج بھی طاقت کا استعمال ہے اور دل ودماغ جیتنے کی باتیں قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔ سوات اور جنوبی وزیرستان میں جلد بازی سے آپریشن کرنے کے نتیجے میں غیر ملکی دہشت گرد افغان مہاجرین کے بھیس میں ملک بھر میں پھیل چکے ہیں گذشتہ تقریباً15برسوں سے بھی پاک افغان سرحد پر آزادانہ نقل وحرکت ہوتے رہنے سے اسلحہ، ڈالر،اور دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوتے رہے ہیں۔ ملک میں غربت، بے روزگاری، احساس محرومی، اور انصاف نہ ملنے کیوجہ سے یہ دہشت گرد اور غیر ملکی ایجنٹ مقامی افراد کی خدمات حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اب ہماری لیڈر شپ یہ تسلیم کررہی ہے کہ افغانستان کی جنگ کے ضمن میں ضیا الحق اور نائن الیون کے بعد گذشتہ 12برسوں میں پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے اس تکلیف دہ صورت حال کا عملاً ذکر ہی نہیں کیا ورنہ پاکستان پر اتنی الزام تراشیاں نہ ہورہی ہوتیں۔گذشتہ دونوں حکومتوں کے دور میں سنگین غلطیاں کی گئیں جن سے پاکستان کی سلامتی کودرپیش خطرات بڑھے اس حقیقت کوبھی اب تسلیم کرناہوگا کہ آپریشن ضرب عضب شروع کرنے سے پہلے دو اقدامات اٹھانالازمی تھے۔ اول، افغان مہاجرین کی واپسی اور افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان آمد روکنے اور بارڈر مینجمنٹ کے ضمن میں امریکہ کے تعاون سے افغان حکومت سے معاملات طے کرنا اوردوم ، معیشت کی بہتری اور ملک میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کورقوم کی فراہمی روکنے کے لئے معیشت کو دستاویزی بنانا، کالے دھن کو سفید ہونے سے روکنا، اسمگلنگ وہنڈی کے کاروبار پر قدغن لگانا، انکم ٹیکس آرڈنینس کی شق(4) کومنسوخ کرنا وفاق اور صوبوں کی سطح پر ہرقسم کی آمدنی پر ٹیکس موثر طور پر عائد اور وصول کرنا اور کرپشن پر قابو پانا۔ اگر ایسا ہوتا تو چند ماہ میں آپریشن ضرب عضب کے مقاصد حاصل ہوسکتے تھے ۔ بدقسمتی سے گذشتہ دوبرسوں میں بھی ان معاملات میں سے بیشتر میں منفی پیش رفت ہی ہوئی ہے۔
یہ ملک وقوم کی بدقسمتی ہے کہ فوجی حکومتیں توناکام رہی ہی ہیں مگر ماضی میں اور اس وقت جو منتخب حکومتیں وفاق اور صوبوں میں اقتدار میں رہی یا آج ہیں وہ بھی استعماری طاقتوں کی خوشنودی اور طاقتور طبقوں کی حمایت برقرار رکھنے کے لئے مندرجہ بالا اقدامات اٹھانے کے لئے آمادہ نہیں ہیں کیونکہ ان سے طاقتور طبقوں کے ناجائز مفادات پر بھی ضرب پرتی ہے چنانچہ قوم کو اب اٹھنا ہی ہوگا اب وقت آگیا ہے کہ مندرجہ بالا دونوں اقدامات کو نیشنل ایکشن پلان کاحصہ بنایا جائے اور ہرماہ اعلیٰ سول وملٹری قیادت پر مشتمل کمیٹی اس پلان پر عمل درآمد کی مانیٹرنگ کرے۔